پیشہ ورانہ مہارت، امن اور خودمختاری کا عزم پاکستان ائیر فورس
دنیا کے سب سے بڑے اور باوقار عسکری فضائی میلوں میں سے ایک، رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو (RIAT) ہر سال برطانیہ کے RAF فیئرفورڈ ایئر بیس پر منعقد ہوتا ہے، جہاں دنیا بھر کے فضائی اور دفاعی ادارے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو کا آغاز 1971 میں برطانیہ کے علاقے ایسکس میں ہوا، جو بعد ازاں مختلف مقامات سے ہوتا ہوا 1985 سے مستقل طور پر RAF فیئرفورڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔ 1996 میں اسے ”رائل“ کا اعزاز بھی ملا، اور تب سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ملٹری ایوی ایشن ایئر شو تصور کیا جاتا ہے۔ RIAT 2025 اس شو کی 55ویں سالگرہ ہے، جو اس کی تاریخی اہمیت، عالمی افادیت اور مسلسل ترقی کی علامت ہے۔
رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو 2025 میں دنیا کے 29 سے زائد ممالک نے شرکت کی، جس میں ہزاروں افراد نے ایئر شو کا مشاہدہ کیا۔ رائل انٹرنیشنل ائیر ٹیٹو 2025 کا آغاز 18 جولائی کو ہوا اور یہ 20 جولائی تک جاری رہا۔ اس سال کا مرکزی موضوع تھا: ”Eyes in the Skies“ یعنی ”فضا میں نگاہیں“۔
یہ تھیم جدید فضائی نگرانی، میری ٹائم پیٹرول، اور ریکونی سینس مشنز پر مرکوز تھی۔ دنیا بھر سے دفاعی ماہرین، فضائی افواج، اور ایوی ایشن انڈسٹری کے بڑے ادارے اس میں شریک ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق اس شو میں 29 ممالک نے شرکت کرتے ہوئے اپنی دفاعی طاقت کے اظہار کے لیے تقریباً 200 طیارے پیش کیے۔ ان میں لڑاکا طیارے، ٹرانسپورٹ، ڈرون، ہیلی کاپٹرز، اور اسپیشل مشنز کے طیارے شامل تھے۔ پاکستان ایئر فورس کے علاوہ، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، سعودی عرب، جاپان، کوریا، اور بھارت سمیت کئی ممالک نے شرکت کی۔
پاکستان ایئر فورس نے اس ایئر شو میں C-130 ہرکولیس طیارے کو نہایت خوبصورتی سے ”عُقاب“ کے انداز میں رنگا۔ یہ ایک فنی شاہکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نظریاتی پیغام بھی تھا۔ علامہ اقبال کے ”شاہین“ کی طرح، یہ طیارہ خودداری، بلندی، اور وسیع نگاہی کا استعارہ تھا۔ عقاب کی پینٹنگ جرأت، خودی اور بلندی کا پیامبر تھی۔ طیارے پر پینٹ کی گئی یہ تھیم اس بات کی عکاس تھی کہ پاکستان ایئر فورس نہ صرف عسکری لحاظ سے تیار ہے بلکہ فکری اور اخلاقی سطح پر بھی دنیا کی رہنمائی کا عزم رکھتی ہے۔ ایک اہم اور قابلِ فخر اضافہ پاکستان ایئر فورس کے نمبر 8 اسکواڈرن ”Haiders“ کے JF‑17 تھنڈر بلاک III (سیریل نمبر 23‑319) کی نمائش تھی، جس پر دوہری ریک/ایجیکٹرز پر نصب PL‑15 BVR میزائلز کے ساتھ ساتھ HOBS صلاحیت رکھنے والا PL‑10E WVR میزائل بھی نمایاں کیا گیا۔ اس قدر جدید ہتھیاروں کی نمائش نے بین الاقوامی دفاعی ناظرین کو متاثر کیا۔ ونگ کمانڈر سید سبطین اختر نے اس طیارے کی نمائندگی کی۔
پاکستان ائیر فورس کے JF‑17 کو اس ایئر شو میں ”Spirit of the Meet“ ٹرافی بھی دی گئی، جو نہ صرف اس کی دلکش لائیوری بلکہ پاکستان سے UK تک non‑stop air‑to‑air refuelling (AAR) کے ذریعے طے کیے گئے فاصلے کی حکمت عملی کی تصدیق تھی۔ رائل انٹرنیشنل ٹیٹو RIAT میں دکھائے گئے خوبصورت اور دلکش طیاروں کی نمائش کی روایت کے مطابق، پاکستان ایئر فورس کے C‑130H ہرکولیس طیارے کو بھی سب سے خوبصورت، بہترین انداز میں تیار کیے گئے اور شاندار انداز میں پیش کیے گئے طیارے کے طور پر ”Concours d’Elegance“ کا اعلیٰ اعزاز دیا گیا۔ یہ اعلیٰ اعزاز بہترین تیار شدہ اور پیش کیے جانے والے Static Display طیارے کے لیے دیا جاتا ہے۔
جہاز کو پاکستان کی پہچان عقاب (شاہین) کے ٹیٹو سے سجایا گیا جس کی بہادری اور ہیبت ناک آنکھیں دشمن پر خوف طاری کرتی ہیں۔ اس طیارے میں بھی PAF نے عمدہ طور پر اپنی مہارت اور جمالیاتی معیار کو ثابت کیا۔ برطانوی اور دیگر بین الاقوامی دفاعی اہلکاروں نے JF‑17 Thunder کو اپنے پسندیدہ طیاروں میں شمار کیا، بیان کرتے ہوئے کہ ”It’s their favourite“ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ائیر فورس اور اس کا یہ جدید لڑاکا طیارہ نہ صرف تکنیکی اعتبار سے قابلِ ذکر ہیں۔بلکہ بین الاقوامی دفاعی ماہرین کے دلوں میں بھی جگہ بنا چکا ہے۔
اس شو میں پاکستان ایئر فورس کی شرکت نے نہ صرف عسکری سطح پر خود کو منوایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر دوطرفہ تعاون، مشترکہ مشقوں، اور دفاعی معاہدوں کے نئے دروازے بھی کھول دئیے ہیں۔ ہزاروں افراد نے اس ایئر شو میں شرکت کی، جن میں عام شہری، طلبہ، محققین، اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ PAF کے اسٹال پہ خوب رونق رہی، افسران کی گفتگو، اور پاکستان کی ثقافت کا پرامن تعارف ایک مثبت تاثر چھوڑ گیا، جس سے پاکستان کی سافٹ پاور کو فروغ ملا۔ اس ائیر شو 2025 میں ایشیائی ممالک کی فہرست میں نمایاں طور پر پاکستان کی بھرپور اور طاقتور شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا کی دفاعی قیادت اب صرف مغرب تک محدود نہیں۔ پاکستان کی موجودگی نے ایشیا میں اس کی مرکزی حیثیت کو مزید مستحکم کیا، خصوصاً دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کے تجربے کی عالمی سطح پر قدر کی گئی۔ اس ایونٹ میں ایک الگ ”ٹیکنو زون“ بھی قائم کیا گیا، جہاں مصنوعی ذہانت، ڈرونز، سرویلنس سسٹمز، اور اگلی نسل کے دفاعی آلات کی نمائش ہوئی۔
پاکستان ائیر فورس کی ٹیم نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ایونٹ میں شرکت کی۔ ان کی وقت کی پابندی، نظم، اور فیلڈ میں مہارت کو RAF اور دیگر بین الاقوامی افواج نے سراہا، یہاں بین الاقوامی ماہرین نے پاکستان ائیر فورس کو دنیا کی بہترین تربیت یافتہ ائیر فورس قرار دیا۔ دنیا بھر میں موجود عالمی ماہرین نے پاکستان کی شرکت کو سراہا، بالخصوص عقابی پینٹنگ اور جے ایف 17 تھنڈر طیارے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے۔اسی طرح سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی اور یہ لمحات دنیا بھر میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے فخر کا باعث بنے۔
پاکستانی قوم کو پاک فضائیہ پر فخر ہے، عالمی دفاعی تبدیلیوں کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایئر فورس اپنے مکّار دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہر لمحہ چوکنا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدّت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون میں مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو سائنس، ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کر کے نہ صرف قومی دفاع میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کرنا چاہیے۔ آج کا دور صرف توپ، ٹینک اور طیارے کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل میدان میں برتری کا ہے۔ جو قومیں ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی، روبوٹکس، اور ایرو اسپیس میں مہارت رکھتی ہیں، وہی آنے والے وقت میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صرف نوکری کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے خود کو مستقبل کی جنگوں اور ترقیاتی میدانوں کے لیے تیار کریں، ایجادات کریں، تحقیق سے جڑیں، اور ایک ایسا پاکستان بنائیں جو نہ صرف دفاع میں ناقابل تسخیر ہو بلکہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں بھی دنیا کی رہنمائی کرے۔ یہی وقت ہے کہ ہم خوابوں کو حقیقت میں بدلیں۔ اور پاکستان کو ایک جدید، خود کفیل اور قابل فخر ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھاریں، جس کی علمی، فنی اور دفاعی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور جہاں کا ہر نوجوان اپنے ہنر، علم اور جذبے سے پاکستان کا روشن مستقبل تعمیر کرے۔ بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے
”تو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں“