انا کے فیصلے، رشتوں کے جنازے

فیملی کورٹ میں روزانہ ہزاروں کہانیاں دفن ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ کہانیاں ہوتی ہیں جو کبھی محبت سے شروع ہوئیں، خوابوں سے جڑی تھیں، اور عمر بھر کے ساتھ کا وعدہ لے کر پروان چڑھی تھیں۔ مگر افسوس کہ وہی محبت وقت کے ساتھ انا کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ رشتے، جو ایک مسکراہٹ سے مضبوط ہو سکتے تھے، چند کڑوے لفظوں کی وجہ سے کمزور ہو جاتے ہیں۔ غلط فہمیاں، غصہ، خاندان کی رائے، اور خود کو ہر حال میں درست ثابت کرنے کی ضد …. یہ سب مل کر ایک ایسے بندھن کو توڑ دیتے ہیں جسے جوڑنے میں برسوں لگے تھے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ تعلق میں اصل مسئلہ کوئی بہت بڑا جھگڑا نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جنہیں وقت پر حل نہ کرنے سے وہ پہاڑ بن جاتی ہیں۔ دو انسان جو ایک چھت کے نیچے رہتے ہیں، ایک دوسرے سے قریب ہو کر بھی بہت دور ہو جاتے ہیں۔ جب دلوں کے درمیان خاموشی حائل ہو جائے، تو بات صرف زبان پر رہ جاتی ہے، اور زبان اکثر انا کی ترجمان بن جاتی ہے۔ محبت پیچھے رہ جاتی ہے، اور ہر شخص صرف یہ سوچنے لگتا ہے کہ مجھے ہارنا نہیں، مجھے جھکنا نہیں۔

ایسے میں جب فیصلہ کن وقت آتا ہے، تو انسان صرف اپنی "انا” سے مشورہ کرتا ہے۔ وہ دل کی آواز کو نظر انداز کر دیتا ہے، حالانکہ دل وہ مقام ہے جہاں معافی، نرمی، اور قربانی کے جذبات چھپے ہوتے ہیں۔ دل وہ راستہ دکھاتا ہے جس پر تعلقات نبھائے جاتے ہیں، جبکہ انا وہ دروازہ بند کر دیتی ہے جس سے گزر کر رشتے بچ سکتے ہیں۔ اکثر طلاق جیسے فیصلے وقتی غصے اور جلد بازی میں کیے جاتے ہیں، جن کا پچھتاوا زندگی بھر رہتا ہے۔

فیصلہ کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر اگر انسان اپنے دل سے پوچھ لے کہ "کیا واقعی یہ رشتہ ختم ہونا چاہیے؟”، تو شاید کئی رشتے بچ سکتے ہیں۔ ہر رشتہ جو عدالت تک پہنچتا ہے، وہ ختم ہونے کے قابل نہیں ہوتا۔ بہت سے رشتے صرف ایک معافی، ایک بات چیت، یا ایک قدم پیچھے ہٹ جانے سے بچ سکتے ہیں۔ مگر افسوس، ہم اپنے دل کی بات سننے کے بجائے انا کی آواز میں ڈوبے رہتے ہیں۔

زندگی میں کبھی کبھی جیتنے کے لیے ہارنا پڑتا ہے۔ جو رشتے نبھ جاتے ہیں، وہ کبھی طاقت سے نہیں، بلکہ نرمی، سمجھوتے، اور محبت سے نبھتے ہیں۔ اگر ہم نے فیصلہ کرتے وقت صرف ایک بار اپنی "انا” کو خاموش کرا کے اپنے "دل” سے مشورہ کر لیا، تو شاید وہ کہانی جو عدالت میں دفن ہونے والی تھی، ایک نئی زندگی پا سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے