یادِ عندلیبؔ شادانی ؛ ایک علم و احساس کی کہانی

آج، 29 جولائی، اردو ادب کے اُس درخشاں ستارے کا یومِ وفات ہے جو مشرقی پاکستان کے افق سے طلوع ہوا، مگر جس کی تابانی نے پوری اردو دنیا کو منور کر دیا.

ایک ہمہ جہت شخصیت

ڈاکٹر عندلیبؔ شادانی (1904 – 1969) صرف شاعر نہیں تھے، وہ بیک وقت ادیب، نقاد، مترجم، ماہرِ تعلیم اور محقق بھی تھے۔ اُن کی تحریر میں صرف الفاظ کا حسن نہیں، فکر کی گہرائی، زبان کا وقار، اور علم کا نور بھی جھلکتا ہے۔ ان کا اندازِ سخن کلاسیکی رنگ میں بھی رچا ہوا ہے اور جدید حسیت سے بھی ہم آہنگ ہے۔ ان کی زندگی مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) جیسے خطے میں بسر ہوئی، جہاں اردو کے لیے زمین اتنی ہموار نہ تھی مگر عندلیبؔ نے اردو کو وہاں بھی گل و گلزار بنایا۔

شاعری: احساس، حکمت اور جمالیات

عندلیبؔ شادانی کی شاعری میں درد بھی ہے، بصیرت بھی، اور ایک تہذیبی تسلسل بھی۔ ان کے اشعار صرف زبان کا جمال نہیں، دل کا ملال، وقت کا تجزیہ اور روح کا نچوڑ ہیں۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قاری ایک ندی کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو، جس کا ہر موڑ کوئی نیا منظر دکھاتا ہے ، کبھی محبت کا، کبھی تنہائی کا، اور کبھی خود احتسابی کا۔

علم و تدریس: ایک خاموش انقلاب

ان کی علمی خدمات صرف لکھنے تک محدود نہ تھیں۔ بطور استاد انہوں نے نسلوں کی ذہنی تربیت کی، نئی فکری راہیں دکھائیں اور اردو زبان و ادب کی تدریس میں بلند معیار قائم کیے۔ ان کے شاگرد آج بھی اُن کی علمی دیانت، تحقیق کی ژرف نگاہی، اور تدریسی شرافت کو یاد کرتے ہیں۔

تحقیق اور ترجمہ: ایک فکری پُل

عندلیبؔ شادانی نے اردو کو صرف مقامی نہیں، عالمی فکری دھاروں سے بھی جوڑا۔ ان کی ترجمہ نگاری میں غیر معمولی مہارت نظر آتی ہے انہوں نے صرف الفاظ کو نہیں، بلکہ فکر کو منتقل کیا۔ اسی طرح ان کی تحقیقی تحریریں اردو ادب کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ایک ایسے محقق تھے جنہیں ماضی کی گہرائی اور حال کی نزاکت دونوں کا شعور حاصل تھا۔

ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر عندلیبؔ شادانی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ علم، ادب اور زبان کا اصل جوہر خلوص، محنت اور فکری ایمانداری میں پوشیدہ ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ تخلیق فقط مشق نہیں، ایک روحانی تجربہ ہے ، ایک ایسا تجربہ جو نہ صرف قاری کو متاثر کرتا ہے بلکہ خود تخلیق کار کو بھی سمو دیتا ہے۔

"دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا، ویسے ہم گھبرائے تو”

یہ شعر دل کی تہہ سے نکلی ہوئی ایک ایسی صدا ہے جو نہ صرف جذبے کو چھو لیتی ہے بلکہ قاری کو عندلیبؔ شادانی کے فکری اور جذباتی کینوس سے آشنا بھی کرتی ہے۔

ان جیسے ادیب کم ہی پیدا ہوتے ہیں، اور جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اُن کی یاد، اُن کی کتابوں، اشعار اور علمی تحریروں میں زندہ رہتی ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

اللہ تعالیٰ عندلیبؔ شادانیؔ کی مغفرت فرمائے، اور ہماری نسلوں کو ان کی علمی و ادبی وراثت سے سیراب ہونے کی توفیق دے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے