جنوبی پنجاب کا مری:ایک یادگار سفر

آخری قسط

ہمارا سفر منزلِ فورٹ منرو کی طرف جاری تھا، جسے بجا طور پر جنوبی پنجاب کا مری بھی کہا جاتا ہے۔یہ دراصل انگریزوں کی کھوج کا نتیجہ تھا،وہ ہمیشہ ایسے مقامات کی تلاش میں رہتے تھے جہاں موسم خوشگوار اور فضا دلکش ہو۔ پرفضا علاقے اور سرسبز و شاداب جگہیں انہیں ہمیشہ بھاتی تھیں۔

ڈیرہ غازی خان سے 85 کلومیٹر کے فاصلے پر، اور سطح سمندر سے 6470 فٹ بلند، یہ مقام ماضی میں "اناری” یا "تمن لغاری” کے نام سے جانا جاتا تھا، مگر انگریز کے قبضے کے بعد میں کرنل منرو کے نام پر موسوم ہوا۔ اس کی طرف جانے والا راستہ کوئٹہ سڑک کہلاتا ہے، جو پنجاب کو بلوچستان سے ملاتی ہے۔ یہیں سے کوہِ سلیمان کی خوبصورت پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جو کہیں سرمئی تو کہیں سلیٹی رنگ کی چوٹیوں سے پورے علاقے کو گھیرے ہوئے ہیں۔

پورا راستہ حیرت انگیز مناظر سے بھرا ہوا تھا، مگر اسٹیل کا پل واقعی ایک انجینئرنگ کا شاہکار ہے جو جاپان کے تعاون سے تعمیر ہوا۔ پہلے یہ راستہ دشوار اور تنگ تھا، مگر اب اس پل نے بڑی رکاوٹ کو دور کر دیا ہے۔ ہم قدرتی حسن سے لطف اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ ہر طرف دلکش اور حسین نظارے بکھرے ہوئے تھے۔ راستے میں ہیوی ٹریفک بھی کافی تھی، جو بلوچستان سے آ رہی تھی یا وہاں جا رہی تھی۔ جیسے جیسے سفر بڑھ رہا تھا، منزل قریب آ رہی تھی۔

تقریباً دو گھنٹوں کے بعد ہم فورٹ منرو پہنچ چکے تھے، جو اپنی بلندی، سبزے اور ٹھنڈک کی وجہ سے مشہور ہے۔ درجہ حرارت معتدل تھا، ہر طرف بادل چھائے ہوئے تھے اور ہوا میں تازگی تھی۔ ہم نے سب سے پہلے ایک ہوٹل میں قیام کیا، گاڑی کھڑی کر کے نماز ادا کی اور کچھ دیر آرام کیا۔

پہلی قسط پڑھنے کے لیئے کلک کریں؛
جنوبی پنجاب کا مری: ایک یادگار سفر

چار بجے ہم اپنے دو ساتھیوں، محمد طیب اور محمد انس کے ساتھ باہر نکلے اور آدھے کلومیٹر کی دوری پر دماس جھیل کی طرف گئے۔ وہاں پہنچے تو کافی لوگ سیر و تفریح میں مصروف تھے۔ ہم نے پہلے جھیل کے درمیان بنے پل سے تصاویر بنائیں اور موسم کی دلکشی کا لطف اٹھایا۔ پھر جب کشتی میں سوار ہو کر جھیل کی سیر کی تو اس خوبصورت سفر کا مزہ دوبالا ہو گیا۔ یہ جھیل برسات کے پانی اور نالوں سے سیراب ہوتی ہے؛ گرمیوں میں یہ پھیل جاتی ہے جبکہ سردیوں میں سکڑ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جھیل انسانی گردے کی مانند ہے۔

دماس جھیل سے نکل کر ہم سامنے پہاڑی پر بلوچ میوزیم کی طرف بڑھے۔ میوزیم کا نام سن کر اور پڑھ کر اشتیاق بڑھا کہ شاید کوئی بڑی تاریخی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی، مگر وہاں ایسی کوئی خاص چیز نہیں تھی۔ بس چند تصاویر، ایک دو پرانی بندوقیں اور تلواریں، باقی "کل پیراں دا خیر”۔ البتہ باہر بلوچی لباس اور پگڑیاں رکھی تھیں، وہ پہن کر ہم نے تصاویر بنوائیں اور پھر ہوٹل واپس آ گئے۔

اس کے بعد ہم نے بازار میں چہل قدمی کی تاکہ سیاحوں کے رجحان اور بازار کی رونق کا اندازہ ہو سکے۔ معلوم ہوا کہ زیادہ تر سیاح جنوبی پنجاب ہی سے آتے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو بہت دور سے آیا ہو۔ بلکہ ہمارا اتنی دور سے آنا لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ ہوٹلوں کے کرائے اور اشیاء کی قیمتیں مناسب تھیں، البتہ معیار زیادہ اچھا نہیں تھا۔ مقامی لوگوں کا خوش اخلاق رویہ سیاحت کو فروغ دے سکتا ہے۔ اگرچہ کچھ ہوٹلوں کا معیار اور کھانا اچھا تھا، مگر عمومی صورتحال وہی تھی جو اکثر سیاحتی مقامات پر دیکھنے کو ملتی ہے۔

موسم کی کیفیت یہ تھی کہ کمرے میں پنکھا چلانے کے باوجود کمبل اوڑھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ موسم ہمارے میدانی علاقوں کے لوگوں کے لیے ایک عظیم نعمت تھا۔ صبح میں شبنم نے موسم کے لطف کو مزید بڑھا دیا۔ ناشتے کے لیے ہم مرکزی بازار گئے جو دراصل چند دکانوں اور ہوٹلوں پر مشتمل تھا۔ ایک ڈھابے پر ناشتہ کیا، بعد میں دوستوں نے کچھ چیزیں خریدیں۔ یہاں بھی اسمگلنگ کے مال کی بہتات تھی۔

بہرحال، فورٹ منرو میں ہمارا ایک روزہ مختصر قیام اپنے دامن میں کئی حسین یادیں سمیٹے ہوئے تھا۔ اگرچہ یہ ایک عجلت کا سفر تھا، مگر اس نے جنوبی پنجاب کے اس پوشیدہ حسن سے پردہ اٹھایا جو فطرت کی رنگینیاں بکھیرتا ہے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ حکومت اگرچہ سیاحت کے فروغ کی خواہشمند ہے، مگر اس کے لیے پوری توجہ اور سنجیدگی درکار ہے۔ فورٹ منرو جیسی خوبصورت جگہ، جہاں کوہِ سلیمان کے دلفریب مناظر اور معتدل آب و ہوا کا سنگم ہے، محض جنوبی پنجاب اور سندھ کے قریبی اضلاع کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ایک زبردست کشش بن سکتی ہے۔

تاہم، بے ہنگم تعمیرات اور بغیر منصوبہ بندی کے پلاٹنگ کا بڑھتا ہوا رجحان قدرتی حسن کی بربادی اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو ہر آنے والے سیاح اور ذمہ دار شہریوں کے ذہن میں ابھرتا ہے: کیا ہم اس قدرتی ورثے کو اس کی اصل حالت میں محفوظ رکھ پائیں گے یا جدیدیت کی دوڑ میں اس کی روح کھو دیں گے؟ یہ مقام اپنی ٹھنڈی ہواؤں، سبزے اور خاموشی میں ایک انمول پیغام چھپائے ہوئے ہے کہ فطرت کا احترام ہی اصل ترقی ہے۔

صبح کے خوشگوار موسم میں، ہم تقریباً دس بجے فورٹ منرو سے روانہ ہوئے۔ گاڑی کے شیشوں سے ٹھنڈی ہوا اب بھی چھو رہی تھی اور ذہن میں وہی مناظر رقص کر رہے تھے۔ راستے میں ڈیرہ غازی خان رکے، چائے نوش کی اور مختصر ملاقاتوں کے بعد فاضل پور میں من و سلویٰ ہوٹل پر دوپہر کا کھانا کھایا۔ پھر اپنا سفر جاری رکھا اور راجن پور میں ثناء اللہ سومرو صاحب کو رخصت کیا۔ ہم تیزی سے رواں دواں رہے، شام ساڑھے چھ بجے گھوٹکی پہنچے اور میں ساتھیوں سے اجازت لے کر سکھر کے لیے روانہ ہوا، اور رات نو بجے اپنے گھر پہنچ کر اس خوبصورت سفر کا اختتام ہوا۔

یہ سفر اگرچہ ختم ہو چکا تھا، مگر اس کی خوشبو، یہ یادگار لمحے اور فطرت کے حسین رنگ ہمیشہ دل کو تروتازہ کرتے رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے