سیاست 9 اپریل 2022 پر منجمد ہو چکی ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جو صرف تاریخ کا ورق نہیں بنتے، بلکہ قوموں کے شعور اور ریاستی ڈھانچے پر ایسے گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں مٹائے نہیں جا سکتے۔ 9 اپریل 2022 ایسا ہی ایک دن تھا جس دن مبینہ طور پہ عمران خان کی جمہوری حکومت کو پارلیمانی سازش، بین الاقوامی دباؤ اور اندرونی مداخلت کے امتزاج سے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹایا گیا۔ یہ صرف ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، خفیہ قوتوں اور کرپٹ سیاسی اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کی وہ عملی تصویر تھی جس کا شکار پاکستان کی جمہوریت ایک بار پھر ہوئی۔

اس دن کے بعد جیسے پاکستان کی سیاست پر جمود چھا گیا۔ اگرچہ چہرے بدلے، وزراء بدل گئے، لیکن سیاسی بیانیہ، عوامی توجہ اور قومی بحث کا مرکز وہی ایک شخص بن گیا جس کا نام ہے عمران خان!

وہ ایوان سے نکالے گئے، مگر دلوں سے نہیں، وہ وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے، مگر ذہنوں پر ان کی گرفت اور زیادہ مضبوط ہو گئی۔ عمران خان نے نہ صرف اپنی سیاست کو زندہ رکھا، بلکہ اسے مزید فعال، تیز اور منظم انداز میں عوامی سطح پر منتقل کیا۔ ہر جلسہ، ہر خطاب، ہر ویڈیو پیغام ایک نئی امید، ایک نیا جذبہ لے کر آیا۔

پھر ایک وقت آیا کہ حکومت نے ان کی آواز کو دبانے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے۔ ان پر سینکڑوں مقدمات بنائے گئے، انہیں جیل میں ڈال دیا گیا، ان کی جماعت کو بدترین کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، ان کے امیدواروں کو انتخابات سے باہر کیا گیا، ان کے میڈیا کوریج پر غیر اعلانیہ پابندی لگا دی گئی، اور یہاں تک کہ ان کا نام لینا اور تصویر نشر کرنا بھی میڈیا میں ممنوع قرار پایا۔

مگر اس سب کے باوجود ایک سوال آج بھی ہر محفل، ہر فورم اور ہر تجزیے میں گونج رہا ہے کہ عمران خان جیل سے کب باہر آئینگے؟

یہ سوال اس وقت اور معنی خیز ہو جاتا ہے جب ملک میں معاشی بدحالی، مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن اور بدانتظامی اپنے عروج پر ہو۔ عوام کی نظریں آج بھی عمران خان کی طرف اٹھتی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ 2022 میں اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے بعد جو حکومتیں آئیں، انہوں نے صرف اقتدار کو بچایا، عوام کو نہیں۔

2024 کے انتخابات کو جس طرح متنازع بنایا گیا، الیکشن کمیشن کی جانبداری، عدالتوں کی خاموشی اور اداروں کی بےحسی نے عوام کو واضح پیغام دیا کہ ان کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ مگر پھر بھی تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اور عمران خان، جو اس وقت جیل میں قید تھے، سب سے مقبول رہنما ثابت ہوئے۔

2025 میں بھی ملک کا سیاسی محور وہی ہے۔ عمران خان جیل میں ہیں، مگر سیاست انہی کے گرد گھوم رہی ہے۔ ان کی جماعت ٹکڑوں میں توڑنے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے، ان کے امیدوار چہرے چھپا کر بھی کامیاب ہو رہے ہیں، ان کے خلاف چلائی گئی پراپیگنڈہ مہم عوامی شعور سے ٹکرا کر بکھر چکی ہے۔

عمران خان کو ہٹایا ضرور گیا، مگر ان کا سیاسی قد، ان کی مقبولیت، ان کا بیانیہ اور ان کی جماعت آج بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی حقیقت ہے۔

پاکستان کی سیاست آج بھی 9 اپریل 2022 پر اٹکی ہوئی ہے۔ کیونکہ جب تک اس دن کی سازش کا احتساب نہیں ہوتا، جب تک عوامی مینڈیٹ کو روندنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، جب تک عوام کی رائے کو عزت نہیں دی جاتی تب تک نہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو سکتی ہے، نہ استحکام آ سکتا ہے، اور نہ ہی سیاست آگے بڑھ سکتی ہے۔

سیاست تب ہی آگے بڑھے گی جب عمران خان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ہو گا، اور عوام کی منتخب قیادت کو حقِ حکمرانی واپس ملے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے