سون ڈیم: خطہ پوٹھوہار کا فراموش کردہ خواب

خطہ پوٹھوہار، جو پنجاب کے شمالی حصے میں واقع ہے، تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی اور ماحولیاتی لحاظ سے ایک منفرد خطہ ہے۔ اس کا پھیلاؤ ضلع اٹک سے جہلم تک ہے، جس میں راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال اور گرد و نواح کے علاقے شامل ہیں۔ یہاں کی زمین زیادہ تر ناہموار ہے، اور اس خطے کی پہچان اس کی اونچی نیچی ٹیلے دار زمین، پتھریلی پہاڑیاں اور قدرتی ندی نالے ہیں۔ انہی نالوں میں سب سے اہم اور مستقل پانی کا ذریعہ "دریائے سواں” ہے، جو صدیوں سے اس خطے کا قدرتی آبی بہاؤ سنبھالے ہوئے ہے۔

دریائے سواں: قدرتی آبی شاہراہ

دریائے سواں ضلع چکوال، چکری اور ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب سے ہوتا ہوا ضلع میانوالی میں "ڈھوک بھرتال پیرپہائی” کے مقام پر دریائے سندھ میں جا ملتا ہے۔ اس دریا کا بہاؤ ہزاروں سال پر محیط ہے اور یہ خطہ پوٹھوہار کی معاشی، زرعی اور ماحولیاتی زندگی کا ایک کلیدی ستون ہے۔

بدقسمتی سے آج یہی دریا سیاسی مفادات، بیوروکریٹک سستی، اور ہاؤسنگ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ راولپنڈی کی حدود میں اس دریا کے دونوں کناروں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا سیلاب آ چکا ہے۔ دریا کی قدرتی گزرگاہ کو اتنا محدود کر دیا گیا ہے کہ ہر سال کی بارش اس علاقے میں سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ حالیہ مون سون میں بھی ہم نے دیکھا کہ نالہ لئی اور دریائے سواں سے متصل علاقے زیر آب آ گئے، اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

سون ڈیم: خواب جو حقیقت بن سکتا ہے

دریائے سواں پر مجوزہ "سون ڈیم” کا منصوبہ گزشتہ کئی سالوں سے فزیبلٹی کی سطح پر مکمل پڑا ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تربیلا ڈیم سے آبی حجم میں آٹھ گنا بڑا ہوگا، یعنی اگر تعمیر ہو جائے تو پاکستان کا سب سے بڑا آبی ذخیرہ بن سکتا ہے۔

مقام: .
سون ڈیم کا ہیڈ ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں ڈھوک پٹھان کے قریب واقع ہوگا.

ٹیل (آخری سرا): .
راولپنڈی کے مقام "کاک پل” تک پھیلا ہوگا.

مقاصد:

سیلابی پانی کو محفوظ بنانا

سستی بجلی پیدا کرنا

زراعت کے لیے پانی کی فراہمی

راولپنڈی اسلام آباد کے لیے طویل المدتی واٹر سپلائی

زیر زمین پانی کی سطح کو بحال کرنا

یہ ڈیم خطہ پوٹھوہار، پنجاب اور پورے ملک کے لیے توانائی اور آبی خود کفالت کی جانب ایک انقلابی قدم ہو سکتا ہے۔

رکاوٹیں: سیاسی مفادات اور زمینی مافیاز

افسوس کی بات یہ ہے کہ جس زمین پر یہ ڈیم بننا تھا، وہاں آج درجنوں پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بن چکی ہیں یا زیر تعمیر ہیں۔ حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت، خاموشی اور کمزوری کے باعث ان سوسائٹیوں کو نہ صرف این او سی جاری کیے گئے بلکہ دریا کی زمین تک بیچ دی گئی۔

دوسری طرف جب کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے کو سندھ اور کے پی کے کی سیاسی مخالفت کی وجہ سے سرد خانے میں ڈال دیا گیا تو پنجاب کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں چھوٹے بڑے ڈیمز بنا کر واٹر سیکیورٹی کی طرف پیش رفت کرتا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ حکومت پنجاب کی ترجیحات آج بھی انفراسٹرکچر، میٹرو پل، اور کمرشل ہاؤسنگ ہیں۔ پانی، زراعت اور توانائی جیسے دیرپا مسائل ان کی توجہ سے محروم ہیں۔

قدرتی و ماحولیاتی خطرات

اگر دریا کے راستے پر تجاوزات نہ روکی گئیں اور ڈیم جیسے منصوبے نہ بنے تو:

ہر سال سیلاب کا خطرہ بڑھے گا

زیرزمین پانی کی سطح مزید نیچے چلی جائے گی

کسان پانی کی قلت کا شکار ہوں گے

شہروں میں پانی کے بحران شدت اختیار کریں گے

ماحولیات پر مہلک اثرات مرتب ہوں گے

پنجاب کی ذمہ داری

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دریائے سواں پنجاب کی اندرونی دریا ہے، اور اس پر وفاق کی اجازت کے بغیر بھی صوبائی حکومت ڈیم تعمیر کر سکتی ہے۔ یہ پنجاب کا اختیار، ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ اس قدرتی دریا پر سون ڈیم جیسے منصوبے کو عملی جامہ پہنائے۔

آج اگر حکومت پنجاب نے جرات مندانہ قدم اٹھایا، تو نہ صرف سیلاب جیسے خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کو سستی بجلی اور وافر پانی بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں، آنے والی نسلیں ہمیں اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔

نتیجہ: سون ڈیم نہیں، تو پانی کا بحران یقینی ہے

خطہ پوٹھوہار ایک تاریخی، ثقافتی اور ماحولیاتی خزانہ ہے۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، تو یہ خطہ آنے والے برسوں میں ناقابل تلافی ماحولیاتی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ وقت آ چکا ہے کہ سیاسی قیادت، بیوروکریسی، سول سوسائٹی اور میڈیا اس مسئلے کو اجاگر کرے اور سون ڈیم کی تعمیر کو قومی ترجیحات میں شامل کرائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے