جدید مغربی اکیڈمک، پالیسی اور میڈیا ڈسکشنز میں ایک انتہائی نمایاں حقیقت یہ ہے کہ 1979ء کے اسلامی انقلاب اور اس کے نتیجے میں قائم سیاسی نظام کے خلاف خود ساختہ ایرانی ماہرین میں تقریباً ایک جامع اتفاق رائے موجود ہے۔ مغرب میں رہنے والے ایرانی نژاد ماہرین میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حامیوں کی کمی نہیں ہے مگر قانونی خطرات، نظریاتی تعصب، اور ادارہ جاتی بندش کے باعث انھیں اوپر آنے کا موقع نہیں ملتا ہے اور انھیں مین سٹریم میڈیا سے خارج کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مغرب میں ایران پر مباحثے یکطرفہ اور متعصب بن چکے ہیں۔
مغربی اکیڈمی اور پالیسی اداروں میں ایرانی نژاد ماہرین کی اکثریت اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہے تاہم انھیں تین طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں کچھ تو نفرت کی حد تک اسلامی جمہوریہ کے خلاف ہیں۔ کریم سجادپور (“کارنیگی”)، عباس میلانی (“سٹینفورڈ”)، ولی نصر (“جان ہاپکنز”)، اور رے تقیئی (“کونسل آن فارن ریلیشنز”) ایران کو آمرانہ اور توسیع پسند ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
کچھ تنقیدی یا اصلاح پسندانہ مؤقف رکھتے ہیں۔ مثلاً تریتا پارسی (کوئنسی انسٹیٹیوٹ)، علی واعظ (“کرائسس گروپ”)، صنم وکیل (برطانیہ کا ادارہ “چیٹم ہاؤس”)، اور رضا مرعشی (امریکی محکمہ خارجہ کا سابق اہلکار) سفارتکاری کے حامی ہیں مگر ایران کے نظام کا دفاع نہیں کرتے۔
انتہائی دوسری جانب نوبل انعام یافتہ شیرین عبادی، وائس آف امریکہ کی سابق ملازمہ معصومه علی نژاد المعروف (Masih Alinejad)، اور حامد اسماعیلیون کھلے طور پر نظام کی تبدیلی کے حامی ہیں۔ ان کے علاوہ نازنین بنیادی جن کی شہرت “بانڈ گرل” کی سی ہے، یہ انتہائی غرب زدہ ایرانی ڈائسپورا کی نمائندگی کرتی ہیں جو رجیم چینج چاہتے ہیں۔
صرف محمد مرندی (تہران یونیورسٹی) مغربی میڈیا میں ایران کے مؤقف کا دفاع کرتے ہیں، مگر انہیں “پروپیگنڈا باز” قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تیسری کیٹیگری میں جو بھی تھوڑا بہت ایران کی موجودہ حکومت کے حق میں بات کرتے ہیں انھیں راندۂِ درگاہ سمجھا جاتا ہے۔ کیان تاجبخش اور سحر نوروز زادہ کو دونوں اطراف سے شک و شبہ کا سامنا رہا ہے۔
ایران کے موجودہ نظام کے خلاف یہ شدید مزاحمت کسی معروضی تجزیہ، متنوع علمی تحقیق یا زمینی بنیادوں پر مبنی نہیں، بلکہ مغربی اداروں میں موجود ایک گہرےسٹرکچرل تعصب کا نتیجہ ہے، جو تنگ نظری کی نظریاتی ہم آہنگی کو سراہتے ہیں، جبکہ متوازن یا ہمدرد آوازوں کو خارج یا بدنام کر دیتے ہیں۔
اس صورتحال سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: جب مغربی حکومتوں کے لیے ایران کے بارے میں معلومات کا بڑا حصہ انہی شخیصات سے آتا ہے جو نظام کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کے داخلی امور کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، تو کیسے حقیقت پسندانہ، مؤثر اور درست پالیسی بنائی جا سکتی ہے؟
اس اکیڈمک عدم توازن کی بنیادی وجہ مغربی اداروں کے اندر کا سٹرکچرل تعصب ہے۔ امریکی و یورپی یونیورسٹیاں، تھنک ٹینکس اور پالیسی سینٹرز—جیسے ہارورڈ، پرنسٹن، بروکنگز، چیٹم ہاؤس، روسی (RUSI) اور جرمن مارشل فنڈ—ایران سے وابستہ اُن آوازوں کو سراہتے کرتے ہیں جو سیکولر لبرل فریم ورک سے ہم آہنگ ہیں۔
ان اداروں کا عمومی مفروضہ یہ ہوتا ہے کہ لبرل سیکولرزم ہی روشن فکری اور سیاسی ترقی کی علامت ہے۔ ہمارے جیسے بہت سارے لیفٹسٹ اسی گمان میں بڑھے پلے ہیں۔ اس سوچ میں اسلامی حکومت کو ابتدا سے ہی پسماندہ، غیر قانونی یا غیر منطقی قرار دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سوآس (SOAS) پروفیسر ارشین عابد‑مقدّم کہتے ہیں کہ
“The Islamic Republic is treated as a monolith, and no conceptual space is given to understanding its adaptive complexity or internal legitimacy.”
(اسلامی جمہوریہ کو ایک وحدانی نظام سمجھا جاتا جس میں کسی اور تصور کی گنجائش ہی نہیں ہے، اور اس کی اندرونی پیچیدگی، ارتقائی صلاحیت یا داخلی قانونی جواز کو سمجھنے کے لیے کوئی فکری گنجائش فراہم نہیں کی جاتی ہے۔)
جو ایرانی امور کے سکالرز انقلاب کے لیے ہمدردی ظاہر کرتے ہیں یا اس کے اداروں کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ان پر فوراً متعصب یا “پراپیگنڈسٹ” کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، جبکہ جن کا موقف ایران کے خلاف کھلی دشمنی پر مبنی ہوتا ہے، انہیں بہادر منحرفین (dissidents) قرار دے کر سراہا جاتا ہے۔
نتیجتاً مغربی ایران پر ہونے والے بحث مباحثے ایک ایسے “ایکو چیمبر” (echo chamber) محسوس ہوتے ہیں جو نظریاتی تنوع کو منظم انداز میں ختم کرتے ہیں جس میں صرف ایران-مخالف گفتگو کی گنجائش رہ جاتی ہے۔ یہ رویہ صرف ایران کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، اُن دیگر ممالک کے بارے میں بھی ہے جو مغرب کی سٹریٹجی کے فریم میں “دشمن” سمجھے جاتے ہیں۔۔
اس انسٹیٹیوشنل فریم ورک کے تعصب کے ساتھ ساتھ، مغربی ماہرین میں ایرانی ڈائیاسپورا کی سماجی اور طبقاتی شناخت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ زیادہ تر ایرانی اکیڈمیکس، تبصرہ نگار اور پالیسی مشیَر مغرب میں ایسے سیاسی اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں جو 1979ء کے انقلاب کے بعد زوال یا جبر کا شکار ہوئے۔
وہ غالباً بادشاہی نظام، سیکولر نظریات رکھتے تھے، سیکیولر نیشنل ازم یا بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ تھے، جن کی انقلاب کے بعد سیاسی و معاشرتی طاقت ختم ہو گئی۔ ان کا انقلاب سے تعلق صرف فکری نہیں بلکہ تاریخی صدمے، تلخ یادوں اور “نظریاتی زہریلاپن” (ideological toxity) سے متاثر جذباتی اور ذاتی بھی ہے۔
ان کے لیے اسلامی انقلاب صرف سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اُس دنیا کا خاتمہ ہے جہاں ان کے خاندانوں کا وقار اور علمی و ثقافتی حکمرانی تھی۔ ان کی علمی تحریر اکثر اس ماضی کے زیرِ اثر غیر ارادی طور پر تشکیل پاتی ہے، جس کی وجہ سے وہ انقلاب کو ایک جائز سیاسی حقیقت کے طور پر اس کے اندرونی منطق، تسلسل یا عوامی حمایت کے ساتھ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ تر مغرب میں مقیم ایران تجزیہ کار عوامی حمایت، انتخابات میں شرکت یا مذہب کے سماجی کردار جیسے بنیادی حقائق کی درست تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔ سید حسین نصر، اُن کے صاحبزادے ولی نصر اور ڈاکٹر علی انصاری شاہی خاندان اور سابق نظام سے قربت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
مغربی میڈیا میں “ایران پول”، “گیلپ”، یا “دی ورلڈ ویلیوز سروے” جیسے قدرے معتبر بین الاقوامی سروے اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں یا ان کے چنیدہ اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں۔ جب ایسی ریسرچز پیش کی جائیں جن میں ایرانی عوام کی اکثریت ایران کے بنیادی اداروں یا خارجہ پالیسی کو سپورٹ کرتی دکھائی دے، تو بہت سے تجزیہ کار ان نتائج کو غیر متعلقہ یا من گھڑت قرار دے دیتے ہیں۔ جیسا کہ پروفیسر عمار مالکی (گامان انسٹیٹیوٹ، نیدرلینڈ) نے کہا:
“Data that does not confirm the narrative of regime collapse is simply not discussed.”
(وہ اعداد و شمار جو حکومت کے خاتمے کے بیانیے کی تائید نہیں کرتے، اُنہیں سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں لایا جاتا۔)
دوسری طرف عجیب بات یہ ہے کہ عمار مالکی—جو ایران کے نظام کے نقاد ہیں—ان کے ادارے کی رپورٹ میں ایران کے اندر مذہبی اقدار اور خود مختاری کے حوالے سے عوامی سطح پر حمایت کے جذبات سامنے آئے، لیکن مغربی تھنک ٹینک کے حلقوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی دوران ڈاکٹر اسکندر صادقی بروجردی، جن کی کتاب Revolution and Its Discontents: Political Thought and Reform in Iran ایرانی سیاست پر ایک پراثر تنقیدی لیکن غیر جلاوطن ایرانیوں جیسا تعصبانہ مباحث سے گریز کرتے ہیں، انھیں مغربی مباحث میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
جبکہ ایسے تبصرہ نگاروں اور تجزیہ کاروں کو ترجیح دی جاتی ہے جن کے پاس زمینی معلومات کم ہوتی ہیں، زبان و محققانہ قوت نہ ہونے کے باوجود وہ کھلے طور پر ریجیم چینج کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوتے ہیں تو انھیں بہت پزیرائی ملتی ہے، مثلاً وائس آف امیریکہ کی سابق صحافی معصومہ علی نژاد کو لے لیجیے۔
دوسری جانب جان ہاپکنز یونیورسٹی کی اینتھروپولوجسٹ، ڈاکٹر نرگس باجغلی، جنہوں نے پاسداران انقلاب (IRGC) کے میڈیا پروڈیوسرز کے اندرونی منطق پر ایتھنوگرافک ریسرچ پیش کی، اور ان کی کتاب “ایران ریفریمڈ” (Iran Reframed) ایک نادر مثال تھی جس میں “دشمن کی آواز سننے” کی کوشش کی گئی، لیکن بعض مغربی ناقدین نے اس پر “ایرانی رجیم کو نارملائز” کرنےکا الزام عائد کیا۔ جیسا کہ وہ لکھتی ہیں:
“Trying to understand how people inside the system view themselves is not an endorsement of their power—it’s a prerequisite to any serious political analysis.”
(نظام کے اندر موجود لوگوں کے اپنے بارے میں نظریات کو سمجھنے کی کوشش کرنا، ان کی طاقت کی تائید نہیں ہے— بلکہ یہ کسی بھی سنجیدہ سیاسی تجزیے کی بنیادی شرط ہے۔)
اس قسم کے تعصب کے نتیجے میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جو اپنے آپ کو صرف تقویت دیتا رہتا ہے چاہے اس کے لیے اسے زمینی حقائق یا سچ کو کچلنا ہی کیوں نے پڑے۔ مغربی اسٹیبلشمنٹس اور میڈیا ایرانی ماہرین کے ایک محدود حلقے کو ایران کی سمجھ بوجھ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یہ ماہرین اپنے میزبانوں کے سابقہ تعصبات کی تائید کرتے اور انہیں بڑھاتے ہیں، ایران کو ایک ایسی سوسائٹی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کے خلاف مستقل بغاوت میں مصروف ہے۔ اس کے بعد پالیس ساز ان مبہم اور غیر حقیقی تصورات کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی بناتے ہیں—چاہے وہ پابندیاں ہوں، “زیادہ سے زیادہ دباؤ” ہو، یا خفیہ آپریشنز ہو۔
جب ان حکمت عملیوں میں ناکامی ہوتی ہے، جو اکثر ہوتی ہے، جیسا کہ اسرائیلی حملے کے دوران ہوا، تو وہی ماہرین دوبارہ زیادہ شدت سے یہ بیان کرتے ہیں کہ ایرانی عوام مظلوم، خاموش، ڈرے ہوئے ہیں؛ سقوط ابھی باقی ہے، اور مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جب کہ پیچیدہ، کثیرالثقافتی، مذہبی اور حب الوطنی سے سرشار حقیقی ایرانی سوسائٹی مغربی مباحثوں میں نظر انداز کی جاتی ہے۔
اس کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس اتفاق رائے سے الگ موقف اختیار کرنے کی بھاری سماجی اور تعلیمی قیمت ہوتی ہے۔ مغربی اکیڈمیا میں انقلاب پر تحقیق کرنے والے نوجوان ایرانی اسکالرز، بیسج کے سماجی پروگراموں یا شیعہ سیاسی تھیولوجی پر غیر محاکمہ طرز میں کام کرنے والے اکثر نوکرانی نہ ملنے کے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔
اِن نوجوان سکالرز کو اُن کے اداروں، تھنک ٹینکس اور سپروائزرز کی جانب سے تنبیہ کی جاتی ہے، انھیں کانفرنسوں سے خارج کیا جاتا ہے، گرانٹس سے محروم رکھا جاتا ہے، ان کی ریسرچز کو جرنلز میں شائع ہونے سے روکا جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک نوجوان اسکالر نے ایک سرکش میگزین “جدلیہ” (Jadaliyya) میں رازداری کے ساتھ کہا:
“You are free to write about Iran, but only if it fits the template: women oppressed, regime irrational, collapse imminent.”
(آپ ایران کے بارے میں لکھنے میں آزاد ہیں، لیکن صرف اسی صورت میں جب وہ ایک خاص ٹیمپلیٹ پر پورا اترتے ہوں: عورتیں مظلوم ہیں، حکومت غیر معقول ہے، اور اس کا زوال قریب ہے۔)
اگر کوئی سکالر آیت اللہ خامنہ ای کے آئینی نظریے یا مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) کے ڈھانچے پر مقالہ لکھتا ہے، تو اسے مغربی اداروں میں ملازمت ملنا مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسے سکالرز جو صرف دانشورانہ آزادی یا روشنی چاہتے ہیں، مثلاً پولنگ ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیہ کرتے ہیں، سرکاری دستاویزات کا مطالعہ یا عام ایرانیوں کا آزادانہ انٹرویو کرتے ہیں، ان پر “آمرانہ حکومت کی توثیق” کا الزام لگتا ہے۔
ایرانی‑امریکی ڈائیاسپورا میں بھی تنقیدی تحقیقات کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے جس کی قیمت بہت بڑی ہے۔ سکالرز جیسے ڈاکٹر اصل رعد (Asal Rad) اور ڈاکٹر نگار مرتضوی (Negar Mortazavi)، جو جنگی بیانیوں کو مسترد کرتے ہیں اور ایرانی سوسائٹی کی حقیقی تصویر پیش کرنے پر زور دیتے ہیں، انہیں بھی تَنقید اور بدنامی کا نشانہ بنایا جاتا ہے—اگرچہ وہ ریاستی جبر کی بھی کھل کر مخالفت کرتے ہیں۔
یہ وہ ریسرچر سکالرز ہیں جو عموماً ایران کی اسلامی حکومت پر تنقید کرتے ہیں لیکن اپنے تجزیے میں زمینی حقائق کو دانشورانہ ایمانداری سے پیش کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر سخت تنقید کی جاتی ہے کیونکہ ان کا جرم یہ ہوتا ہے کہ یہ صرف رژیم‑چینج کے نظریے کی حمایت نہیں کرتے۔
اس کے برعکس جو مروجہ ٹیمپلیٹ میں فٹ بیٹھتے ہیں، چاہے ان کی تحقیقی قابلیت کچھ بھی نہ ہو، انہیں مغربی پارلیمانی بریفنگز، اہم نیوز چینلز اور پالیسی حلقوں میں جگہ دی جاتی ہے۔ مثلاً مَعصومہ (مسیح) علی نژاد یا حامد اسماعیلیون جیسے افراد، جن کے پاس تحقیقی تجربہ یا زمینی رسائی نہ ہو، پھر بھی انہیں اعلی سطح پر سنا جاتا ہے۔
ان کا بیان—کہ سلامی جمہوریہ ایرانی عوام کے اندر مقبول نہیں ہے، اور سقوط قریب ہے—کو پروپیگنڈا نہیں، بلکہ سچ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا امیج فراہم کرتا ہے جو مغربی پالیسی ساز اداروں کو سیاسی فائدہ دیتا ہے: دباؤ، پابندیاں، تنہائی، اور مغربی طاقتوں کو یقین دلاتا ہے کہ وہ تاریخ کے “صحیح رخ” پر ہیں۔
مجھے یہاں یاد پڑتا ہے کہ جب مغربی میڈیا شام کے بشارالاسد کے خلاف زبردست پراپیگنڈا کر رہے تھے تو انھوں نے شام کے امور کے بارے میں ایک ماہر پی ایچ ڈی سکالرز ڈھونڈی جو مغربی بیانیے کو پیش کرتی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ نہ وہ پی ایچ ڈی تھی نہ ہی کوئی شام کے امور کی ماہر۔
ایران کے بارے میں لیکن اس مینوفیکچرڈ اتفاق رائے کے نتائج سنگین ہیں۔ مغربی تجزیہ کار بار بار ایرانی ریاست کی مضبوطی، اداروں کی ترتیب، اور عوام کی یکجہتی سے حیران رہ جاتے ہیں، خاص طور پر جب ایران بیرونی جارحیت یا داخلی بحران کا سامنا کرتا ہے۔
وہ انتخابات، احتجاجات اور سیاسی ترتیبوں کو غلط سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اسلامی جمہوریہ—خواہ اس میں خامیاں ہوں یا اختلافات—اپنی قوت پائے دار سیاسی تھیولوجی، تاریخی شعور اور خود مختاری کے وژن سے لیتا ہے، جو بڑی تعداد میں ایسے لوگوں میں نظر آتا ہے جو اسے مسلط کردہ نظام کے بجائے، خود کا آزادانہ سیاسی انتخاب سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ پروفیسر محمد مرندی کہتے ہیں:
“Iran is not a regime imposed on an unwilling society. It is a system produced by the aspirations of a people who overthrew both monarchy and foreign domination.”
(ایران ایک ایسا نظام نہیں ہے جو کسی غیر رضامند معاشرے پر مسلط کیا گیا ہو۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو عوام کی خواہشات کی پیداوار ہے جنہوں نے بادشاہت اور غیرملکی تسلط دونوں کو اکھاڑ پھینکا۔)
اگر مغربی ادارے واقعی ایران کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو انہیں اس نظریاتی تعصب کے تسلط کو توڑنا ہوگا۔ انہیں ایسے نظریاتی علوم کو شامل کرنا چاہیے جو ایرانی معاشرے کی بنیاد پر ہوں، انقلابی فکر سے واقف ہوں، اور تنقیدی مگر مہذبانہ مکالمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
انہیں ایران کو ایک خاص عوام دشمن نظام یا “مرض” قرار دینے سے باز آنا چاہیے، اور اسے ایک تاریخی اور ثقافتی عقل کے نتیجے کے طور پر سمجھنا چاہیے جیسا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے مرحوم پروفیسر رے متحدہ نے کیا۔ کسے بھی قوم کی طرح ایرانی معاشرہ مسلسل ارتقا کر رہا ہے۔ اور اسے رجیم چینج سمجھنے کی بجائے ارتقا ہی سمجھنا چاہیے۔
حقیقی ماہر وہ نہیں جو نظریاتی ہم آہنگی یا ماضی کی تلخی پر مبنی ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو تنوع سے ڈرتا نہیں اور ان آوازوں کو سننے کو تیار ہوتا ہے جو مختلف سوچ رکھتی ہیں۔ مغربی طاقتیں صرف تب ایسی پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہیں جو استعماری خواہشات پر مبنی نہ ہوں بلکہ حقیقت پر مبنی ہوں۔