نکاح کی اہمیت، فضیلت اور فریقین کی مرضی اور اختیار کی شرعی حیثیت

نکاح اسلام میں ایک مقدس رشتہ ہے جو دو افراد کے درمیان نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی اور سماجی اتحاد قائم کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے "نکاح” باب نَکحَ یَنْکِحُ سے مصدر ہے جس کے معنی "جماع کرنا اور شادی کرنا” ہیں ۔ شریعت کی اصطلاح میں یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو ایجاب و قبول کے مخصوص الفاظ کے ذریعے مرد و عورت کے درمیان دائمی تعلق قائم کرتا ہے اور دو گواہوں کی موجودگی میں منعقد ہوتا ہے۔

نکاح محض ایک سماجی رسم نہیں بلکہ انبیاء کرام کی سنت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً” (الرعد:38) – "بے شک ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں”۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "چار چیزیں انبیاء کی سنت میں سے ہیں: حیاء، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح” ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیتے ہوئے فرمایا: "النکاح من سنتی” (نکاح میری سنت ہے) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا: "جو میری فطرت سے محبت رکھتا ہے، وہ میری سنت پر عمل کرے اور میری سنت میں سے نکاح بھی ہے” ۔

نکاح کو نصف دین قرار دیا گیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے: "إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّينِ فَلْيَتَّقِ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي”- "جب بندہ نکاح کرتا ہے تو وہ آدھا دین مکمل کر لیتا ہے، پھر اسے چاہیے کہ باقی آدھے دین میں تقوی اختیار کرے”۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: "هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا” (الاعراف:189) – "وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس میں سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس کے پاس سکون پائے”۔ یہ آیت نکاح کے ذریعے حاصل ہونے والے قلبی سکون کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچا رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے”۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: "جو نکاح کی استطاعت نہ رکھے، اسے چاہیے کہ روزے رکھے کیونکہ روزہ خواہش کو کچل دیتا ہے”۔

نکاح سے نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ مستفید ہوتا ہے۔ یہ خاندانی نظام کی بنیاد ہے جس سے باپ کی شفقت، ماں کی ممتا، بیٹے کی وفا اور بیٹی کی عزت جیسے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ نکاح کے بغیر انسانی معاشرہ حیوانی معاشرے سے مختلف نہیں رہتا۔

شریعت مطہرہ نے نکاح کے معاملے میں لڑکی کی رضامندی کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ” – "غیر شادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا بغیر اجازت نکاح نہ کیا جائے” ۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک کنواری لڑکی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میرے باپ نے میری ناپسندیدگی کے باوجود میرا نکاح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا کہ وہ اس نکاح کو قبول یا رد کر سکتی ہے۔ اسی طرح خنساء بنت خذام کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح رد کر دیا جب انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے ان کی مرضی کے بغیر نکاح کر دیا تھا۔

نکاح میں ولی کی حیثیت ایک سرپرست کی ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق ولی وہی ہوتا ہے جو عصبہ بنفسہ ہو، یعنی وہ قریبی رشتہ دار جس سے رشتے میں عورت کا واسطہ درمیان میں نہ آتا ہو۔ ولایت کی ترتیب یہ ہے: بیٹا، پوتا، باپ، دادا، سگا بھائی، باپ شریک بھائی، بھتیجا، چچا وغیرہ۔

ولی اور وکیل میں فرق یہ ہے کہ ولی شرعی طور پر مقرر ہوتا ہے جبکہ وکیل وہ شخص ہوتا ہے جسے لڑکے یا لڑکی نے اپنا نمائندہ بنایا ہو۔ عام طور پر لڑکی کا باپ ہی اس کا ولی ہوتا ہے اور وہی نکاح کا وکیل بھی بن سکتا ہے۔

اگر لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہے تو ولی کو عدالت سے رجوع کرکے اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے، بشرطیکہ لڑکا کفو (برابر) نہ ہو۔ کفو سے مراد یہ ہے کہ لڑکا دین، دیانت، مال و نسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑکی کے ہم پلہ ہو۔ اگر لڑکا کفو ہو تو ولی کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔

کسی بھی عاقل و بالغ لڑکے یا لڑکی پر نکاح کے سلسلے میں جبر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی لڑکے یا لڑکی پر تشدد یا ایسا جبر کیا جائے جس میں نقصان پہنچنے کا یقین ہو تو ایسا نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔ البتہ اگر لڑکی نے ناپسندیدگی کے باوجود بغیر کسی جبر کے نکاح قبول کر لیا تو وہ منعقد ہو جاتا ہے، چاہے وہ دل سے راضی نہ ہو۔

آج کل کے معاشرے میں اکثر و بیشتر والدین اور اولاد کے درمیان رشتے کے انتخاب پر اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ اسلام نے دونوں کی ضروریات و حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے راہ عمل متعین کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کے جذبات و میلان کا ضروری لحاظ کریں، کیونکہ ساری عمر انہیں ایک ساتھ گزارنا ہے۔ اسی طرح اولاد کو چاہیے کہ وہ والدین سے مشورہ و اجازت سے بے پرواہ ہو کر اتنا بڑا فیصلہ نہ کریں۔

نکاح اسلام میں محض انسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جس کی اہمیت و فضیلت کا ادراک کرنا ایک خوشگوار اور کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اسلام نے نکاح کو عبادت کا درجہ دیا ہے اور یہ دین و دنیا کی بے شمار نعمتوں کے حصول کا ذریعہ ہے۔

نکاح کے معاملے میں لڑکے اور لڑکی کی رضامندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ والدین اور اولاد کے باہمی حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ شریعت نے نکاح کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہی ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے