مجھے کوئی کل دنیا کے جاہ و منزلت دے میں از راہِ
انسانیت کسی کے کافر باپ پہ تھوک نہ پھینکو ۔
یہ کس طرح کے خبیث الناس و ارذل الناس مخلوق ہے کہ قرآن مقدس پہ مادۂ منویہ پھینکے ۔
استغفرُللہ العظیم
اب اگر کسی کو حیرانی نہیں ہوتی کہ یہ کیسی انسانیت برداری اور انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعوے ہیں
کہ ایک مذہب کے کتنے ارب لوگ جو انسان ہیں ، جذبات و احساسات رکھتے ہیں ان کے دلوں کو ان حرکات نے کس طرح چیرا ہوگا ؟
الحاد و لبرلزم اگر مذہب کو نہ ماننے کا نام ہے تو مذہب سے سروکار کیوں رکھنا ؟
یہ مذہب بیزاری نہیں بلکہ شیطان کی پرستش ہے ۔
اندرونی وبیرونی ملک لبرلز و ملحد بیرونی ایجنڈا لے کر ایڑی کا زور لگاتے ہوئے ان انسانیت کے دشمنوں کو بچانے میں لگے ہیں اور نام بھی معصومیت اور انسانیت کا دے کر ۔
مجھے کوئی بتائے یہ کونسی انسانیت ہے جو کسی مذہب سے متعلقہ لوگوں کو اسطرح کی اذیت دے ۔
مذہبی جنونیت تو سمجھ میں آنی والی بات ہے لیکن شیطان پرستی کو انسانیت کا نام دینا کسی طور قابل قبول نہیں ۔
کسی ملحد و لبرل کا تحریر پڑھے مذہب کو بلواسطہ او بلاواسطہ گالیاں پڑھ کر آپ کو بخوبی اندازہ ہوجائیگا کہ کون کتنا انسان ہے ۔
عدالت اور ڈی این اے ٹیسٹ سے ملنے والے رپورٹس کے مطابق قرآن پاک اور جائے نماز پر منی گرانا ، اندام نہانی پر مقدس نام لکھنا کونسی انسانیت ہے ؟
اب بات آتی ہے ان لوگوں کو پنھسایا کس نے ؟
اگر کسی مولوی نے ان لوگوں کو یہ غلیظ کام کرنے کا کہا ہو تو اسے گھسیٹیں عدالت میں ۔
یہ معصوم معصوم کا رٹ لگانے والے نہیں جانتے کہ سارے مجرم عاقل و بالغ ہیں ؟
کیا عاقل و بالغ کو یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ ایک ایسا ملک جہاں اکثریت ان لوگوں کا ہے جن کے مقدسات کو میں پامال کر رہاہوں ؟
کیا ان کو یہ تک معلوم نہیں کہ ان مقدسات کو پامال کرنے پر کونسی سزائیں ہوسکتی ہیں ؟
دس سال کے بچے کو معمول کے حدود و تعزیرات کا علم ہوتا ہے ۔
یہ کام کس لیئے کیئےان لوگوں نے پیسوں کیلئے کسی لالچ کیلئے یا لالچ میں مجبور ہوکر یقیناً کوئی اور صورت ہو ہی نہیں سکتی ۔
جس نے کرنے کو کہا ، جس کا جی چاہتا تھا یہ جس نے کرنے پر مجبور کیا یقیناً وہی لوگ بچانے میں سر پاؤں ایک کیئے ہوئے ہیں ۔کیوں ؟ کیونکہ بات آگر آئیگی آخر میں تو ان تک آپہنچے گی ۔