پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شریف خاندان کا اقتدار ایک ایسا طویل باب ہے جس میں کبھی نواز شریف کی حکومت، کبھی شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ، اور اب مریم نواز کا وزیراعلیٰ بننا شامل ہے۔ اگر کوئی مورخ ان کے اقتدار کے سالوں کو شمار کرنے بیٹھے تو کیلکولیٹر کے ہندسوں کی سانس پھول جائے۔ اور شاید مورخ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ تاریخ لکھنا چھوڑ کر کوئی اور کام شروع کرے، مثلاً ہوم ڈلیوری کی سروس یا سبزی منڈی میں کاروبار، کیونکہ یہاں کہانی میں نیا کچھ ہے ہی نہیں۔
نواز شریف نے اپنی زندگی کے تقریباً 15 سال اقتدار کے تخت پر گزارے، شہباز شریف نے وزیراعلیٰ کے طور پر 11 سال سے زیادہ اور وزیراعظم کے طور پر ڈھائی سال نکالے، اور مریم نواز اب ایک سال سے زائد پنجاب پر راج کر رہی ہیں۔ اگر کسی ملک کو بدلنے کے لیے اتنے سال کافی نہیں، تو اور کتنے چاہئیں؟ 50، 100 یا پانچ نسلوں کا اقتدار؟
شریف خاندان میں ایک کوالٹی ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ انہیں عوام کو بے وقوف بنانا خوب آتا ہے اور اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کی اقتدار کی ہوس اس وقت پوری طرح عیاں ہوتی ہے جب یہ اقتدار میں نہیں ہوتے۔ ان کی بے چینی اظہر من الشمس ہوتی ہے۔ یہ اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ لمحوں میں بھول جاتے ہیں اور اس کے الٹ بات کرتے ہیں۔ یا شاید یہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں، کیونکہ ایسا وہی آدمی کرتا ہے جسے اگلے آدمی کی بے وقوفی پر مکمل یقین ہو۔ اور ان کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کو عوام بھی وہ ملی ہے جس کو بے وقوف بنانا اتنا ہی آسان ہے جتنا منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا۔
شریف خاندان نے حکومت کے طویل دور میں کیا نہیں کیا، یہ گننے بیٹھیں تو فہرست لمبی ہو جائے گی۔ پولیس کے نظام کی مثال لیں، آج بھی تھانیدار کے کمرے میں جانے والا عام شہری وہی پرانی دھمکیاں اور “اوئے تُو کون ہے؟” والا لہجہ سنتا ہے۔ اگر پولیس والوں کا اندازِ گفتگو سنا جائے، تو ایسے لگتا ہے جیسے اس ملک میں سکول نام کی کوئی چیز نہیں اور ماں باپ نے بھی بچوں کو تمیز سکھانا مدتوں سے چھوڑ دیا ہے۔ پولیس والوں کی گفتگو اور رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے اس قوم کی تربیت کبھی ہوئی ہی نہیں۔ اگر پولیس کسی ملک کی تہذیب کا آئینہ ہوتی ہے تو ہمارا آئینہ شاید برسوں سے ٹوٹا ہوا ہے۔ پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کرنا کبھی ان کی ترجیح نہیں بنی۔ ہاں، اگر پولیس کی وردی کا رنگ تبدیل کرنا اصلاحات کہلایا جا سکتا ہے تو پھر مان لیتے ہیں کہ انہوں نے واقعی "بہت کچھ” کیا ہے۔
ٹریفک کا حال ایسا ہے کہ لاہور کی میٹرو بس دیکھ کر لگتا ہے جیسے پورا پنجاب جدید ہو گیا، مگر لاہور سے باہر نکلتے ہی سڑکوں پر وہی ٹوٹے سگنلز اور ٹریفک وارڈن کی سیٹی بجانے کی ناکام کوششیں نظر آتی ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب میں کہیں بھی آپ نکل جائیں، سڑک پر گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والا، ٹرک یا بس چلانے والا دندناتا ہوا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اسے کوئی ڈر نہیں ہے، اسے کوئی خوف نہیں ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر یہاں ڈرائیور کو خوف نہیں آتا، کیونکہ خوف صرف اس کو آتا ہے جو قانون کو زندہ دیکھتا ہو۔ یہاں تو قانون خود کسی بس کے نیچے آ کر کب کا مر چکا ہے۔ چھوٹے شہروں میں ٹریفک قوانین کا نفاذ ایسا خواب ہے جسے دیکھتے ہوئے آنکھ بھی شرما جائے۔
عدالتی نظام بھی ویسے کا ویسا ہے۔ انصاف آج بھی برسوں کی دھول میں اٹکا رہتا ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو 20-25 سال سے مقدمات کے فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ نہ وہ سزا یافتہ ہیں اور نہ ان کی بے گناہی کا فیصلہ ہو سکا ہے۔ انصاف کی رفتار ایسی ہے جیسے گدھے پر بیٹھا کوئی بوڑھا ڈاکیا ہو جو کبھی خط منزل تک پہنچا دے اور کبھی نہیں۔ ہمارے عدالتی نظام میں تاریخیں اتنی بار پڑتی ہیں کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں اپنی زندگی کے باقی دن جج صاحب کے انتظار میں گزار دیتے ہیں، اور کبھی کبھی تو انصاف قبر کے کتبے پر ہی لکھا جاتا ہے۔ ان تیس سالوں میں عدالتی اصلاحات کے لیے ایک بھی بنیادی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ کیونکہ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ تیز انصاف دینے سے ان کی اپنی سیاسی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔
تعلیم اور صحت کا ذکر کریں تو ہنسی اور افسوس ایک ساتھ آتے ہیں۔ دیہاتی اسکولوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہاں کے کچھ اساتذہ جاہلوں سے بھی بدتر لگتے ہیں۔ ان کا علم بچوں کو کچھ نہیں سکھاتا بلکہ خود جہالت کی داستان سناتا ہے۔ کلاس روم کی دیواروں پر رنگ و روغن کے بجائے مکڑ جالے ہیں، اور بچے گدے کی جگہ ٹوٹی ہوئی چارپائی پر بیٹھے مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسپتالوں کی حالت بھی کمزور ہے، اور دیہاتوں میں حاملہ خواتین اب بھی گدگدی کرتے حکیم اور نیم حکیم کے سہارے رہتی ہیں۔
مارکیٹ کنٹرول ان کے بس کی بات کبھی نہیں رہی۔ آج بھی دکاندار سرکاری ریٹ کی دھجیاں اڑا کر اپنی مرضی کی قیمت لگاتا ہے، اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔
بجلی، پانی اور نکاسی آب کے مسائل آج بھی وہیں ہیں۔ دیہات کے لوگ بجلی کے انتظار میں راتیں جاگتے ہیں، اور پانی کی ایک بالٹی بھرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔
یہ جتنے بھی مسائل کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے، یہ حل اس لیے نہیں ہوئے اور ان میں کوئی بہتری اس لیے نہیں آئی کہ یہ سب کچھ ان کی سوچ میں، ان کے ویژن میں، ان کی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہا۔
اور پھر سوال یہ اٹھتا ہے: اتنے طویل دور حکومت میں یہ سب نہ کر سکے تو باقی کیا رہ گیا؟ کیا ان کو مزید 50 سال بھی دیے جائیں تو یہ پولیس کو عوامی خدمت گار بنا دیں گے؟ کیا تعلیمی نظام جدید ہو جائے گا؟ کیا ہر گاؤں میں بجلی، پانی اور اسکول فراہم ہو جائیں گے؟ سچ کہوں تو نہیں۔ اگر ان کو 100 سال بھی دے دیے جائیں تو شاید لاہور میں مزید دو میٹرو لائنیں ضرور چل جائیں، لیکن عوام کے بنیادی مسائل ویسے ہی رہیں گے۔
ان کا وژن محدود ہے، سوچ چھوٹی ہے، اور اپروچ صرف دکھاوے کے منصوبوں تک محدود ہے۔ وہ کام جو ایک عام حکومت کے بنیادی فرض ہیں—قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح—یہ سب ان کے لیے ہمیشہ “غیر دلچسپ” شعبے رہے۔
مورخ جب ان کے ادوار پر نظر ڈالے گا تو شاید یہ لکھے گا کہ “یہ وہ حکمران تھے جو ترقی کو سڑکوں کے افتتاح، رنگین بینروں اور اشتہاری مہمات میں تلاش کرتے تھے۔” بلکہ ہو سکتا ہے مورخ اپنی کتاب کا قلم ہی توڑ دے اور کہے: “بھائی، میں اس کہانی کو لکھنے سے بہتر ہے کوئی چھابڑی لگا لوں۔”
اصل مسئلہ وقت کا نہیں، سوچ کا ہے۔ ان کے پاس وہ وژن ہی نہیں جو عوام کے بنیادی مسائل کو حل کر سکے۔ ان کی ترقی وہی فوٹو سیشن تک محدود رہی ہے۔ اگر انہیں 100 سال بھی دے دیے جائیں تو پنجاب کے حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی، کیونکہ ان کے منصوبے عام آدمی کی زندگی سے زیادہ ان کے اپنے سیاسی شو پیس کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
اس وقت شریف خاندان پھر حکومت میں ہے، پنجاب میں بھی اور وفاق میں بھی۔ میری اللہ کے حضور انتہائی عاجزی سے دعا ہے، اور شریف خاندان سے التجا ہے کہ جتنی مدت ان کی حکومت میں باقی ہے کچھ ایسے کام کر جائیں کہ تاریخ میں کہیں تو ان کا اچھے الفاظ میں ذکر ہو۔ ورنہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ تاریخ بے رحم اور مورخ سفاک ہوتا ہے۔ اور حساب تو دینا پڑتا ہے۔
براہ کرم میرے پڑھنے والے مجھے یوتھیا نہ کہیں۔
میری باتوں کو صرف نواز شریف کی عقیدت کے آئینے میں مت دیکھیں۔
غیر جانبداری سے کام لیں اور انصاف سے کام لیں،
اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جو میں نے تجزیہ پیش کیا، کیا وہ غلط ہے؟