جب قوم پرستی خدا بن جائے

ہمارے ملک میں آئے دن کوئی نہ کوئی نیا واقعہ سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے۔ کبھی قدرتی آفت کے باعث لوگوں کا جان سے جانا، اور کبھی خود انسانوں کے ہاتھوں اپنے ہی گھر کی بیٹیوں کے سینے میں گولیاں اُتار دینا۔ لیکن ان واقعات میں جو چیز سب سے زیادہ خطرناک اور مسلسل نظر آتی ہے، وہ ہے اس قوم کا اجتماعی رویہ جو ہر سانحے پر خاموش رہتی ہے، اور ہر ظلم پر ثقافت، روایت یا غیرت کا پردہ ڈال دیتی ہے۔ یہی وہ اجتماعی سوچ ہے جس کی جڑیں قوم پرستی کے زہر سے بھری ہوئی ہیں ۔ وہ قوم پرستی جو انسانیت کو چھوڑ کر "غیرت” جیسے کھوکھلے تصورات سے وابستہ ہو چکی ہے۔

یہی قوم پرستی جب عورت کے وجود کو قومی وقار، خاندانی عزت، یا قبیلائی غیرت کی علامت بناتی ہے، تو ہر اُس عورت کو مجرم سمجھا جاتا ہے جو اپنے لیے کوئی انتخاب کرنا چاہے۔ حالیہ دنوں میں بھی ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس میں کئی درندوں نے ایک لڑکی کو اس قدر بے دردی سے قتل کیا کہ محض ایک یا دو نہیں، بلکہ کئی گولیاں اُس کے سینے میں اتاری گئیں۔ اُس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اُس نے پسند کی شادی کی تھی یا اپنے پرانے رشتوں کو چھوڑ کر نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کی تھی۔

تصویر کے دونوں رُخ ہو سکتے ہیں، شاید اُس کا انتخاب غلط ہو، شاید اُس کی نیت ٹھیک نہ ہو، شاید اُس نے کسی کا دل دکھایا ہو، لیکن کیا یہ اس بات کا جواز بن جاتا ہے کہ ایک انسان کو سرِعام درجنوں گولیاں مار کر قتل کر دیا جائے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اُس جہالت، ان نام نہاد جرگوں، پنچایتوں، اور ثقافتوں نے جو خود انسانوں نے ہی تراشی ہیں ، ایسے غیر انسانی فیصلے سنائے۔ ان خودساختہ ثقافتی ڈھانچوں کو جنون، تکبر، نفرت اور کم ظرفی کے مواد سے بنایا گیا، اور پھر پوجا بھی انہیں چیزوں کی گئی۔ کسی کو اگر زنا یا پسند کی شادی پر قتل کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے، تو یہ اختیار آپ کے اُس تیسرے درجے کے بنائے ہوئے کلچر نے گھڑا ہے، نہ کہ کسی آسمانی قانون نے۔

اس نے گناہ کیا یا نہیں، یہ فیصلہ کرنے والے آپ کون ہوتے ہیں؟ اور اگر کوئی گناہ تھا بھی، تو اتنی بھیانک سزا کس معاشرے میں جائز ہے؟ یہ کس نے نافذ کی؟ سوال کریں خود سے۔ جواب نہیں ملے گا، اور ملے گا بھی نہیں۔ کیا یہ سب آپ کے خدا نے کہا تھا؟ کیا یہ اسلام نے کہا تھا؟ نہیں یہ سب آپ کی اس قوم پرستی نے کہا ہے، جو آپ کی زندگی کے ہر پہلو میں حاوی ہے۔ یہی قوم پرستی آپ کا وہ ذریعہ ہے جس سے آپ کے سارے اخلاقی پیمانے جنم لیتے ہیں ۔آپ کا صحیح اور غلط کا تعین، آپ کی اقدار، آپ کی غیرت، سب کچھ اسی سے آتا ہے۔ اور یہ تو محض ایک واقعہ ہے، ایسے ہزاروں ” واقعات آپ کا یہ نیشنلزم روزانہ آپ سے کرواتا ہے ۔اور آپ گھٹنوں کے بل اس کے آگے جھک جاتے ہیں، مکمل طور پر اس کی عبادت کرتے ہیں۔

اورہمارے کچھ لبرل طبقات کو ایک بار پھر ایک "مسالہ دار” خبر مل جاتی ہے جسے لے کر وہ اسلااور، قرآن ٓکے خلاف اپنا سارا زہر اگلنے لگے۔ جس اسلام کے نام پر آپ یہ گھناؤنے کام کرتے ہیں، وہ آپ کا خودساختہ اسلام ہے۔ آپ جو آیتیں پڑھتے ہیں، جو فتوے دیتے ہیں، وہ سب آپ کی اپنی گھڑی ہوئی تشریحات ہیں۔

اللہ کا اصل اسلام یہ نہیں۔ آپ نے اُس اسلام کو دیکھا ہی نہیں۔ اُس میں تو یہ کہا گیا ہے کہ: "اپنی زبان، اپنے ہاتھ، اور اپنے الفاظ کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھو، جو ایسا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔” اُسی اسلام میں کہا گیا کہ ایک انسان کا قتل، پوری انسانیت کا قتل ہے۔ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو، مشکل نہیں۔ مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ اپنے ہمسایوں کے ساتھ ایسا سلوک کرو کہ وہ تمہاری وجہ سے تنگ نہ ہوں۔ یہی وہ دین تھا جس نے اُن تہذیبوں کو دفن کر دیا جن میں عورت کی کوئی عزت نہیں تھی، جہاں عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا، جہاں اُسے جانوروں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔اسلام نے عورت کو گھر کے اندر تحفظ دیا، وراثت میں حق دیا، پسند کی شادی کا اختیار دیا۔

اسلام نہ تو زبردستی شادی کا قائل ہے، نہ ہی صرف رشتہ داروں کے درمیان بندھن باندھنے کا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میرے باپ نے میری زبردستی شادی کی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کہو تو ابھی تمہارا نکاح ختم کروا دوں؟” یہ وہ اسلام ہے جس نے عورت کو زبان دی، مقام دیا، حیثیت دی۔ لبرل طبقے کو یہ علم نہیں کہ یہ وہ تہذیب ہے جس میں بیٹی کو بھائی، باپ یا چچا خود استعمال کرتے تھے ، جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا تھا عورت کے ساتھ۔
اسلام نے ان سب رسومات کو ختم کیا اور عورت کو وہ مقام دیا جس کی وہ حقدار تھی۔

اور آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ ہے تمہارا اسلام؟” نہیں، یہ اسلام نہیں ہے، یہ آپ کا اپنا بنایا ہوا معاشرہ ہے، آپ کی بنائی ہوئی ثقافت ہے، جو اسلام کے نام پر ظلم کرتی ہے۔ اور جب اس کا دفاع کیا جاتا ہے، تو آپ کو بس اسلام کو گالیاں دینا آتا ہے، نہ کہ اصل مسئلے کو پہچاننا۔غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے لوگ نظر انداز کرتے ہیں اور وہ ہے قوم پرستی یعنی نیشنلزم۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جو ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے جینز میں گھس چکا ہے۔ آپ کے علاقے، آپ کے ادارے، آپ کی کانفرنسیز، یہاں تک کہ آپ کے تعلیمی نصاب سب اسی نیشنلزم کے زہر سے بھرے ہوئے ہیں۔ سب اپنی قوم، اپنی زبان، اپنے علاقے کو دوسرے سے بہتر ثابت کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ یہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ یہ کسی خاندان، ادارے، مذہب، یا طبقے کو نہیں چھوڑتا ، سب کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔جب یہ وائرس اپنے مختلف رنگ دکھاتا ہے ۔

کبھی سندھی، کبھی بلوچ، کبھی پنجابی، کبھی پشتون، کبھی کشمیری تو سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔ نفرت کے کیمیکل سے بنے اس وائرس کے اثرات سے معاشرہ چیخنے لگتا ہے، بیٹیوں کے سینوں میں گولیاں اترتی ہیں، تعلیمی ادارے غنڈہ گردی کا گڑھ بن جاتے ہیں، اور لوگ خود ہی قانون ساز اور منصف بن بیٹھتے ہیں۔جب ہر طبقہ اپنے بنائے ہوئے اصول نافذ کرتا ہے، تو تصادم ہوتا ہے ۔پھر نہ انسانیت بچتی ہے، نہ عزت، نہ انصاف۔ یہی وہ انجام ہے جو ہم نے حالیہ واقعات میں بھی دیکھا کہ ایک لڑکی کی لاش پر سب چپ کھڑے تھے۔

یہ وائرس پوری نسلوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اور جب یہ آنکھوں میں خون بھر دیتا ہے، تو سب ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کو اس کی نسل، زبان، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر پرکھنے لگتا ہے۔ یہ وہی طرزِ فکر ہے جو ایک بار جرمنی میں ایک نسل نے اپنائی تھی ۔ اور پھر آدھی دنیا تباہ ہو گئی تھی۔ آج ہم بھی اسی سوچ کے پیروکار بن چکے ہیں، اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے معاشرے کو برباد کر رہے ہیں۔نیشنلزم کا یہ وائرس صرف تباہی لاتا ہے۔ یہ اسلام کا حکم نہیں بلکہ یہ آپ کی خودساختہ پیداوار ہے۔ آپ نے خود یہ زہر بنایا، خود ہی اسے پالا، اور اب جب یہ قابو سے باہر ہو گیا ہے، تو آپ کے پاس کوئی ویکسین نہیں۔ اگر اتنا ہی علم ہوتا، تو آپ اسے روکتے، اس طوفان کو پلٹنے کی طاقت رکھتے۔

جب آپ عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ، یہ مسئلہ صرف مشرق کا نہیں۔ امریکہ جیسی جگہ پر بھی ہر سال سینکڑوں عورتیں عزت، ریپ یا تعلقات کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں وہاں تو اسلام نہیں، پھر کیا ہوگا؟ مسئلہ مذہب کا نہیں، مسئلہ ذہنیت کا ہے۔اسلام کو نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر آپ واقعی اس معاشرے، ان عورتوں، ان اداروں کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے اس نیشنلزم جیسے وائرس کو جڑ سے ختم کریں، اور اپنے خود ساختہ نظریات کو درست کریں۔آپ اسلام کو ہر مسئلے کی جڑ سمجھتے ہیں، مگر وہ "ویکسین” جس کی تلاش میں آپ پوری دنیا چھان ماریں گے ۔وہ آپ کو صرف اور صرف قرآن میں ہی ملے گی۔ وہی قرآن جس میں رنگ، نسل، جنس، حیثیت سب سے بلند صرف تقویٰ ہے، اور کسی کو جان سے مارنے یا عزت پامال کرنے کا کوئی حق نہیں۔اگر زنا ہو بھی جائے، تو قتل یا درندگی کا حکم اسلام نہیں دیتا ، وہاں قانون موجود ہے، اور انصاف کا راستہ ہے۔ پسند کی شادی گناہ نہیں، زبردستی کی شادی نکاح ہی نہیں، یہ سب قرآن اور سنت نے واضح کر دیا ہے۔ اگر آج بھی ہم نہ سمجھے تو ہماری تباہی یقینی ہے ۔جیسے پہلے کی قومیں اپنے غرور میں ڈوب کر مٹ گئیں۔تواے انسان! عقل سے کام لے، تکبر چھوڑ، نفرت چھوڑ، ورنہ یہ معاشرہ مزید اندھیروں میں گرتا جائے گا ااور شاید واپسی کا کوئی رستہ باقی نہ رہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے