آج یہ افسوسناک خبر ملی ہے کہ سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر بھی راہی ملک عدم ہو گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
خبر سن کر میاں صاحب کی کچھ یادیں لوح ذہن پر تازہ ہو گئی ہیں۔ میاں صاحب کا نام اس وقت سامنے آیا جب میاں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں انھیں لاہور کا میئر بنایا گیا تھا۔ اس دوران میں میاں اظہر نے لاہور سے جس طرح بلا امتیاز اور بلا رو رعایت تجاوزات کا خاتمہ کیا تھا. اس نے ان کی نیک نامی میں بہت اضافہ کیا تھا۔ کچھ برس بعد جب مرکز میں میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو میاں اظہر کو پنجاب کا گورنر تعینات کیا گیا۔ میاں اظہر کی شخصیت کا ایک بہت نمایاں اور شاندار پہلو یہ تھا کہ عہدہ ان کے طرز عمل پر اثرانداز نہیں ہوتا تھا۔ وہ دیانت دار اور سادہ مزاج انسان تھے۔رات شاید ہی کبھی گورنر ہاؤس میں بسر کی۔ کام ختم کرکے اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہوئے اپنے گھر چلے جاتے تھے۔
ایک دن باصر کاظمی کے چچا اور ناصر کاظمی کے چھوٹے بھائی، عنصر کاظمی، نے بتایا کہ وہ ہفتہ وار چھٹی کے دن ایک دوست سے ملنے سنت نگر گئے ۔ دیکھا کہ وہاں ایک دکان کے تھڑے پر بیٹھے کچھ لوگ تاش کھیل رہے تھے۔ چچا بھی تاش کے بہت شوقین تھے۔ وہ کھیل دیکھنے کے لیےاپنے دوست کے ساتھ وہاں کھڑے ہو گئے۔ کچھ دیر بعد چچا نے اپنے دوست کو تاش کھیلنے والے ایک شخص کی طر ف اشارہ کرکے کہا کہ یہ بہت اچھی تاش کھیل رہا ہے۔چچا کے دوست نے حیرانی سے کہا، تم اسے نہیں جانتے؟ چچا نے نفی میں سر ہلایا تو اس نے کہا، یہ میاں اظہر ہیں، گورنر پنجاب۔ یعنی گورنر بننے کے بعد بھی انھوں نے اپنے پرانے محلے دار دوستوں کے ساتھ چھٹی کے دن تاش کھیلنے کا معمول برقرار رکھا تھا۔
گورنر ہونے کی وجہ سے وہ پنجاب یونیورسٹی کے چانسلر بھی تھے۔ اس بنا پر انھوں نے یونیورسٹی کے معاملات میں کچھ زیادہ دلچسپی لینا شروع کر دی۔ اس زمانے میں پروفیسر ڈاکٹر منیر الدین چغتائی صاحب وائس چانسلر تھے اور ان کی دوسری ٹرم چل رہی تھی۔ چغتائی صاحب بہت شریف النفس انسان تھے لیکن بطور ایڈمنسٹریٹر بہت کمزور تھے۔ فیصلہ سازی پر اسلامی جمعیت طلبہ کا غلبہ تھا حتی کہ اساتذہ کی تعیناتی اور ترقی میں بھی وہ دخیل ہو چکے تھے۔ جو اساتذہ لیفٹ سے تعلق رکھتے تھے ان کی ترقی میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی تھیں۔پروفیسر ڈاکٹر مجیب اے شیخ پبلک ایڈمنسٹریشن کے شعبہ میں استاد تھے۔ ان کو پروفیسر نہیں بننے دیا جا رہا تھا۔ مجیب شیخ صاحب کی میاں اظہر کے بڑے بھائی سے بہت دوستی تھی اور میاں اظہر کو وہ مجو کہہ کر بلاتے تھے۔ بالآخر میاں اظہر کے شدید دباؤ پر مجیب صاحب کو پروفیسر بنایا گیا۔
اس زمانے میں ناپسندیدہ اساتذہ کی ترقی روکنے کا طریقہ یہ تھا کہ اول تو سیٹ کا اشتہار نہیں دیا جا تا تھا۔ اگر اشتہار دے دیا جائے تو سلیکشن بورڈ کی میٹنگ نہیں ہونے دی جاتی تھی۔ بعض اساتذہ کے ساتھ تو اتنا ظلم ہوا کہ وہ سلیکشن بوڑد ہونے کا انتظارکرتے کرتے ریٹائر ہو گئے۔ اس وقت میاں اظہر نے ایک ایسا قانون بنوایا جس نے انتظامیہ کی من مرضی کا بڑی حد تک خاتمہ کر دیا۔ قانون یہ تھا کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کی آسامیوں کے لیے درخواست جمع کرانے کی جو آخری تاریخ ہو گی اس کے بعد چھ مہینے کے اندر اندر سلیکشن بورڈ کا انعقاد ہو گا۔ا گر اس میں تاخیر ہو تو سلیکشن بورڈ جب بھی ہو تعیناتی چھ ماہ مکمل ہونے کی تاریخ سے ہی ہو گی۔ اس قانون سے اساتذہ کی سینیارٹی بھی متاثر نہیں ہوتی تھی۔ مجھ سمیت بہت سے راندہ درگاہ اساتذہ کو اس قانون سے بہت فائدہ ہوابلکہ بعض اساتذہ کو بعد از ریٹائرمنٹ پروفیسر بنایا گیا اور ایک کیس میں تو شاید بعد از مرگ۔ مجھے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پھر پروفیسر بننے پر تقریباً دو دو سال کےا یریرز بھی ملے تھے۔ سنا ہے کہ اب اس قانون کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
میاں اظہر کا یونیورسٹی اساتذہ کے ساتھ بہت عزت و احترام والا رویہ ہوتا تھا۔ اس نے تمام اساتذہ کو گورنر ہاؤس میں عشائیہ بھی دیا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی میں پروفیسر مسکین علی حجازی صاحب امور طلبہ کے انچارج تھے اور بہت اثرو رسوخ کے حامل تھے۔یونیورسٹی کی اکثر تقریبات میں سٹیج سکریٹری کے فرائض بھی وہی انجام دیتے تھے۔ حجازی صاحب لکھتے بہت اچھا ہوں گے لیکن بولنے کا معاملہ بہت مخدوش تھا۔ تلفظ بھی اچھا نہیں ہوتا تھا۔ اس وجہ سے مائک پر ان کی پرفارمنس کافی مایوس کن ہوتی تھی۔ گورنر ہاؤس میں بھی سٹیج سکریٹری حجازی صاحب ہی تھے۔ اس کے بعد میرا مرحوم دوست سلیم سندھو کہا کرتا تھا کہ میاں اظہر اس عشائیے سے پہلے تک پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کی بہت عزت کیا کرتا تھا ۔ خیر تفنن برطرف، یہ حقیقت ہے کہ کسی چانسلر نے ،نہ میاں اظہر سے پہلے اور نہ اس کے بعد، یونیورسٹی اساتذہ کو اتنا عزت و احترام نہیں دیا ہو گا۔
ان دنوں پروفیسر قمر عباس اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر اور ڈاکٹر خواجہ حارث رشید سکریٹری تھے۔ میں بھی بطور نائب صدر آرٹس ساتھ نتھی تھا۔ چغتائی صاحب کی دوسری ٹرم ختم ہونے والی تھی اور نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس وقت میاں اظہر نے یہ عندیہ دینا شروع کر دیا کہ وائس چانسلر باہر سے لایا جائے گا اور وہ پروفیسر نہیں ہو گا۔ وہ جمعیت کی دخل اندازی سے سخت نالاں تھے اور اس کا سدباب کرنا چاہ رہے تھے۔ ان کی پختہ رائے تھی کہ پروفیسر وائس چانسلر یہ کام نہیں کر سکتا۔ میاں اظہر نے اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کو ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس آنے کی دعوت دی۔ ہم سب وہاں گئے۔دو نکاتی ایجنڈا تھا: نئے وائس چانسلر کی تقرری اور پروفیسروں کی گریڈ اکیس اور بائیس میں ترقی۔
پہلے نکتے پر قمر عباس نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ہی ہونا چاہیے لیکن میاں اظہر مان نہیں رہے تھے۔ شاہ جی نے زیادہ اصرار کیا تو ایک پروفیسر کا نام لے کر کہا، اوہنوں لا دییے۔ اوہنیں انج بہہ جانا اے جیویں چھپڑ وچ مجھ بہ جاندی اے۔ دوسرے نکتے پر جواب دینے کے لیے میاں اظہر نے سکریٹری ٹو گورنر کوبلایا۔ سکریٹری صاحب تشریف لائے اور میاں اظہر کے سامنے کرسی پر برجمان ہو گئے۔ گورنر اور سکریٹری کے رویے کا تضاد بہت نمایاں تھا۔ میاں اظہر کا انداز جتنا فرینک تھا ان صاحب کا اتنا ہی افسرانہ رعونت سے بھرپور تھا۔ گریڈ اکیس اور بائیس کے مسئلے پر انھوں نے کچھ ایسا پرپیچ بیان دیا جو شاید کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
میاں اظہر سے یہ ملاقات آخری ثابت ہوئی کیونکہ اس کے چند ہفتے بعد میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی گئی اور اسمبلیاں تحلیل کر دی گئی تھی۔ میاں اظہر فی الفور استعفا دے کر اپنےگھر کو روانہ ہو گئے تھے۔ البتہ ان کے دور میں تیار کی گئی فائلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ چغتائی صاحب کے بعد ایک ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل محمد صفدر صاحب کو اس وقت کی حکومت نے وائس چانسلر لگا دیا تھا۔