یہ ہماری قبائلی روایات ہیں

غالباً سال 2008 تھا، میں سینیٹ اجلاس کی کوریج کر رہا تھا۔۔ اس وقت پریس گیلری میں دو ہی رپورٹرز موجود تھے، ایک وسیم اختر اور دوسرا میں۔۔ اجلاس میں اس وقت بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں پانچ خواتین کے زندہ درگور کیے جانے کے واقعہ پر بحث ہو رہی تھی۔۔ خیر یہ بھی الگ بحث ہے کہ معاملہ جب شروع ہوا تو بتایا گیا 9خواتین کو زندہ درگور کیا گیا، پھر یہ تعداد پانچ تک پہنچی اور شاید بعد میں دو تک پہنچ گئی تھی۔۔

بہرحال، اس اجلاس میں تقریباً تمام اراکین سینیٹ اس سانحہ پر رنجیدہ تھے اور ذمہ داران کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایسے میں سینیٹر ثنا اللہ زہری کھڑے ہوئے اور اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی سے بولے کہ ان لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ یہ ہماری قبائلی روایات کا حصہ ہے۔ جان محمد جمالی نے بھی بند مائیک کے ساتھ کہا کہ یہ لوگ بلوچستان کی قبائلی روایات سے واقف نہیں ہیں تاہم، انہوں نے ریکارڈ پر جو بات کی وہ ایسے تھی کہ میں چونکہ اس علاقہ سے ہوں جب تک تحقیقات نہ ہو جائیں وہ اس حوالہ سے بات نہیں کریں گے۔

جب یہ خبر ٹی وی چینلز پر چلی تو ہر جانب شور مچ گیا۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جان محمد جمالی میرے اس وقت کے بیورو چیف کے بہت اچھے دوست تھے، ڈائریکٹر نیوز بھی جان جمالی کے دوست تھے۔۔ اس لیے شام کو مجھے کہا گیا کہ جان جمالی نے رات کو منسٹرز انکلیو میں عشائیہ رکھا ہے اس میں آپ شام کو وہاں جائیں گے۔ میں وہاں پہنچا تو درحقیقت اگر خوفزدہ نہیں تو شک میں مبتلا ضرور تھا کہ وہاں کیا ہو گا۔

وہاں پہنچا تو باہر گرین بیلٹ پر مٹن سجی تیار ہو رہی تھی۔۔ باہر ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ جان محمد جمالی بہت شفقت سے ملے اور وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ کسی بلوچ کی دعوت پر آپ بغیر کھانا کھائے نہیں جا سکتے ورنہ میزبان ناراض ہو جاتا ہے۔ میں نے جب اجازت چاہی تو جان محمد جمالی نے پوچھا آپ نے کھانا کھا لیا؟۔ میں نے بتایا کہ میں کھانا گھر جا کے ہی کھاتا ہوں تو انہوں نے مجھے زبردستی میز پر بٹھایا اور پھر ویٹر سے کہا کہ میرے لیے ایک مٹن سجی لائے۔

بکرے کی ایک پوری ران میرے سامنے رکھ کر جان جمالی بولے کہ یہ پوری ختم کرنا ہو گی۔ ساتھ ہی مذاق میں اپنے گن مین سے کہا کہ یہ بغیر کھائے جانے لگے تو گولی مار دینا۔ انہوں نے مذاق میں یہ بات کہی تھی مگر گن مین بہت سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا اور وہ مسلسل مجھے گھور رہا تھا۔۔ میں نے اپنے دو چار دوستوں کو وہیں بلا لیا کیونکہ میں اکیلا کھاتا تو شاید وہ ران دو دن میں بھی نہیں ختم ہو سکتی تھی۔ جب وہ کھا چکا تو میں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی سے اجازت چاہی تو اس مرتبہ اجازت مل گئی کیونکہ مٹن سجی ختم ہو چکی تھی۔

جاتے جاتے جان محمد جمالی نے ایک مرتبہ پھر مجھے بتایا کہ خواتین کو زندہ درگور کر دینا ان کی قبائلی روایات کا حصہ ہے۔ آج اس بات کو 17سال ہو چکے ہیں مگر کل کی بات ہی لگتی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر ایک کارو کاری کا کیس سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون اور ایک شخص کو جرگے کے فیصلے کے بعد گولی ماری گئی۔ اس کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد ہماری صوبائی اور وفاقی حکومت کو خیال آیا۔۔ اس کیس میں ریاست نے خود مدعی بننے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد سے اب تک اس کہانی میں کئی تبدیلیاں آ چکی ہیں، وہ لڑکی جسے شیتل بتایا جا رہا تھا وہ اب بانو بی بی بن چکی ہے۔۔ وہ مرد جو مارا گیا اسے زرک بتایا جا رہا تھا مگر اب وہ احسان ہو چکا ہے۔ بانو نے بھاگ کر شادی نہیں کی تھی بلکہ وہ پہلے سے شادی شدہ تھی اور پانچ بچوں کی ماں بھی تھی۔

پولیس کے مخبر خاص نے یہ ساری درستگی کروائی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ غلطی سراسر ان دونوں کی تھی، شادی شدہ خاتون بچے چھوڑ کے اس شخص کے ساتھ چلی گئی تھی، بعد میں واپس آ بھی گئی تھی اور اپنے علاقے میں ہی رہ رہی تھی کہ ڈیڑھ سال بعد وہ نوجوان بھی آ گیا اور سردار کے پاس پناہ لی۔ خاتون کے قبیلے کے لوگوں نے سردار کے ساتھ جرگے کیے جس میں بتایا گیا کہ وہ اس نوجوان کو ضرور ماریں گے جس پر سردار نے کہا کہ اگر غیرت کے نام پر مارنا ہے تو پھر اپنی خاتون کو بھی مارنا پڑے گا ورنہ میں نوجوان کو تمہارے حوالہ نہیں کروں گا۔ یہ بات جرگے میں طے ہونے کے بعد اطمینان سے چند غیرت مندوں نے اکٹھے ہو کر دونوں کو مار دیا۔

خاتون کے ہاتھ میں قرآن ہونا بتایا جا رہا ہے جو وہ اپنی بے گناہی کے لیے لائی تھی مگر چونکہ جرگہ سزا تجویز کر چکا تھا اس لیے کوئی گواہی، کوئی شہادت قابل قبول نہ تھی۔ خود منصف بننے والوں نے جلاد کا کام بھی خود کیا اور ان دونوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنی غیرت کی بحالی کا جشن منایا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ کہانی میں روزانہ کی بنیاد پہ تبدیلیاں آتی جا رہی ہیں جس سے اندیشہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ کل پولیس جو کہ مدعی بھی ہے، یہ ثابت نہ کر دے کہ بے چارے معصوم سردار سڑک پر جا رہے تھے کہ خاتون اور نوجوان نے انہیں للکارا اور جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے حملہ کیا، ان پندرہ افراد کی قسمت اچھی تھی کہ گولیاں انہیں نہیں لگیں اور ان کے گارڈز کے فائر سے وہ دونوں مارے گئے۔ ان گارڈز کو چھ چھ ماہ کی سزا ہو جائے اور یہ قبائلی روایات یونہی چلتی رہیں۔

خیر ہے بندے تو ٹریفک کے حادثے میں بھی مرتے ہیں، طبعی موت بھی مر جاتے ہیں، قبائلی روایات ملک کے لیے ضروری ہیں، اس لیے انہیں قائم رہنا چاہیئے، زندہ رہنا چاہیئے اور لوگوں کو ان قبائلی روایات کے خلاف کسی صورت بات نہیں کرنی چاہیئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے