حجاب اور معاشرتی تعصب

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جو بظاہر ترقی، تعلیم، برابری، اور عورتوں کی خودمختاری کے نعرے لگاتا ہے۔ اخبارات کے صفحات، ٹیلیویژن اسکرینیں، کانفرنس ہالز اور سوشل میڈیا سب ایک ہی بات دہراتے ہیں. آج کی عورت بااختیار ہے، آزاد ہے، اور اپنی منزل خود چننے کے قابل ہے۔ مگر یہ صرف ایک رخ ہے تصویر کا، جس کے دوسرے حصے پر سچائی کی کچھ اور داستانیں رقم ہیں،خاموش، دبی دبی، لیکن زندہ اور کڑوی۔

روزمرہ زندگی کے کئی شعبوں میں، چاہے وہ نوکری کے انٹرویو ہوں یا دفاتر کے فیصلے، کلاس رومز ہوں یا سوشل گیادرنگز، ایک عورت کو اس کی قابلیت سے زیادہ اس کی ظاہری شکل و صورت پر پرکھا جاتا ہے۔ یہ رویہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اکثر محسوس بھی نہیں ہوتا۔ مگر اس کا اثر گہرا اور مسلسل ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک لڑکی، جو ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہے، جس نے تحقیق کی ہو، کام کا تجربہ ہو، اور بات چیت میں اعتماد ہو،اسے صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ "پریزنٹیبل” نہیں لگتی۔ ایک باصلاحیت لڑکی، جو نظریاتی طور پر مضبوط ہو، محنتی ہو، اسے موقع نہیں دیا جاتا کیونکہ وہ اس “امیج” میں فٹ نہیں آتی جو بعض ادارے، خاص طور پر میڈیا، NGOs یا کلائنٹ ڈیلنگ ادارے پسند کرتے ہیں۔

اور جب ایک عورت حجاب یا نقاب کا انتخاب کرتی ہے تو اُس پر یہ تعصب اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔ اُسے "چھپی ہوئی”، "بند سوچ کی”، یا "ناموزوں نمائندہ” کہا جاتا ہے۔ کوئی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہوتا کہ اُس کی شخصیت، اُس کا وژن، اُس کی فکری گہرائی اُس لباس یا اُس چادر سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ اُسے پیشہ ورانہ مواقع میں اس لیے پیچھے رکھا جاتا ہے کہ اس کا حجاب ادارے کے "امیج” سے میل نہیں کھاتا۔

اس ساری صورت حال میں اصل سوال یہ ہے: کیا قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا اندازہ چہرے، فیشن یا اسٹائل سے لگایا جانا چاہیے؟ کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں عورت کو اس کی تعلیم، تجربے اور صلاحیت کے بجائے، اس کی ظاہری دلکشی سے تولا جاتا ہے؟ کیا خوبصورتی، اب قابلیت سے بڑی اہلیت بن گئی ہے؟

یہ وہ مقام ہے جہاں معاشرتی دوغلا پن آشکار ہوتا ہے۔ ایک طرف ہم عورت کی آزادی، انتخاب کے حق، اور مذہبی آزادی کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف جب کوئی عورت اپنے ایمان، اپنی حیا، اپنی پسند اور شناخت کے تحت حجاب یا نقاب کا انتخاب کرتی ہے تو اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ "جدید دنیا” کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ اسے خاموشی سے حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کی بھی صریحاً نفی ہے، جو ہر شہری کو برابری کا حق دیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں حجاب ایک زبردستی کا بوجھ نہیں، بلکہ وقار، عزت اور شناخت کی علامت ہے۔ قرآن مجید سورۃ الاحزاب (33:59) میں فرماتا ہے کہ مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر ڈال لیں تاکہ وہ پہچانی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔ یہ آیت صرف لباس کا حکم نہیں دیتی بلکہ یہ عورت کو عزت کے ساتھ پہچانے جانے کا حق دیتی ہے۔ سورۃ النور (24:31) میں حیا اور حدودِ زینت کا تصور بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الحياء من الإيمان” ، حیا ایمان کا حصہ ہے۔ تو جس معاشرے میں ایمان کو اصل مانا جاتا ہے، وہاں کیسے ایک حیا دار عورت کو اس کے لباس کے سبب کمتر یا ناقابلِ نمائندگی قرار دیا جا سکتا ہے؟

بدقسمتی سے، آج کے میڈیا اور کارپوریٹ سیکٹر میں "دکھنے” کی اہمیت نے "قابل ہونے” کی قدر کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہ حقیقت کئی ملکی اور غیرملکی تحقیقی مطالعات میں بھی سامنے آ چکی ہے کہ حجاب پہننے والی خواتین کو نوکریوں میں کم مواقع ملتے ہیں، ان کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ غیر پُراعتماد، غیر نمائندہ یا پسماندہ سوچ رکھتی ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہی خواتین اکثر سب سے زیادہ خود آگاہ، مضبوط نظریاتی سوچ رکھنے والی، اور سسٹم میں شرافت و مہذب روایت کی نمائندہ ہوتی ہیں۔

اور جب بات نمائندگی کی آتی ہے، تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 34 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ عورتوں کی ہر شعبے میں مکمل شرکت کو یقینی بنائے۔ یہ شمولیت صرف ان عورتوں کے لیے نہیں جو مغربی فیشن کو اپنائیں، بلکہ اُن سب کے لیے ہے جنہیں قابلیت، تعلیم اور وژن کے میدان میں کچھ کرنے کی لگن ہو، چاہے وہ کسی بھی لباس یا تہذیبی پس منظر سے ہوں۔

افسوس کی بات ہے کہ کئی بار عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے بھی غیر محسوس طریقے سے اُنہی عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو اُن کے "دکھنے” کے معیار پر پوری اُترتی ہیں۔ ایسے میں جو عورت حجاب، نقاب یا سادہ لباس میں اپنی شناخت بناتی ہے، اُسے بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ صرف “دیکھی” جانے کے لیے نہیں، بلکہ سنی، سمجھی، اور نمائندہ بننے کے لائق بھی ہے۔

یہ دوہرا معیار صرف باحجاب عورتوں کو نہیں، پورے معاشرے کی فکری پستی کو بے نقاب کرتا ہے۔

میں ہر اُس لڑکی سے کہنا چاہتی ہوں جو حجاب یا نقاب کے ساتھ اپنی تعلیم اور خوابوں کا سفر طے کر رہی ہے: تمہاری پہچان تمہارا لباس نہیں، تمہارا علم، تمہاری فکر اور تمہاری محنت ہے۔ اگر کوئی تمہیں صرف ایک چادر یا نقاب کی وجہ سے کم سمجھے تو یہ تمہاری نہیں، اُس کی بینائی کی کمزوری ہے۔ تم پیچھے نہیں ہو—یہ معاشرہ ہے جو ابھی تک آگے دیکھنے کے قابل نہیں ہوا۔

میرا نقاب میری سوچ پر پردہ نہیں ڈالتا، میرا حجاب میری آواز کو نہیں روکتا، اور میری حیا میری شناخت کو محدود نہیں کرتی بلکہ اُسے مزید طاقت دیتی ہے۔

میں کسی اشتہار کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ علم، کردار اور خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہوں۔ اگر مجھے ایک بار یا دس بار مسترد بھی کر دیا جائے، تو میرا حوصلہ کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے: میری قیمت لوگوں کی نظروں سے نہیں، میرے رب کی رضا، میرے علم اور میرے کام سے طے ہوتی ہے۔
اور یہی شعور مجھے ہر رد کے بعد بھی مضبوط بناتا ہے۔.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے