ایبٹ آباد : ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا نے یونیسف کے تعاون سے انسداد پولیو میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں شرکا کو پولیو پروگرام کے بارے میں معلومات کی فراہمی، انسداد پولیو کے خاتمے کیلئے جاری کوششوں کو بہتر انداز سے رپورٹ کرنے، جھوٹی خبروں اور منفی پروپیگنڈہ کی روک تھام اور انسداد پولیو میں میڈیا کے نمائندوں کے کلیدی کردار بارے آگاہی فراہم کی گئی۔
ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور ای او سی کوارڈنیٹر شفیع اللہ خان اور پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض نے مشترکہ طور پر اس سیشن کی صدارت کی۔ورکشاپ کے دوالگ الگ سیشنز میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے 25 ہیلتھ رپورٹرز،پشاور پریس کلب کابینہ کے اراکین،سابق صدر پشاور پریس کلب ارشد عزیز ملک،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ، ہمشیر صحت آفس اور محکمہ اطلاعات خیبر پختونخواکے نمائندوں نے شرکت کی۔ورکشاپ میں ڈپٹی کوارڈنیٹر ای او سی، یونیسف اور عالمی ادراہ صحت کے نمائندوں، سمیت ای او سی کے دیگر حکم بھی موجود تھے۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/ای او سی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ حکومت کی پوری انتظامی مشینری، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور محکمہ صحت کے اہلکار پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، تاہم حکومتی مشینری اکیلے انسداد پولیو کی اس چیلنج سے نمٹ نہیں سکتی اور اسے میڈیا سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے تعاون کی ضرورت ہے۔ پولیو کے خاتمے میں میڈیا کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی برادری اپنی موثر رپورٹنگ کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے اور ان کی سوچ اور تاثرات بدلنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ صحافی معاشرے کی سطح پر پولیو ویکسین سمیت دیگرحفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ صوبے سے پولیو مرض کے مکمل خاتمے کیلئے انسداد پولیو پروگرام سے اپنا تعاون او ر حمایت جاری رکھیں۔
انسداد پولیو بارے اپنی ٹیکنیکل پریزنٹیشن میں عالمی ادارہ صحت کے صوبائی انسدادپولیو آفیسر ڈاکٹر سردار عالم نے متعدی اور غیر متعدی امراض، ضروری حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام، پولیو وائرس کی ابتدا،وبائی امراض، پولیو وائرس کی مختلف اقسام اور ویکسی نیشن کے ذریعے انسداد پولیو کو یقینی بنانے پر شرکاء کو بریف کیا۔ انہوں نے ویکسی نیشن کے ذریعے موذی امراض سے بچاؤ کی تدابیر، انسداد پولیو مہمات کی کامیابیوں اور درپیش چیلنجوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا ۔ ڈاکٹر سردار عالم نے کمیونٹی کی سطح پر اعتماد سازی کو فروغ دینے اور لوگوں میں ویکسین کی قبولیت بڑھانے کے بارے میں ان کی سوچ اور تاثرات تبدیل کرنےکیلئے میڈیا کے کردار پربھی روشنی ڈالی۔
کمیونیکیشن آفیسر یونیسف شاداب یونس نے شرکاء کو صحت کے حوالے سے میڈیا رپورٹنگ پر رہنمائی فراہم کرتے ھوئے کہا کہ لوگوں کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی میں بہترین ہیلتھ رپورٹنگ کا کلیدی کردار ھے کیونکہ صحت کے شعبے میں موجود مسائل سے متعلق میڈیا کے ذریعے بہترین آراء اور تجاویز سامنے آنے سے اس شعبے میں کافی بہتری لائی جاسکتی ھے۔ انہوں پولیو رپورٹنگ کے حوالے سے شرکاء کو بتایا کہ صحافیوں کو پولیو کی مناسب اور صحیح رپورٹنگ یقینی بنانے کیلئے مخصوص تکنیکی مہارتوں اور علم کی ضرورت ھوتی ھے۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ پولیو ویکسینیشن سے انکاری والدین کو بچوں کی ویکسینیشن کی جانب راغب کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
سینٹر صحافی اور سعید منہاس نے ورکشاپ کے شرکاء کو لوگوں کی سوچ اور رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کیلئے ایسی رپورٹس بنانے پر رہنمائی فراہم کی جن کی بدولت لوگوں کی صحت پر مثبث اثرات مرتب ھو سکیں۔
ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے اپنے خطاب میں پشاور پریس کلب کے صدرایم یاض نے اس ورکشاپ کے انعقاد پرای او سی اور یونیسف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو کے قومی فریضہ کی ادائیگی کے سلسلے میں میڈیا کی حمایت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ آج اس ورکشاپ میں سینئر صحافیوں، پریس کلب کے موجودہ اور سابقہ صدور سمیت اس کی کابینہ کے ممبران اور صحت کے شعبے سے منسلک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعدادس ورکشاپ میں موجود ھے۔
انہوں نےپریس کلب کی جانب سے اس موذی مرض کے مکمل خاتمے اور اس موذی مرض سے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انسداد پولیو پروگرام کو اپنی بھرپور تعاون کی یقین دہائی کرائی۔انسداد پولیو پروگرام کے ٹیکنیکل ماہرین نے میڈیا نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دئیے۔ شرکاء نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو مزید بہتر بنانے اور اس مرض کے خاتمے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفکیٹس اور شیلڈز بھی تقسیم کئے گئے۔