پڑی بنگلہ، گلگت بلتستان کا طویل واٹر چینل جولائی کے مہینے میں کئی مرتبہ ٹوٹا۔ یہ چینل تقریباً بارہ میل یعنی سترہ کلومیٹر طویل ہے اور ایک ایسی پُرخطر وادی سے گزر کر آتا ہے جہاں ہر طرف کھائیاں اور نرم ریت پھیلی ہوئی ہے۔ اس چینل کی خرابی سے علاقے کے لوگوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ ہزاروں درخت، فصلیں، سبزیاں اور کھیتیاں سوکھ گئیں اور بہت سی امیدیں بھی دھول بن کر اُڑ گئیں۔ لوگوں پینے کے پانی تک، بری طریقے سے متاثر ہوئے۔ بدقسمتی سے پڑی بنگلہ والوں کا کوئی پُرسان حال بھی نہیں ۔
اتفاق سے جولائی میں میری چھٹیاں تھیں۔ میں نے گھر کے پلستر اور دیگر تعمیراتی کاموں کی منصوبہ بندی کی تھی، سارے انتظامات مکمل تھے، مگر پانی اور بجلی کی شدید قلت کے باعث ان کاموں کا آغاز ممکن نہ ہو سکا۔ بظاہر یہ ایک پریشان کن صورتحال تھی، لیکن اس کا ایک غیر متوقع فائدہ یہ ہوا کہ مجھے مطالعہ اور تحریر کے لیے بے پناہ وقت مل گیا۔
یوں میں نے دن رات پڑھنے اور لکھنے کو اپنا معمول بنا لیا۔ جب کبھی تھکن یا بوریت محسوس ہوئی تو، ایک کپ دودھ پتی کڑک چائے بنوائی، اس کی چسکیاں لیتے ہوئے کسی انوکھے اور سماج کے زندہ موضوع پر قلم اُٹھا لیا اور گھنٹوں گھنٹوں بیٹھ کر مفصل مضامین لکھے۔ واٹر چینل ٹوننے کی وجہ میرے ذاتی باغیچے، سبزیاں اور کھیت بھی خاصے متاثر ہوئے، اور تعمیراتی منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہوا، مگر اس آزمائش کو میں نے ایک موقع میں بدل دیا، ایک ایسا موقع، جو مطالعے کی طرف لوٹنے، سوچنے اور لکھنے کی نئی راہیں کھولنے کا سبب بن گیا۔
یارو!
آپ کو ایک بات بتاتا ہوں، اسکو پلے باندھ لو، یقین کرو بہت سکھی رہو گے اور زندگی بھر کام آئے گی۔
” اگر انسان مشکلات کو مات دے کر اُن میں سے مواقع کشید کرے۔ اللہ رحیم ذات ہے اس کی طرف سے ہر رکاوٹ میں کوئی نہ کوئی حکمت اور مہربانی چھپی ہوتی ہے، بس نظرِ مثبت اور جذبہ درکار ہوتا ہے۔ جو لوگ صرف روتے، منہ بسورتے اور شکایتیں کرتے ہیں، وہ زندگی کو اور زیادہ بھاری بلکہ مصبیت بنا لیتے ہیں، جبکہ باحوصلہ لوگ اُسی اندھیرے میں اُمید کی روشنی تلاش کر لیتے ہیں۔”
انتہائی آسان الفاظ میں یہ ذہن نشین کرلیجیے کہ
"مشکل وقت اگر حوصلے سے جِیا جائے تو وہی وقت سب سے بڑی کامیابی کا دروازہ بن جاتا ہے۔”