علمی دنیا میں استاد و شاگرد کا رشتہ ایک مقدس بندھن ہوتا ہے۔ ایک طرف رہنمائی کرنے والا، تجربے کا آئینہ ہوتا ہے، تو دوسری طرف سیکھنے والا، جذبہ اور جستجو کی علامت ہوتا ہے۔ میرا تعلق بھی ایک ایسی ہی علمی و فکری شخصیت سے ہے، جنہیں میں نہ صرف اپنا استاد مانتا ہوں بلکہ فکری رہنما بھی۔ وہ شخصیت ہیں امیر جان حقانی صاحب۔
امیر جان حقانی نہ صرف ایک ممتاز لیکچرر ہیں، بلکہ ایک باوقار قلم کار، محقق، اور تجزیہ نگار بھی ہیں۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ علمی توازن، فکری وسعت اور دینی حمیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں کئی نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن چکی ہیں، اور میں خود ان سے بہت کچھ سیکھ چکا ہوں۔
جب حضرت جامعہ اسلامیہ نصرت الاسلام میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے میں درجہ اولی کا طالبعلم تھا ۔۔حضرت ہی کے مشورے سے میں نے عصری تعلیم کی طرف رخ کیا اور انہیں کی سرپستی میں تیاری کی اور مجھے انہوں نے علم التعلیم،سوکس،اور اردو جیسے مضامین پڑھائی۔۔۔وہ بھی جامعہ کے تعلیمی اوقات کے علاوہ یہ ان کی اعلی ظرفی تھی کے انہوں نے اپنا قیمتی وقت مجھے فراہم کیا۔
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سیکھنے اور سمجھنے کے اس سفر میں کبھی کبھی اختلافِ رائے بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر یہی اختلاف ایک زندہ علمی ماحول کی علامت ہے۔ اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ تعلقات میں دراڑ آ جائے، بلکہ یہ تو علمی فضا کو مزید گہرا کرتا ہے۔
میرے اور میرے استاد کے درمیان کبھی کچھ باتوں پر مختلف نقطہ نظر ہوتے ہیں، مگر ہم دونوں اس اختلاف کو دل پر نہیں لیتے، بلکہ اسے فکری تبادلہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ یہی حقیقی علمی ماحول ہوتا ہے، جہاں ہر شخص اپنی سوچ رکھتا ہے، مگر دلوں میں وسعت اور احترام باقی رہتا ہے.