پہلی قسط
مولانا خالد الحسینی صاحب ہمارے محترم دوست اور ایک عالم، ادیب ہیں، ہماری طرح اُن کو بھی سیر و سیاحت سے دلچسپی ہے۔ سفر کے وقت آپ ہمیں بھی یاد کرتے رہتے ہیں۔ 18 جولائی بروز جمعہ رابطہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ چکوال میں ایک کانفرنس ہورہی ہے، جس میں چلنا ہے، آپ تیار رہیں۔ پھر وہ پروگرام ہم نے موسم کی خرابی کی وجہ سے ملتوی کردیا۔ اُس کے بعد آپ نے رابطہ کیا کہ آپ ہفتہ کی شام گھوٹکی پہنچے تو اتوار کو "جنوبی پنجاب کے مری” چلتے ہیں۔
یہ سفر ہمارے لیے پہلا تجربہ تھا، جس نے دل میں جستجو اور اشتیاق اور بڑھا دیا۔
میں ہفتہ کی شام گھر سے گھوٹکی کے لیے نکلا تو موسم خوشگوار تھا، ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ہلکی ہلکی بارش جاری تھی۔ مغرب کے بعد مولانا صاحب کی رہائش گاہ پہنچا تو آپ نے خوش آمدید کہا اور مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوتا رہا۔ پھر کھانا کھایا، عشاء کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ رات بھر بارش جاری رہی۔ صبح فجر پڑھ کر چائے نوش کی اور ہم موسم کا لطف لینے مولانا صاحب کے آبائی گاؤں گئے، جہاں باغات اور زمینوں کی سیر کی۔ ہر طرف ہریالی اور موسم سدا بہار تھا۔
اس کے بعد آپ کے والدِ گرامی، فاضلِ دیوبند، سندھ کے درویش عالم مولانا عبدالحی الحسینی گھوٹوؒ کی قبر پر دعا کی اور پھر گھوٹکی کی مشہور جگہ ’’باغ چنا‘‘ کی طرف بڑھے۔ راستے میں آپ کے ہونہار شاگرد عبدالمنان کولاچی بھی ساتھ ہوگئے۔ یہ صالح نوجوان ہیں، یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ انہوں نے گاؤں کے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر اپنی لائبریری بھی بنائی ہے، یہ قابلِ تقلید عمل ہے۔
پھر باغِ چنا اسٹاپ پر ہم نے چائے پی، جو صحیح معنوں میں دودھ پتی تھی۔ وہاں ہمارے پرانے ساتھی منصور چنا بھی ہوتے ہیں، ان کے پاس گئے اور مختصر ملاقات کی۔ پھر واپس آئے، ناشتہ کیا اور تیار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔
سفر میں ہمارے رفقا ہم دونوں کے علاوہ استاد محمود گھوٹو، محمد طیب، محمد انس تھے۔ سفر خوشگوار چل رہا تھا۔ راجن پور سے مقامی رہبر جناب ثناء اللہ سومرو کو ساتھ لیا۔ پہلا پڑاؤ فاضل پور میں ’’من و سلویٰ ہوٹل‘‘ پر کیا، جہاں سنگت نے دودھ پتی نوش کی۔ پھر سفر جاری رکھا اور اگلا پڑاؤ ڈیرہ غازی خان میں ماڈل ٹاؤن جناب ممتاز صاحب (سابق ایجوکیشن افسر) کے گھر پر تھا۔ آپ نے پرتکلف کھانوں سے تواضع کی۔
ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا نمایاں ضلع ہے، جہاں بلوچ اور سرائیکی آبادی کی اکثریت ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کی اکثریت سرائیکی زبان بولتی ہے، جبکہ ارد گرد کے بعض علاقوں میں بلوچی زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ کوہِ سلیمان کے دامن میں بسنے والے یہ قبائل اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان میں نمڑدی، بزدار، دریشک، کھیتران، لغاری، جلبانی، گورچانی، کھوسہ، چغتائی خان، میرانی، لنڈ، مزاری، علیانی، گرمانی، رند، جروار، قیصرانی، شہانی اور سکھانی جیسے قبیلے شامل ہیں، جو اپنی روایات اور طرزِ زندگی کے حوالے سے پورے خطے میں پہچانے جاتے ہیں۔
یہ شہر کسی زمانے میں ریاستِ بہاولپور کا حصہ بھی رہا ہے اور انتظامی طور پر اس کی اہمیت نمایاں رہی۔ 1982ء میں اسے باقاعدہ ڈویژن کا درجہ دیا گیا، جس کے تحت چار تحصیلیں وجود میں آئیں: ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف، کوٹ چھٹہ اور قبائلی علاقہ (تحصیل کوہِ سلیمان)۔ یہ تقسیم نہ صرف انتظامی لحاظ سے بلکہ ثقافتی اور معاشرتی روابط کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
یہاں کی زبان، لباس اور روایات میں سرائیکی رنگ اور بلوچ وقار کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ سیلاب کے بعد اس نئے شہر کی بنیاد 1910ء میں سردار حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان کے نام پر رکھی۔ یہاں کے معروف سرداروں میں فاروق احمد خان لغاری (سابق صدرِ پاکستان) اور ان کے بیٹے اویس لغاری (وفاقی وزیر) شامل ہیں۔ اسی طرح کھوسہ خاندان کے سردار ذوالفقار کھوسہ اور دوست محمد کھوسہ (سابق وزیر اعلیٰ) بھی سیاست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ ضلع صرف سیاست نہیں، ثقافت میں بھی منفرد ہے۔ عورتوں کے کڑھائی والے لباس، مردوں کے بلوچی چغے، میلوں کی دھمال اور مقامی لوک گیت یہاں کی زندگی کا حصہ ہیں۔ دریائے سندھ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ خطہ زرخیز ہے، کپاس، گندم اور آم کی پیداوار میں نمایاں ہے۔ یہ علاقہ آج بھی اپنے تاریخی پس منظر، روایتی رنگ اور مہمان نوازی کے باعث جنوبی پنجاب کا روشن ستارہ ہے۔
تاہم یہاں ہمیں پنجاب کی وہ ترقی کے آثار اور رفتار نظر نہیں آئی جو ہم نے دیگر علاقوں میں دیکھی تھی۔ مقامی لوگ بھی اس بات کے شاکی دکھائی دیے کہ بنیادی سہولتوں اور روزگار کے مواقع میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔ ماضی میں یہاں مختلف گینگ بھی سرگرم رہے ہیں جن کی کہانیاں اب بھی لوگ دہراتے ہیں۔ اس کے باوجود، یہاں کے لوگ اپنی روایتوں اور امنگوں کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہاں کے بڑے تعلیمی اداروں میں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان، غازی میڈیکل کالج اور دیگر کالجز شامل ہیں، جو مقامی نوجوانوں کے لیے علم کے دروازے کھول رہے ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی ایک امید کی کرن ہے کہ مستقبل میں یہ خطہ مزید ترقی کی طرف بڑھے گا۔
ان سے اجازت لے کر ہم قریبی بستی ’’یارو کھوسہ‘‘ پہنچے، جہاں قاری سراج کھوسہ کے ادارے میں پہنچے۔ یہ استاد محمود صاحب کے دوست ہیں۔ انہوں نے اچھی خاطر تواضع کی۔ ان کا اپنا ادارہ انوار القرآن کے نام سے ہے، جو ان کے برادرِ کبیر صاحبزادہ عبدالرحمن نقشبندی کی نگرانی میں چلتا ہے اور چار سو کے قریب مقامی بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ مدرسہ کا نظم بہتر تھا۔ آپ حضرات بریلوی مسلک سے وابستہ ہیں، لیکن ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی کہ جب انہوں نے دیوبندیوں کا والہانہ انداز میں استقبال کیا، بڑی محبت اور احترام سے پیش آئے۔ مزید خوشگوار حیرت ہوئی کہ جب آپ نے نمازِ مغرب کی امامت کے لیے مجھے فرمایا تو میں نے ادب اور حق کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے آپ کو نماز پڑھانے کا کہا۔ بعد میں دعا مجھ سے کرائی۔ مجھے ان کی یہ ادا پسند آئی اور یہ رواداری کی بہترین مثال ہے۔
یہ تجربہ ہمارے لیے اس بات کا روشن ثبوت تھا کہ دلوں کی وسعت مسلک کی حدوں سے کہیں آگے ہوتی ہے۔
جب محبت، عزت اور خیرخواہی کا رویہ غالب آ جائے تو اختلافِ خیال دیوار نہیں بلکہ پل بن جاتا ہے۔
ایسی نشستیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دین کی اصل روح باہمی احترام اور اخوت میں پوشیدہ ہے۔
کاش ہم سب اس رواداری کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں اور امت کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں۔
پھر آپ سے مختلف دینی، معاشرتی مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔ عشائیہ میں آپ نے دیسی مرغی سمیت لذیذ کھانوں کا انتظام کیا تھا۔ سب نے شکم سیر ہو کر کھایا۔ صبح میں ان کے متعلّق خاص غلام فرید عیسانی صاحب نے ناشتہ کی ضیافت کی، جس میں انواع و اقسام کے کھانے شامل تھے۔ زیادہ تر دیسی کھانے تھے، جنہوں نے مزا دوبالا کردیا تھا۔ پھر ہم ان سے اجازت لے کر آگے روانہ ہوئے۔
جاری….