یادوں کا ایک جاوداں سفر

ہم چار دوست (سلمان، غفران، ہارون اور عزیر) ایک شام جب ہوا میں ہلکی سی خنکی گھل رہی تھی، پشاور کی مصروف سڑکوں سے ناران کے یادگار سفر پر روانہ ہوئے۔ شہر کی روشنیوں کے بالکل برعکس، ہمارے دلوں میں ہر آنے والے لمحے کی سنسنی اور خوشی تھی۔ ابتدائی سفر کی تھکن، پشاور سے نکلتے ہوئے ہلکی ہلکی موسیقی اور ہم سب کی ہنسی نے جلدی ہی دور کر دی۔ ہمارا پہلا پڑاؤ مانسہرہ تھا، جہاں ہم نے ایک دوست کے دفتر میں پہلی رات گزاری۔ رات بھر قہقہے اور مانسہرہ کی فاسٹ فوڈ کا ذائقہ اب بھی زبان پر محسوس ہوتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ ماضی کے قصے، مستقبل کی پلاننگ اور اسٹاپ پر مزیدار کھانا ، سب کچھ آغاز کو خاص بنا گیا۔

اگلی ناشتہ کرنے کے بعد صبح خوب سویرے ہم ناران کی طرف روانہ ہوئے۔ گاڑی کے شیشے سے حسین وادیاں، سرسبز پربت اور دریائے کنہار کی ٹھنڈی ہوائیں ہمیں اپنی طرف بلا رہی تھی۔ راستے میں وقفے وقفے سے تصویریں بھی بنائیں، کچھ لمحوں کو مستقل بنانے کی کوشش کی۔ ناران بازار کی چہل پہل سے گزرتے ہوئے ہم بٹہ کنڈی کی طرف روانہ ہوئے تو موسم کافی سرد ہو چکا تھا۔ دوسری رات بٹہ کنڈی کی خاموش فضا میں گزری، جہاں کی رات اور ستاروں بھرا آسمان خواب جیسا لگا۔ غفران کے ہاتھوں بننے والی مزیدار روش نے ہمارے جسم اور دل دونوں کو گرما دیا۔ اس رات دوستانہ جملے بازی، قہقہے، چائے کی چسکیاں اور سرد رات میں ایک ساتھ رہنا . ایک ناقابلِ بیان احساس تھا۔

تیسرے دن کی صبح

صبح جب آنکھ کھلی تو بٹہ کنڈی کی ہوائیں اور دُھند نے ایک الگ ہی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ ٹھنڈی فضا میں جب غفران اور سلمان نے مل کر ڈھابہ نما ہوٹل سے کڑک چائے لائی اور سب دوست لان میں بیٹھ کر کپ ہاتھ میں لیے اپنے سامنے پھیلے پہاڑوں، سبزے اور دور بہتے دریائے کنہار کو تک رہے تھے، تو وہ لمحہ کائنات کا سب سے خوبصورت منظر محسوس ہوا۔ چائے کی خوشبو، تازگی اور خاموشیوں میں گونجتی ہلکی خوش باتیں سب کو بابوسر ٹاپ جانے کی جلدی تھی۔ ہم سب کے دلوں میں برف سے ڈھکے پہاڑوں کا منظر اور قدرت کی خوبصورتی دیکھنے کی چاہت موجزن تھی۔ اگرچہ وہاں پہنچ کر ہمیں برف نہ مل سکی، اور وہ مناظر بھی نہ تھے جن کا ہم نے تصور کیا تھا، لیکن دوستوں کی موجودگی اور آپس کے مذاق و تصویروں نے دل کو پھر بھی خوش کر دیا۔ ہم نے اس لمحے کو مایوسی کے بجائے ہنسی مذاق اور یادگار تصاویر سے خوبصورت بنا لیا۔

واپسی پر جب ہم ناران بازار پہنچے تو رونقیں، رنگینیاں اور روشنیوں نے شام کو بھی یادگار لمحہ بنایا۔ ہم نے ناران کے ایک شلٹر نماء چھوٹے کمرے میں تیسری رات گزاری، اور غفران کی کھانا پکانے کی مہارت نے سب کے دل جیت لیے۔ مزے دار گوشت اور بازار میں گپ شپ، دیر تک چلنے والی محفل اور آپس کی باتیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔

اگلے دن صبح سویرے ہمارا قافلہ جھیل سیف الملوک کی طرف چل پڑا۔ جیپ میں کچے راستے کی سواری،ہر مو موڑپہ جھٹکے ٹھنڈی ہوائیں، اور پہاڑوں کے درمیان جھانکتے دلکش مناظر، سب کچھ ایک عجیب مہم جُوئی کا احساس دلاتے رہے۔ جھیل سیف الملوک پر مختلف زاویوں سے تصویریں بنائیں، مناظر کا خوب لطف اٹھایا اور قدرت کے قریب ہونے کا الگ ہی مزہ محسوس ہوا۔ اس خوبصورت جھیل کے کنارے بہت دیر بیٹھے رہے اور دل ہی دل میں ان لمحات کا شکر ادا کیا۔

واپسی پر ناران بازار میں مختصر قیام کے بعد ہم بالاکوٹ کی خوبصورت وادیوں سے ہوتے ہوئے واپس مانسہرہ آئے۔ چھوٹا سا وقفہ لیا، کوئی چائے پی، اور پھر پشاور کی طرف روانہ ہوئے۔ ہر گھڑی، ہر قہقہہ، دوستوں کی باتیں — سب اس سفر کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا گئے۔

لیکن دراصل، یہ سفر ہمارا اختتام نہیں، بلکہ ہماری دوستی کی کہانی کا ایک نیا اور خوبصورت آغاز ہے، ایک ایسا باب جو وقت کے صفحات پر ہمیشہ روشن رہے گا اور ہم سب کے دلوں میں ایک خاص مقام بنائے رکھے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے