یورپ اپنی گوناگوں خوبیوں، حال احوال، کشش، ترقی اور خوبصورتی کی بدولت میرے لیے ہمیشہ سے دلچسپی اور رغبت کا مرکز بنا رہا ہے۔ میں ہمیشہ دوستوں سے ایک دلچسپ خیال شیئر کرتا رہتا ہوں کہ
"میں دینی طور پر اسلامی، جسمانی طور پر ایشیائی، اخلاقی طور پر مشرقی، روحانی طور پر صوفی، ذہنی طور پر فلسفی جبکہ ذوقی طور پر خالص یورپی ہوں”۔ یہ گویا میرا تعارفی خاکہ ہے کہ جو دو عشروں پر محیط شعوری زندگی کا حاصل حصول ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی میں حیران کن ترقی، صنعت و حرفت میں انقلاب سے دنیا کو روشناس کرانا، فلاحی و رفاعی ریاستی ڈھانچے، نظم و ضبط کا زبردست اہتمام، ائین و قانون کی پاسداری، صفائی و نفاست کا عمومی چلن، آزادی و رواداری کو لامحدود وسعتیں دلانا، انسانی تحفظ اور سہولت کو خاص اہمیت دینا، قدرتی حسن اور ماحولیاتی خوبصورتی، مذہبی و ثقافتی تنوع، اپنے نظام میں تعلیم و صحت کو اولین ترجیح دینا، اجتماعی زندگی میں حد درجہ احساس ذمہ داری، دنیا بھر سے انسانی وسائل، سرمایہ اور مہارتوں کو ہاتھوں ہاتھ لینا، سکولر نظام اور مزاج رکھنے کے باوجود دنیا کے سب سے بڑے مذہب کو اپنے دامنِ قلب و نظر میں سمونا، عالمی سیاست میں گوں متنازعہ لیکن فرانس اور جرمنی کا محوری کردار، خوشحالی اور ترقی کے ثمرات کو عام آبادی تک پھیلانا، طاقت اور اقتدار کو کسی ایک طبقے یا کلاس کے قبضے میں نہ رہنے دینا، اختلاف رائے کو انسان کا ناقابل انکار حق ماننا، خواتین کو اپنے نظریے اور تہذیب کے تناظر میں واضح اور ٹھوس کردار دینا، یہ اور اس طرح کے دوسرے بے شمار حوالے جو یورپ کا طرہ امتیاز ہیں کوئی بھی شخص جو دل و دماغ، عقل و شعور، انکھیں اور کان رکھتا ہو، وہ یورپ میں موجود مختلف رنگوں، ڈھنگوں، خوشبوں، ذائقوں اور لطافتوں کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
یورپ مغربی تہذیب کی جائے پیدائش اور گڑھ ہے۔ میں جب بھی مغرب و مشرق کے تہذیبی دھاروں پر غور کرتا ہوں تو مجھے کئی چیزیں مختلف جبکہ کئی ایک مشترک بھی نظر آتی ہیں۔ مختلف چیزیں دیکھتا ہوں تو نظر آتا ہیں کہ
مغرب مادیت کا علمبردار ہے اور مشرق روحانیت کا،
مغرب کا جھکاؤ زمین کی طرف ہے اور مشرق کا اسمان کی طرف،
مغرب محسوسات کا آسیر ہے جبکہ مشرق آقدار کا،
مغرب میں "آج” کا معاملہ اہم ہے جبکہ مشرق میں "کل” کا،
مغرب میں جدت کی قدر ہے اور مشرق میں قدامت کی قدردانی،
مغرب میں مفادات قریب لاتا ہے اور مشرق میں اخلاقیات اور جذبات،
وہاں جو اہمیت راحت و آزادی کی ہے عین وہی اہمیت یہاں مذہب اور پابندی کی ہے،
ایک کے ہاتھ میں تکمیل خواہش کی رسی ہے تو دوسرے کے ہاتھ میں روحانیت اور الہام کی،
مغرب کا زور ڈسپلن پر ہے جبکہ مشرق کا صبر پر،
مغرب میں اعصاب پر کمیونٹی سوار ہے اور مشرق میں یہی حیثیت خاندان کو حاصل ہے،
ایک سود و زیاں کے تناظر میں اگر کوئی رویہ عملی طور پر اختیار کرتا ہے تو دوسرے کو اس میں ظالمانہ روش اور خدا ناشناسی نظر آتی ہے اور دوسرا کوئی غیبی محرکات کے تحت اگر کچھ کر گزرتا ہے تو پہلے کو وہاں پہ انسانی حقوق کی پامالی اور آزادی کی نفی نظر آتی ہے۔
مغرب و مشرق میں اختلافی لکیروں نے آقداری روایتوں، تہذیبی اظہاریوں، اخلاقی رویوں، عملی نمونوں، ذہنی رجہانات اور جذباتی مظاہر سمیت ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔
لیکن اس کے باوجود دونوں تہذیبوں میں کچھ مشترکات بھی پائی جاتی ہیں۔
دونوں کے حاملین زمین پر ہیں،
دونوں تہذیبوں کو انسان کے ذہن رسا نے وجود بخشا ہے،
دونوں نے تاریخ کی کوکھ سے جنم لیا ہیں،
دونوں کے طنابیں انسان کے قلب و نظر میں پیوست ہیں،
دونوں کے حاملین اللہ تعالیٰ، اس کے پیغمبروں اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں،
مغرب و مشرق کے رہنے والوں میں خوشی اور غم دونوں یکساں ہیں، رونے اور ہنسنے کا انداز بھی ایک جیسا ہے، دونوں تہذیبوں کے حاملین میں بنیادی رشتوں کا احساس اور اہتمام بہر صورت پایا جاتا ہے،
دونوں میں خدا، نبوت اور آخرت کا بنیادی تصور موجود ہے جبکہ دونوں تہذیبیں کسی حد تک ایک دوسرے سے کسی حد تک اثر بھی لیتی ہیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ مغربی تہذیب سر تا پا ایک مادی تہذیب ہے جبکہ زندگی کے اخلاقی اور روحانی پہلوں بڑی حد تک نظر انداز ہیں اس لیے وہاں مادی دائرے میں تعمیر و ترقی، چمک دھمک اور رونق تو ضرور موجود ہے لیکن حقیقی اطمینان کوئی نہیں۔ وہ متوازن تصور زندگی موجود ہی نہیں جو انسانوں پر مادی آسائشوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے معنوی حقائق بھی اشکار کر سکیں ہر معاملے میں لوگ صرف لذت و راحت کے تلاش میں رہتے ہیں۔
یورپ میں الہامی بصیرت، باہمی ذمہ داری، خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس اور اخلاقی و فطری حدود کی پابندی کو عمومی قبولیت کا شرف حاصل نہیں۔ شراب، بے قید جنسی تعلقات، سود، بے اعتدالی، غیر فطری آزادی، سماجی اور اخلاقی ڈھانچے کی تباہی جیسی خرابیوں نے اہل یورپ کی زندگی کو چاروں جانب سے گھیرے میں لی ہوئی ہیں۔
ایپل کمپنی کے بانی سٹیو جابز نے ایک موقع پر کہا تھا "میں پیشہ وارانہ زندگی میں تو ایک کامیاب انسان ہوں لیکن میری زندگی کے سامنے کوئی واضح مقصد نہیں اور اس احساس نے مجھے شدید روحانی کرب میں مبتلا کیا ہے”۔
یہ وہ حقیقت ہے جو بزبان حال پورے مغربی دنیا کی زبان پر ہے۔ ان دونوں پہلوں کو نظر میں رکھ کر اگر کوئی یورپ کا جائزہ لے گا تو وہ ضرور درست نتیجے تک پہنچے گا۔
میں یورپ کے ایک اہم ملک ناروے کے کچھ حالات اپنے ایک قریبی ذریعے کے توسط سے دوستوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں، یہ پیشکش دلچسپی سے خالی نہ ہوگی۔
ناروے شمالی یورپ میں سویڈن کے مغرب میں واقع ہے۔ بحر اوقیانوس اس ملک کی سرحدوں سے گزرتا ہے۔ دارالحکومت کا نام اوسلو ہے۔ قومی ترانے میں مرکزی خیال یہ پیش کیا گیا ہے کہ "ہاں ہم اس ملک سے محبت کرتے ہیں”۔ وقت پاکستان سے چار گھنٹے پیچھے ہے۔ ناروے کی جی ڈی پی سوا 24 بیلین ڈالر ہے۔ ورک فورس 35 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ 74 فیصد لوگ ملازمت پیشہ ہے، 22 فیصد صنعت و حرفت سے وابستہ ہے جبکہ باقی 4 فیصد ذراعت، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبہ جات میں کام کررہے ہیں۔
ناروے کا رقبہ 32422 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ ناروے کے سرحدات 2515 کلومیٹر طویل ہیں 729 کلو میٹر سرحد فن لینڈ کے ساتھ، 1619 کلومیٹر طویل سرحد سویڈن کے ساتھ اور 167 کلومیٹر سرحد روس کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
ناروے کی ساحلی پٹی 21925 کلومیٹر طویل ہے۔ آبادی 55 لاکھ کے قریب ہے۔ جرمنی اور ناروے کے لوگوں کے ملاپ سے ایک نسل پروان چڑھی ہے جیسے الپائن اور بالیٹک کے ناموں سے جانی جاتی ہیں۔ آبادی میں 80 فیصد لوگوں کا تعلق انہیں دو نسلوں سے ہیں اور باقی 20 فیصد Capps نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
مذہبی اعتبار سے 88 فیصد لوگ عسائیت کے لوتھران فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ باقی بارہ فیصد رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں سے منسلک ہیں۔ سیاسی نظام بادشاہت اور جمہوریت کی آمیزش سے وجود میں آیا ہے شاہی خاندان اگر چہ اختیارات نہیں رکھتا تاہم اس کا احترام ملک بھر میں پایا جاتا ہے۔
سجاد علی خان سوات سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ہے، اسلامک یونیورسٹی میں اس سے دوستی قائم ہوئی جو بعد میں آللہ تعالیٰ کی منشاء سے رشتہ داری میں بدلی، سجاد علی سے میری دوستی تقریباً سترہ اور رشتہ داری گیارہ برسوں پر محیط ہے لیکن ہاں اس سے روحانی تعلق عالم آرواح کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔
وہ ایک دلچسپ اور با صلاحیت نوجوان ہے،
وہ ایک خوش اخلاق، نرم مزاج، محنتی، ذہین، با آدب، پر امید، ہنس مکھ اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالامال انسان ہے۔
اس کا تعلیمی سفر بھی کچھ کم دلچسپ نہیں،
اس نے تعلیم کا آغاز دارلعلوم کراچی سے کیا،
وہاں سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی چلا آیا،
اسلامک یونیورسٹی سے سکالرشپ پہ سپین چلا گیا،
وہاں سے ہوتا ہوا ناروے پہنچا اور چند برس قبل "یونیورسٹی آف اوسلو” سے سماجیات اور الہیات میں ایم ایس کی ڈگری لینے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ آگے "پی ایچ ڈی” کا عزم بھی رکھتا ہے۔
حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ کام بھی کر رہا ہے، یہ اس کی خوبی ہے کہ جہاں بھی رہتا ہے، کھلے دل و دماغ، انکھوں اور ہوش و حواس کے ساتھ رہتا ہے، اس نے دو تین برس محنت کرکے نارویجین زبان سیکھ لی ہے، اب اس کو کام اور تبادلہ خیالات میں کوئی مشکل پیش نہیں آرہی۔
میں نے کئی مرتبہ نارویجین زبان میں اس کو بات چیت کرتے ہوئے سنا ہے بلکل پشتو کی سی روانی سے بولتا ہے، اس کو آللہ تعالیٰ نے اچھے اخلاق و مزاج، صحتمند سوچ اور رویے مذید براں پر تجسس ذہن سے سرفراز کیا ہے۔ وہ سال میں دس ماہ ناروے اور دو ماہ پاکستان میں گزارتا ہے۔ چند برس قبل سجاد علی وطن واپس آگیا ہے۔
وہ وقت بہ وقت اور موقع بہ موقع میرے ساتھ وہاں کے حالات و واقعات پر گپ شپ کرتا رہتا ہے۔
آئیے وہاں کے حالات سجاد علی خان کے مشاہدات کے آئینے میں دیکھتے ہیں اور سوچتے بھی کہ ہم ناروے (یورپ) سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
وہ کہتا ہے!
"چھ چھ مہینے گزر جاتے ہیں لیکن ہمیں اپنے جوتوں پر برش یا کپڑا لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتا”،
وہ کہتا ہے!
"ترقی، خوشحالی، بنیادی انسانی حقوق، ڈسپلن، انصاف اور تحفظ کسے کہتے ہیں؟ صفائی ستھرائی اور آزادی و رواداری کس چیز کا نام ہے؟ ان تمام چیزوں کے حقیقی مفہوم کا وہاں جا کر ہی پتہ چلتا ہے”۔
وہ کہتا ہے!
"پاکستان اور ناروے یا یورپ کے درمیان جب بھی سوچتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ 1000 برس گزر جائیں گے لیکن ہم ترقی اور خوشحالی کے اس مقام تک نہیں پہنچ سکیں گے جس پر آج ناروے اور یورپ فائز ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"بدقسمتی سے ہماری ذہنیت اور رویے ترقی کے دشمن ہیں، ہم نے اپنے ہاں وہ خوبیاں چلنے اور ماحول بننے ہی نہیں دیا جو ترقی اور خوشحالی کیلیے ضروری ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"آپ ٹیکس کی آدائیگی اور قانون کی پاسداری میں تین پانچ نہ کریں تو پھر ناروے اپ کیلیے جنت ہے اور اگر ٹیکس یا قانون کے حوالے سے تین پانچ کرتے ہوئے پکڑے گئے تو پھر اپ کیلیے یورپ اور ناروے جہنم ہے”۔
وہ کہتا ہے!
"میں ایک مسلمان ہوں، ایک پاکستانی ہوں اور "ایم ایس” لیول سٹڈی میں مصروف ہوں لیکن ایک روپے خرچ نہیں ہوتا اس کے علاوہ کما بھی رہا ہوں”۔
وہ کہتا ہے!
"حکومت ناروے نے وفاقی سطح پہ ایک ادارہ قائم کیا ہے جس کا کام نشئی اور معذور لوگوں کی بحالی ہے۔ تمام نشئی اور معذور لوگوں کو رجسٹر کیا گیا ہے ان کے نام اکاؤنٹس کھولے ہیں اور روزانہ کے حساب سے ان کو گزارہ الاونس جاری ہو رہا ہے۔ نشے کے لت میں مبتلا لوگوں کی بحالی کے حوالے سے وہاں پہ مذکورہ ادارہ نہایت موثر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اس کی کوششوں سے بہت سارے لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے لیکن بعض کی نہیں بھی ہوتی، ان لوگوں کے حوالے سے وہاں پہ ایک عجیب خیال عام ہے "کہا جاتا ہے کہ نشئی لوگ معاشرے کیلیے کوئی بہتر یا مفید طبقہ تو نہیں لیکن یہ لوگ کھاتے پیتے ہیں، رہتے بستے ہیں، علاج معالجہ کی بھی انہیں ضرورت پڑتی ہے۔ کپڑوں اور جوتوں، گھربار اور دوسرے بے شمار طرح کی ضروریات ان کی بھی ہوتی ہیں جس طرح عام لوگوں کی ہوتی ہیں یہ ساری ضروریات اگر جائز اور قانونی طریقے سے پوری نہیں ہوں گی تو یہ لوگ اپنی ضروریات کی خاطر لازماً جرائم کی طرف جائیں گے اور کسی معاشرے میں بیک وقت اگر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جرائم کے دائرے میں قدم رکھتے ہیں تو یہ ایک نہایت خطرناک حالت کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے، اس سے معاشرے برباد ہونا شروع ہو جاتے ہیں، لہذا ہم اپنے معاشرے کو اس ممکنہ تباہی سے بچانے کیلیے کچھ نہ کچھ رقم ایسے لوگوں کیلیے لازم مختص کرتے ہیں اس کا ہمیں بڑا فائدہ ہو رہا ہے”۔
وہ کہتا ہے!
"معذوروں کے بارے میں بھی نہایت دلچسپ اور صحت مند خیالات اور جذبات عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ "یہ نیچرلی معذور ہوئے ہیں یہ خود سے ایسے نہیں بنے لہذا ہمیں اس طبقے کا بھی خاص خیال رکھنا ہوتا ہے”۔
وہ کہتا ہے!
"وہاں پہ یہ بات کافی عام ہے کہ وہ وقت ہمارے لئے قیامت کا ہوگا کہ ہم میں کوئی معذور شخص بازار میں سے گزرتے ہوئے کسی چیز کی خواہش کریں اور اس کے جیب میں رقم موجود نہ ہو”۔
وہ کہتا ہے!
"حکومت ناروے نے اپنے شہریوں کو ایسی سہولتیں اور آسائشیں فراہم کئے ہیں کہ جن کا ہمارے ہاں تصور بھی محال ہے”۔
وہ کہتا ہے!
"ہیئر ڈریسر کے دوکان میں لاکرز بنے ہوتے ہیں ہر لاکر کسی نہ کسی کے نام الاٹ ہوتا ہے اور اس میں جو سامان پڑا ہوتا ہے اس سے صرف متعلقہ الاٹی کا کام کیا جاتا ہے کسی اور کا نہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"گھر بینکوں کے ذریعے بنتے اور آسان شرائط پہ فروخت ہوتے ہیں جبکہ گھروں کو سجانے یا مرمت کرنے کے لیے مختلف کمپنیوں کی خدمات دستیاب ہوتی ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"وہاں پہ معمول کے کام بھی نہایت آسان اور پر سہولت انداز میں انجام پاتے ہیں مثلاً کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور صفائی کرنا وغیرہ ان کاموں پہ وہاں لوگوں کا زیادہ وقت صرف نہیں ہوتا”۔
وہ کہتا ہے!
"کچن میں جائیے اور صرف چھ یا آٹھ منٹ میں بہترین کھانا بنا کر باہر آئیے علی ہذا القیاس”۔
وہ کہتا ہے!
"آپ اگر بین لاقوامی طالب علم ہے اور ناروے کی کسی بھی یونیورسٹی سے ایم ایس یا پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے میں کامیاب ہو جاتے ہے تو ساتھ ہی اپ کو چھ مہینے کیلیے حکومتی مہمان کا درجہ مل جاتا ہے، حکومت اپ کو وظیفہ دیتی ہے اور ملازمت پانے میں بھر پور مدد بھی، مختلف سرکاری و غیر سرکاری ویب سائٹس فراہم کی جاتی ہے تاکہ آپ روزگار پا سکیں، اگر چھ مہینے میں اپ ملازمت پانے میں کامیاب ہوئے تو یا "بسم آللہ” اور اگر نہیں تو پھر لمبا "سلام”۔
وہ کہتا ہے!
"ناروے کے سرکاری نظام میں تعلیم اور صحت کو بنیادی ترجیحات کا درجہ حاصل ہے وہاں تعلیم پانا اور علاج معالجہ کرانا بے حد آسان ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"تعلیم اور صحت کی سہولتیں بلند ترین معیار کے ساتھ عوام کو میسر ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
” وہاں پہ دو بڑی اسلامی تنظیمیں کام کررہی ہیں ایک کو سعودی حکومت کی جبکہ دوسری کو جماعت اسلامی کی سرپرستی حاصل ہے۔ 2017ء کو عیدالفطر کے موقعہ پر دونوں تنظیموں کے اشتراک سے ایک بڑا اور اچھا پروگرام آرینج ہوا، مہمان خصوصی کے طور پر ناروے کی خاتون وزیر اعظم مدعو ہوئیں
وہ کہتا ہے!
"وہ خوشی سے بروقت شریک ہوئیں، انہوں نے دوران خطاب نہایت اچھے جذبات اور خیالات کا اظہار کیا انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا "مجھے مسلمانوں کی خوشی میں شریک ہونے پر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے اور یہ کہ اس ملک میں جس عزت، آسائش، حقوق اور تحفظ کے میں مستحق ہوں آپ میں سے ہر فرد مستحق ہے، کہنے لگی ناروے ان تمام لوگوں کا ہے جو ناروے میں رہتے ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"کہ آپ جرم سے دور رہیں تو پریشانی آپ سے دور رہی گی جبکہ جرم کے ارتکاب پر فوراً سے پہلے پکڑ ہوتی ہے اور سزا بھی ملتی ہے نظام اس قدر شفاف اور مضبوط ہے کہ کوئی سزا سے بچ سکتا ہے نہ ہی اپنے حقوق سے محروم”۔
وہ کہتا ہے!
"جرم کرکے فرار ہونے میں کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا”
وہ کہتا ہے!
"میں نے انتخابات کے دوران اپنے ایک کولیگ سے پوچھا کہ آپ حکومتی پارٹی کے ساتھ ہے یا آپوزیشن کے ساتھ؟ تو انہوں نے فوراً جواب دیا "میں اپنے ملک اور یہاں چلنے والے نظام کے ساتھ ہوں” وہ مذید کہنے لگا "مجھے جاب، گھر، گاڑی اور ایک پر آسائش زندگی کیلیے تمام مطلوب سہولتیں میسر ہیں، میں پوری طرح مطمین زندگی بسر کر رہا ہوں لہذا میری تمام تر حمایت، وفاداری اور خیر خواہی اپنے ملک کے ساتھ مختص ہے، پارٹیاں ثانوی حیثیت کی حامل ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"ناروے میں لوگ حیران کن اہتمام سے واک کرتے ہیں اور خود کو فٹ رکھتے ہیں، واک ٹریک تقریباً ہر گھر تک پہنچ گیا ہے۔ صبح کے وقت مرد، عورتیں، بزرگ، جوان غرض سب واک کرتے نظر آرہے ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"میرے پڑوس میں ایک جوڑا رہتا ہے۔ مرد کی عمر 99 برس ہے اور عورت کی عمر 97 برس، دونوں صحت مند، متحرک اور بھرپور زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مارکیٹ، پارک، چرچ اور مختلف پنکشنز میں موقعے کے مناسبت سے چاق و چوبند شریک نظر آتے ہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"ایک مرتبہ میں ایک مال (شاپنگ سینٹر) میں موجود تھا ایک بزرگ آیا چار پانچ قسم کے شراب، چار پانچ قسم کے فروٹ، چار پانچ قسم کے سویٹس چار پانچ قسم کے ٹافیاں اور دوسری چیزیں خرید لیں میں نے ان سے ازراہِ مزاح پوچھا کہ محترم! کیا یہ آپ کے جیب پر بوجھ نہیں؟ تو وہ مسکرائے اور کہا قطعاً نہیں یہ حکومت کے خزانے پر بوجھ ہے میرے جیب پر نہیں”۔
وہ کہتا ہے!
"سکینڈے نیویا کے ممالک میں جو سوشل ویلفیئر سسٹم قائم ہے اس سسٹم کو آج بھی "عمر لاز” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے”۔
یہ اور اس طرح کے مذید حقائق بلاشبہ یورپ کا روشن چہرہ ہے ہمیں ان خوبیوں کا نہ صرف معترف ہونا چاہئیں بلکہ اس سے سیکھنے کا بھی ہم میں حوصلہ ہونا چاہیے۔ بات ذرہ لمبی ہوگئی اب ہم آتے کچھ اور پہلوں کی طرف۔
یورپ اپنی تمام تر اندرونی خوشحالی، تعمیر و ترقی، چمک دمک، انسانی حقوق اور تحفظ کے بارے میں حساسیت، آزادی اور آسودگی کے باوجود کچھ مسائل بھی رکھتا ہے تو آئیے ایک نظر ان پہ بھی ڈالتے ہیں۔
وہاں سب سے بڑا مسئلہ خدا اور مذہب سے زندگی اور معاملات میں تعلق کا خاتمہ ہے۔ یورپ نے سیاسی، معاشی، اخلاقی، سماجی، قانونی اور تہذیبی سطح پہ خدائی راہنمائی اور الہامی بصیرت سے اپنے اپ کو مکمل طور پر آزاد کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ مذکورہ بالا دائرہ ہائے کار میں شتر بے مہار بن چکا ہے، وہاں ذہنوں میں آخرت کی فکر ہے نہ زندگیوں میں الہام کا نور، اخلاق میں مذہبی آقدار کی پاسداری ہے نہ سماج میں اخلاق کا چلن، ایک طرف خاندان کا نظام درہم برہم ہے تو دوسری طرف سماج بے قید لطف آندوزی کیلیے ایک اکھاڑہ سا بن کر رہ گیا ہے، خدا سے لاتعلقی نے وہاں پہ ذہنوں اور جذبات میں بے انتہا تناؤ بھر دیا ہے جیسے شیطان عارضی تسکین بہم پہنچانے کیلیے خلاف فطرت اعمال اور رجحانات آراستہ بنا کر پیش کر رہا ہے۔
خدا اور مذہب نے جو ضابطہ حیات انسان کیلیے پسند کیا ہے اس میں سب سے ذیادہ زور جنس اور دولت کے بارے میں انسانی رویوں کی اصلاح پر دیا گیا ہے، ایمان اور عقیدے کے بعد سب سے زیادہ یہیں موضوعات زیر بحث آئیں ہیں جبکہ یورپ میں یہیں دو چیزیں عیاشی اور بے قید لطف آندوزی کیلیے کام میں لائے جا رہے ہیں۔ خدا اور انسان کا تعلق ایک فطری تقاضہ ہے۔ انسان کے دل و دماغ میں اپنے رب پر ایمان اور اس کی اطاعت کا ناقابل انکار داعیہ موجود ہے اور یہی داعیہ اپنے درست تناظر میں جہاں پورا نہ ہو وہاں بے شمار بحران سر اٹھانے لگتے ہیں۔
مغرب میں انسان خوشحالی اور آسودگی کے باوجود ذہنی، روحانی، جذباتی اور سماجی طور پر ایک گہرے تناؤ کا شکار ہے اور اس سے نکلنے کا راستہ اسے دکھائی نہیں دیتا۔
شراب، شباب اور تفریحات بہتات سے استعمال کے باوجود تناؤ کا مسئلہ قابو میں نہیں آرہا اس ہمہ نوعی تناؤ ہی کا نتیجہ ہے کہ وہاں تشدد اور شدت پسندی روز آفزوں ہے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، کلبز، عبادت گاہوں، بازاروں اور کھیل کے میدانوں میں بکثرت پرتشدد واقعات ایک معمول بن چکا ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل خدا اور الہام کی جانب مخلصانہ رجوع ہے۔ خدا اور الہام کو نظر انداز کر کے ایک متوازن، مطمئن اور با مقصد زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ کیا ہی خوب ہو کہ مغرب اپنے موجودہ خوبیوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے معنوی حقائق کی طرف بھی مراجعت کرے۔ اس عمل سے وہاں ایک مطمئن اور بامقصد زندگی کا حصول یقینی بن جائے گا۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ یورپ عالمی سیاست میں ایک مجرمانہ کردار آدا کر رہا ہے۔ گزشتہ کئی عشروں سے آمریکی جھنڈے تلے قائم ہر جنگی اتحاد میں یورپ صف اول میں کھڑا نظر آرہا ہے۔ جہاں آمریکی پسینہ ٹپکتا ہے وہاں یورپ کا خون گرتا ہے۔ گزشتہ مختصر عرصے میں آمریکہ نے متعدد اسلامی ممالک کو بدترین جارحیت کا نشانہ بنایا۔ یورپ اس تمام تر جارحانہ عمل میں امریکہ کا شانہ بشانہ رہا، اس مجنونانہ وابستگی سے پیچھے ہٹنے میں جتنی عجلت سے کام لیا جائے بہتر ہوگا ورنہ مکافات عمل کے اٹل قدرتی قانون کی گرفت میں آنا بالکل یقینی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ کہ اب تو خود آمریکی صدر کے لب و لہجے اور اقدامات و اعلانات نے یورپ کو شدید صدمے اور حیرت سے دو چار کیا ہے اور مذید پتہ نہیں آگے کیا کچھ ہوگا۔ مختلف پورپی ممالک اور شہروں میں پے درپے پرتشدد واقعات کا صدور کہیں اس قانون قدرت کے حرکت میں آنے کا آغاز تو نہیں؟ اہل نظر کیلیے اس سوال میں سوچنے کا بڑا سامان موجود ہے۔
ہم یورپ کی بربادی کے قطعاً آرزوں مند نہیں، یورپ دنیا کا ایک آباد، آزاد اور خوشحال حصہ ہے۔ آللہ تعالیٰ اسے آباد رکھے لیکن دنیا میں جب اور جہاں بھی طاقت کا توازن بگڑ جاتا ہے، انصاف کی کھلم کھلا خلاف ورزی معمول بن جاتی ہے، تخریبی قوتیں اپنی سرکشی میں حد سے گزر جاتی ہیں تو آللہ تعالی جو تمام انسانوں کا یکساں خالق و مالک ہے اپنی خاص قوتوں کو حرکت میں لاتے ہوئے بگڑے توازن اور لازمی انصاف کو سمبھالا دینے کا انتظام فرماتا ہے۔ آللہ تعالیٰ کی اس سنت کو بعض لوگ بالکل آغاز میں جان لیتے ہیں، بعض کچھ دیر بعد سمجھ جاتے ہیں اور بہت سارے لوگ تو بالکل آخر میں مان لیتے ہیں۔
تیسرا مسئلہ یورپی اقوام کا جذباتی اور سماجی طور پر ٹھنڈا، لاتعلق اور بے نیاز ہونا ہے۔ جو جذباتی اور سماجی وابستگی اسلامی اور مشرقی معاشروں کا خاصہ ہے اس سے مغرب قطعاً محروم ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے میرے ایک قریبی دوست نے اپنے رشتہ دار جو بغرض ملازمت ناروے میں مقیم ہے اس کا بیان کیا ہوا ایک واقعہ جو انہوں نے دوران ملاقات سنایا وہ اس کی زبانی سنیے کہا!
"ناروے میں میرے پڑوس میں ایک نارویجین فیملی رہائش پزیر تھی میاں بیوی اور بچے۔ ایک دن عورت ایک حادثے میں بری طرح زخمی ہوکر معذور ہوگئی، اس کا شوہر چند دن تک تو دیکھ بھال کرتا رہا لیکن بہت جلد تھک ہار کر بیوی کو تنہا چھوڑ کر چلا گیا۔ بیوی نے فوراً سرکاری ادارے کو اطلاع دی اور ساتھ پیش آنے والے واقعے اور حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ چند لمحوں میں سرکاری اہلکار پہنچ کر اس خاتون کو نہ صرف حکومتی امداد کیلیے رجسٹر کیا بلکہ اس کی رہائش میں سہولت کی خاطر کچھ آقدامات بھی اٹھانے کا تخمینہ لگایا جن پہ کافی رقم صرف ہوئی (تین کروڑ ناویجین کراون) تاکہ معذور خاتون کو آنے جانے اور نشست و برخاست میں آسانی رہے”۔
اس ایک واقعے میں یورپ کے سماجی اور سرکاری حالات کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کا سو فیصد انحصار حکومتی سہولیات اور اقدامات پر ہے۔ جن جذبات، توقعات، رویوں اور تعلیمات سے لوگ سماجی طور پر ایک دوسرے سے منسلک رہتے ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہیں، اس وجہ سے لوگ بری طرح تنہائی کا شکار ہیں، اس جذباتی اور سماجی سسٹم کا تقریباً خاتمہ ہوگیا ہے کہ جو صدموں اور ضرورت کے وقت انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا اور تسلی کا سامان بہم پہنچاتا ہے یہ طرز حیات یورپ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔
میں نے یورپ کے حوالے سے جو کچھ سوچا، سمجھا، محسوس کیا اور انہیں سپردِ قلم کیا یہ سب پاکستان میں بیٹھے ایک نوجوان کے احساسات اور معلومات ہیں اس کے سو فیصد صحت و درستگی کا مجھے زعم ہے نہ ہی دعویٰ۔ درست یا غلط ثابت ہونے کے لیے ہر بندے کے ذہن میں قدرت نے سوچ بچار کا ایک پیمانہ نصب کر رکھا ہے اور وہ اس سے کام لے کر کسی بھی فرد کے معلومات اور احساسات کو بہتر انداز سے جانچ سکتا ہے۔
میں آخر میں صرف ایک عرض کرتا چلوں کہ مختلف چیزوں کو سمجھنے سمجھانے کا عمل سماج میں کسی طرح بھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ میں دعوت دیتا ہوں مختلف چیزوں پر سوچیں انہیں سمجھیں اور ان کے بارے میں دوسروں کو بتائیں ممکن ہے آپ کا کوئی خیال یا احساس کسی نہ کسی فرد کے حق میں بہتر ثابت ہو اور یوں بہتری کا مجموعی عمل دنیا میں اسی طرح جاری و ساری رہے کہ خرابی کا راستہ صرف اسی صورت روکا جا سکتا ہے کہ جب ہر جانب بہتریاں پھلیں پھولیں۔