بنیادی حقائق پر ایک اجمالی نظر

حق پسند ہدایت اور سچائی، حقیقت پسند حقوق اور فرائض، امن پسند قانون اور ضابطے، معقول فرد اخلاقیات اور اقدار جبکہ ترقی پسند علم اور استحکام کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔

جو دماغ سے کام لیتا ہے وہ لائق جو دل کے سنتا ہے وہ صوفی جو کلاس کو سمجھاتا ہے وہ استاد جو دوسروں کی بات کرتا ہے وہ سیاستدان، جو مادے کی کوکھ میں چھپے خزانوں کو تلاش کرکے نکال رہا ہے وہ سائنسدان اور جو معاوضہ لے کر خدمات فراہم کرنے والے ہیں ان میں سے جو صرف محنت سے کام لیتے ہیں تو وہ لیبر اور اگر مہارت کو بھی کام میں لاتے ہیں تو وہ پروفیشنل کہلائے جاتے ہیں۔

دوسرے اکثر چار چیزوں کی بدولت متاثر ہوتے ہیں یا قابو میں آتے ہیں۔ علم، دولت، حسن اور طاقت۔ کمزور دل، ذہن اور بازوں کے حامل لوگ ہمیشہ غیروں کی جانب دیکھتے ہیں، غیروں پر انحصار کرتے ہیں اور غیروں سے ہی فائدے یا نقصان کی توقعات اور خدشات باندھ لیتے ہیں۔

عقلمند ماضی سے سیکھتا ہے، حال میں رہتا ہے اور مستقبل کی جانب سمجھداری سے بڑھتا ہے۔ بیوقوف ماضی میں رہتا ہے، حال میں سوتا ہے اور مستقبل میں جا گرتا ہے۔ کام کے دوران پیش آنے والے مشکلات پر قابو پانے سے بندہ تجربہ کار ہوتا ہے جبکہ دوسروں کے سنگین حالات اور سانحات سے سیکھنا مقام عبرت ہوتا ہے۔

اچھائی خدا پر ایمان سے شروع ہوتی ہے، انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے مزید بڑھتی ہے اور انصاف کے ساتھ اسبابِ زندگی کے استعمال سے یہ درجہ کمال کو پہنچتی ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ سب کچھ خدا نے پیدا کیا ہے اور وہی حقیقی مالک ہے۔ ان سب کچھ میں جو ہمارے سامنے یا اختیار میں ہیں دوسروں کا بھی اور آئیندہ نسلوں کا بھی اس میں حصہ ہے۔

جب انسان باطن سے شفاف ہوتا ہے تو مخلص کہلاتا ہے جب ظاہراً ٹھیک چلتا ہے تو خوش اخلاق سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم و دائم ہو تو نیک قرار پاتا ہے اور مخلوق خدا سے اگر کوئی اپنا معاملہ درست رکھتا ہو تو وہ ایک اچھا انسان خیال کیا جاتا ہے۔

ہر فرد قدرت کے اس خزانے سے بقدرِ ضرورت، بصورت استحقاق اور بحد انصاف لینے کا حق دار ہے زیادہ کا نہیں جو زیادہ کے حرص و ہوس میں مبتلا رہتا ہے وہ ظلم ڈھاتا ہے اور اکثر و بیشتر تو کم سے بھی محروم رہتا ہے۔ طاقت اور اختیار کا ناجائز اور ظالمانہ استعمال کرتے ہوئے کوئی اگر دوسروں کے حقوق اور وسائل پر قبضہ جما لیں یا ان کی آزادی اور تحفظ کے لیے خطرہ بن جائے تو اسے قطعاً خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کے مقابلے میں خدا آئے گا جس سے بچ کر گزرنا کسی کے بس میں بھی نہیں۔

جو لوگ میسر اوقات، مواقع اور وسائل سے بروقت کام لیں وہ کامیاب ہوتے ہیں اور جو ان جواہر کو ضائع کر بیٹھیں تو تکلیف دہ ناکامیاں ان کے دامن میں پڑتی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا عطائیں قدرت نے تمام انسانوں پر بڑی حد تک یکساں کی ہے لیکن ان کو برتنے کا انداز ہر ایک کا مختلف ہوتا ہے خواہ فرد ہو یا قوم اور پھر نتائج بھی اس حساب سے مختلف پائے جاتے ہیں۔

تہذیب انسان کی سوچ، اپروچ، عقیدے اور باطن کی زمین پر موجود اس جوہر کا نام ہے جو انسانی زندگی اور رویوں کی تشکیل کا کام کرتی ہے۔ تہذیب اور زندگی ایک دوسرے کو ففٹی ففٹی کے حساب سے متاثر کر رہی ہیں۔ تہذیب کے اثرات تو ویسے پوری زندگی کا احاطہ کر رہی ہیں لیکن مظاہر اس کے چند ایک ہی ہیں۔ انفرادی طور پر اس کے چار مظاہر دیکھنے والوں کو نظر آتے ہیں طعام، لباس، کلام اور انتخاب۔ اس طرح اجتماعی طور پر پانچ مظاہر دیکھائی دیتے ہیں یعنی اخلاقیات، علمیات، معاشیات، سماجیات اور سیاسیات۔

زندگی کے بارے میں انسان کا بنیادی نقطہ نظر تب درست ہوتا ہے جب اس کا ایک سرا خدا کے ساتھ اور دوسرا آخرت کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ زندگی اور کائنات کا مالک خدا ہے اس طرح زندگی و کائنات کا انجام آخرت ہے لہذا ان دونوں کو اگر اپ زندگی سے مائنس کروں گے تو بھٹک جاؤں گے۔

دنیا ایک ایسی سڑک ہے جس پر اربوں گاڑیاں تیزی سے مختلف سمتوں میں رواں دواں ہیں۔ یہاں احتیاط، ادراک اور اعتدال حفاظت کی واحد ضمانت ہے ان خوبیوں کو نظر انداز کر کے کوئی اندھا دھند دوڑے گا تو اس کا حادثے سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ محفوظ ڈرائونگ کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ "آپ اپنے سوا تمام ڈرائیوروں کو پاگل سمجھ کر اگے بڑھے”۔

موت روز زندگی کی بے ثباتی پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے لیکن انسان پھر بھی زندگی میں اتنا مگن ہے کہ اسے موت یاد نہیں۔ موت کو روزانہ کے حساب سے یاد رکھنی چاہیے کہ اس سے زندگی میں توازن، سنجیدگی اور حقیقت پسندی ایسی خوبیاں جنم لیتی ہیں۔ عبادات کا اہتمام، معاملات میں شفافیت، اخلاق میں بلندی، جذبات میں ٹہراؤ اور اوقات میں نظم و ضبط ایسی نورانی اوصاف جو موت کی گہری یاد سے وابستہ ہیں۔ موت کی یاد بندے کو حساس اور موت سے غفلت اسے بے حس بنا دیتی ہے۔ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ

"موت سے بڑھ کر انسان کے لیے کوئی ناصح نہیں”
(الحدیث)

معاملات دو طرح کے ہوتے ہیں ایک چاردیواری کے اندر والے اور ایک چاردیواری کے باہر والے۔ اندر والے عورت کی سپرد ہیں اور باہر والے مرد کے حوالے۔ گھر والے امور میں عورت کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذوق و مزاج اور بہترین خدا داد صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے ایک "چاردیواری” کو حقیقی معنوں میں سکون و آسودگی، خیر و برکت اور محبت و اتحاد کا گہوارہ بنا سکے۔ ان معاملات کو خلط ملط کرنا تباہ کن نتائج لاتا ہیں ایسا کرنا فطرت کے ساتھ لڑائی کا آغاز بھی ہے۔

ہر زمانے کے اپنے علوم اور تقاضے ہوتے ہیں۔ بقاء اور ارتقاء کے واسطے ان پہ دسترس پانا ایک لازمی سبجکٹ ہے جس میں فیل ہونا یا کمزور ہونا زوال سے آشنا کر رہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی زمانہ حال کا وہ واحد تسلیم شدہ پیمانہ ہے جس پہ قوموں کے عروج و زوال کے فیصلے ہو رہے ہیں کوئی مانیں یا نہ مانیں حقیقت بہر حال یہی ہے۔

جس معاشرے میں بزرگوں کا احترام، خواتین کا وقار، چھوٹوں پر شفقت اور نوجوانوں پر اعتماد نہیں کیا جاتا وہ دیوالیہ ہوتا ہے۔ بزرگ معاشرے کا ماضی اور ان کا ذہن تجربے کی طاقت سے بھرا ہوتا ہے۔ جوان قوموں کا حال ہے اور ان کی قوت بازو میں حالات کا دھارا موڑنے کا قوی امکان موجود ہوتا ہے ان پر اعتماد ضروری ہے۔ بچے دنیا کا مستقبل ہوتے ہیں۔ شفقت اور محنت سے ان کی تعلیم و تربیت کا مناسب اہتمام سب سے قیمتی قومی اور انفرادی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

اب رہا معاملہ خواتین کا۔ سچ پوچھیے تو عورت ہی انسانیت کا ماضی، حال اور مستقبل سمیت سب کچھ ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی چیز کا تصور ہی ممکن نہیں بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ "سماج میں شرافت اور رزالت کا اساسی پیمانہ ہی عورت سے رواں رکھنے والا سلوک ہے”۔ عورت کے بغیر گھر ویران، سماج صحرا، زندگی منجمد اور مستقبل مخدوش ہوتا ہے۔

جو مشقت کے بغیر آگے بڑھنے، عبادت کے بغیر مطمئن رہنے، اتحاد کے بغیر طاقت پانے اور ذمہ داری اٹھانے کے بغیر عزت پانے کا خیال رکھتے ہیں وہ دنیا کے احمق ترین لوگ ہوتے ہیں۔

انسان چار جواہر کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جسم، روح، دماغ اور جذبات۔ جسمانی غذا اشیا میں، روحانی غذا احوال میں، دماغی غذا علم میں اور جذباتی غذا رشتوں سے انہیں میسر آتا ہے۔

ایک بندے کا جتنا ظاہر ہوتا ہے اتنا ہی اس کا باطن بھی ہوتا ہے۔ ظاہر مخلوق کی نظر میں ہوتا ہے جبکہ باطن پر خالق کائنات کی نظر رہتی ہے۔

کائنات اور کائنات میں موجود تمام چیزیں بشمول انسان آپ سے، آپ کے اپنے رویے اور اندازے کے مطابق چلتی ہیں یہی وجہ ہے ہم روز دیکھتے ہیں کسی کے حصّے میں پھول آرہے ہیں تو کسی کے حصّے میں پتھر۔ کوئی محبت کا حامل ٹھہرتا ہے اور کوئی نفرت کا نشانہ بنتا ہے۔ کوئی نگاہوں میں جگہ بنا لیتا ہے اور کوئی بوجوہ نظروں سے گر جاتا ہے۔

ہم میں سے ہر بندہ دوسروں کے لیے تسلی کا سامان ہے یا پھر تشویش کا باعث، یہ بات ہر ایک کا اپنا کردار اور رویہ طے کر رہا ہے۔ اچھے اخلاق والوں، میٹھے زبان والوں، خدمت کے جذبے سے سرشار لوگوں اور مشکل وقت میں کام آنے والوں کو یقین کرنا چاہیے کہ وہ اربوں لوگوں کے لیے تسلی کا سامان ہے اور ان ہی خوبیوں کے متضاد رویے رکھنے والوں کو تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ مخلوق خدا کے لیے تشویش اور اذیت کا باعث ہیں۔

رشتہ دو چیزوں سے مل کر بنتا ہے ایک ڈھانچہ دوسری روح۔ خلوص اور خیر خواہی دونوں کو برابر و متوازن رکھتے ہیں لیکن اگر یہ کہیں پہ کم یا ختم ہو جائیں تو ڈھانچہ ٹوٹنے میں اور روح نکلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ کتنی بیویاں اور شوہر باہم وفادار نہیں ہوتے، کتنے بچے بچیاں نافرمان بن جاتے ہیں اور کتنے دوست و احباب ایک دوسرے کے لیے اذیت کا باعث بنتے ہیں علی ھذا القیاس۔

اجتماعی ترقی، خوشحالی، سکون اور آسودگی کے لیے باہمی معاونت، لگا تار محنت، مضبوط وحدت، مربوط مشاورت اور مخلصانہ شراکت سے بڑھ کر کوئی فارمولہ ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا۔ یہ وہ نسخہ کیمیاء ہے جو قوموں کو اگے بڑھنے کے لیے پر لگاتا ہے۔

دنیا کھیت ہے اور آخرت منڈی، یہاں عمل ہے وہاں ثمر، یہاں کام ہے وہاں نتیجہ، یہاں کفر و ایمان ہیں وہاں جنت و جہنم، یہاں احکام ہیں وہاں انعام، یہاں روگردانی ہے تو وہاں عذاب۔

ہم انسانوں میں بے شمار تقسیم موجود ہیں لیکن سب سے گہری اور مضبوط تقسیم نظریاتی اور اخلاقی ہوتی ہے باقی سب ثانوی اور جزوی۔

معاشرے میں حقوق اور فرائض کا معاملہ اگر درست ہو جائے تو یقین کریں باقی سب معاملات آپ سے آپ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ حقوق اور فرائض کا معاملہ اجتماعی زندگی کے لیے سب سے بنیادی، سب سے اہم اور سب سے نازک ہوتا ہے یہاں اصلاح ہو جائے تو پھر آگے خیر ہی خیر ہے اور اگر یہاں ٹھوکر لگیں تو پھر اگے ٹھوکر ہی ٹھوکر ہیں۔

اولاد اللہ تعالیٰ کی جانب سے نعمت، امانت، رحمت اور مسرت ہوتی ہے۔ خاندان وہ سائبان ہوتا ہے جو خدا کے بعد سب سے بڑا محافظ ہے۔ بیوی سے بڑھ کر شاہراہِ حیات میں کوئی رفیق نہیں ہوسکتی۔ والدین وہ ٹھنڈا میٹھا سایہ ہیں جو زمانے کی کوئی سختی یا تکلیف اپنے اولاد کو پہنچنے نہیں دیتا جبکہ بہن بھائیوں کے گھیرے میں تو ہر انسان سب سے زیادہ خوشی اور آسودگی محسوس کر رہا ہے۔

بیٹیاں والدین کے لئے باعث آجر و فخر ہیں۔ خاندان کی عزت ہے، مسرت ہے، شرافت ہے، طمانیت ہے۔ گھروں کی رونق ہے، برکت ہے، رحمت ہے، تہذیب کی علامت ہے۔ معاشرت کی آن ہے، شان ہے، مان ہے۔

انسان نے اپنے تاریخی سفر میں مذہب سے بڑھ کر رہنما اور ریاست سے بڑھ کر خادم کوئی نہیں پایا لیکن ان دونوں کے بارے میں انسانی سوچ یکساں نہیں۔ مذہب بعض لوگوں کے نزدیک محض عبادات کا مجموعہ ہے جبکہ بعض لوگوں کے لیے ایک پورا نظام زندگی۔ اس طرح ریاست بعض لوگوں کے خیال میں فوج اور پولیس کی ہم معنی چیز ہے جبکہ بعض کے لیے اپنے ہی گھر کی مانند ہوتی ہے۔

بہتری نفاست سے شروع ہوتی ہے، محنت اور ڈسپلن سے بڑھوتری پاتی ہے اور بندے کا اپنی حدود تک اپنے آپ کو پابند رکھنے میں کمال کو پہنچتی ہے۔

قانون کی نظر میں سب برابر ہیں لیکن سب کی نظر میں قانون برابر نہیں یہی وجہ ہے کہ فیصلہ آنے پر کوئی میں سے ایک فریق لازم ناراض ہوتا ہے۔ زیادتی کہاں ہوئی؟ کیا ہوئی؟ کیوں ہوئی؟ کتنی ہوئی؟ کیسے ہوئی؟ یہ راز خدا یا متعلقہ فریق ہی جانتا ہے باقی سب اندازوں پہ چلتے ہیں کوئی فیصلہ ٹھیک ہوا تو ٹھیک رہا اور غلط ہوا تو غلط سہی اس لیے میرا ماننا ہے کہ ٹھیک ٹھیک انصاف اس دنیا میں بوجوہ ممکن ہی نہیں یہ سبجکٹ آخرت یا خدا سے متعلق ہے۔ خدا چاہے تو کسی کو اس کی زیادتی پر اس دنیا میں پکڑیں اور نہیں تو آخرت ہے ہی ٹوٹلی انصاف کے لیے۔

جتنی توقعات ہم دوسروں سے باندھ لیتے ہیں اور پھر لامتناہی انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں وہ اگر خدا اور خود سے لگا لیں تو بخدا ان کے پورے ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

قوموں کی آبادی اور بربادی میں لیڈروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لیڈر درست ہو جائیں تو پھر ڈرامے بھی ٹھیک بنتے ہیں اور لیڈر ٹھیک نہ ہو تو پھر سنجیدہ ترین قومی معاملات میں بھی ڈرامے بازیاں ہوتے رہتے ہیں۔

عصر حاضر میں اسلامی فکر کی تجدید، ترتیب، تدوین، تشکیل اور تبلیغ میں جو کردار مولانا مودودی رحمہ اللہ اور حسن البناء شہید رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے وہ بصد ادب واحترام تسلیم کرنے کا قابل ہے اور تسلیم کرنا اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ان کو پڑھا اور سمجھا جائیں اور ہاں مقدور بھر اس مشن کی تکمیل میں ساتھ بھی دیا جائے جو انہوں نے چھوڑا ہے بلاشبہ ان بزرگوں نے دین کی بہترین خدمت انجام دی ہے اور سچ پوچھیں تو دراصل انسانیت کی بہترین رہنمائی کر کے اس پر خالق کائنات کی منشاء وقت اور حالات کے سانچے میں اور مزاج و زبان کے مروجہ معیار پہ واضح کی ہے۔ ایسا کرنا عمل، عقل و انصاف کا ایک اہم تقاضا ہے اس کو نظر انداز کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ اعتراف با کردار شخصیات کا حق ہوتا ہے اس میں بخل سے کام قطعاً نہیں لینا چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے