کیا فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا مغربی ممالک کی ایک اور چال تو نہیں؟

فلسطینی کارکن نور عودہ کے حالیہ تجزیاتی خیالات، جو انہوں نے 31 جولائی 2025 کو ٹوئٹر پر ایک تھریڈ میں پوسٹ کیے، محض سفارتی خبروں پر ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا جائزہ اور تجزیہ ہیں اُن مغربی ریاستوں کی اخلاقی پوزیشن کا، جو اب فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے دعوے کر رہی ہیں۔

نور عودہ ان دعوؤں کو خیرسگالی کی علامت کے بجائے ایک شدید دباؤ کے تحت ادا کیا جانے والا تاخیر سے کیا گیا اعترافِ جرم قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دراصل ایک تاریخی ذمہ داری کا اعتراف ہے، نہ کہ کوئی احسان۔

وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ فرانس، برطانیہ، کینیڈا اور تقریباً پندرہ دیگر مغربی ممالک کے اس اعلان سے اسرائیل اور امریکہ شدید ناراض ہیں کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے۔ ان ممالک کے اس عمل پر امریکی و اسرائیلی ناراضی بذات خود ایک علامتی حقیقت ہے، لیکن نور عودہ خبردار کرتی ہیں کہ یہ تبدیلی اتنی سادہ اور صاف نہیں جتنی بظاہر دکھائی دیتی ہے۔

وہ یاد دلاتی ہیں کہ دنیا کی اکثریت پہلے ہی فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر چکی ہے، اس لیے ان مغربی ریاستوں کی طرف سے اب تسلیم کرنا اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کو تاخیر سے پورا کرنا ہے، نہ کہ کوئی غیرمعمولی سفارتی کارنامہ۔ یہ محض فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نہیں ہے بلکہ ایک جرم کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے—وہ جرم جو ان ریاستوں نے فلسطین کے تاریخی، جغرافیائی اور قومی وجود کو چاک کر کے کیا تھا۔

برطانیہ کا کردار اس ضمن میں سب سے زیادہ گھناؤنا ہے۔ 1917 میں “بالفور اعلامیے” کے ذریعے فلسطین کو صیہیونی تحریک کے لیے “قومی وطن” بنانے کا وعدہ کر دیا گیا، اور فلسطینیوں کو “غیر یہودی اقوام” کہہ کر ان کے سیاسی وجود کو عملاً مٹا دیا گیا۔ اسی اعلامیے نے فلسطینی قوم کی بین الاقوامی سطح پر مٹانے کی صیہیونی مہم جوئی کا آغاز کیا۔ پھر 1947 میں اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی مرضی اور مشاورت کے بغیر ان کی زمین کا نصف سے زیادہ حصہ اسرائیل کو دے دیا گیا۔

نور عودہ کہتی ہیں کہ اب ان ریاستوں کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنا نہ تو کوئی انعام ہے اور نہ ہی ہمدردی کا اظہار، بلکہ یہ اُن تاریخی ناانصافیوں کی جزوی تلافی ہے جن میں یہ ریاستیں براہِ راست شریک رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف تاریخ کا نہیں بلکہ حال کا بھی ہے۔

موجودہ غزہ جنگ کے دوران، جب اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر نسل کشی کی مہم شروع کی، تب بھی انہی مغربی ریاستوں نے اسرائیل کو ہتھیار، سیاسی تحفظ اور سفارتی پشت پناہی فراہم کی۔ ان کی جانب سے جاری کیے گئے “انسانی حقوق” پر مبنی بیانات محض دکھاوے تھے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑانے میں مکمل آزادی دی، اور وہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی میں اسرائیل کے اتحادی بنے رہے۔

عدالتی سطح پر بھی ان ریاستوں نے اسرائیل کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ برطانیہ نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے اسرائیل پر دائر اختیار کو چیلنج کیا، جبکہ فرانس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے باوجود اسے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دی۔

مزید برآں، نور عودہ ان شرائط پر بھی تنقید کرتی ہیں جو فلسطین کو تسلیم کرنے کے ساتھ منسلک کی جا رہی ہیں: ایک غیر مسلح فلسطینی ریاست، حماس کے بغیر انتخابات، غزہ کو انتخابی عمل سے نکالنا (جبکہ وہ تباہ و برباد ہے)، نصاب کی تبدیلی اور فلسطینی اتھارٹی میں “اصلاحات”۔ یہ تمام شرائط دراصل اسرائیلی ایجنڈے کا عکس ہیں، جو فلسطینی خودمختاری کی نفی کرتے ہیں۔

برطانیہ نے تو اس عمل کو اسرائیل کے خلاف “دباؤ” اور “سزا” کے طور پر پیش کیا، گویا فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی زیادتیوں کا جواب ہے نہ کہ فلسطینیوں کا بنیادی حق۔ نور عودہ کہتی ہیں کہ آئندہ برسوں میں قانونی ماہرین اس “منطق” کو بین الاقوامی سفارتکاری کی ایک بدترین مثال کے طور پر یاد رکھیں گے۔

تاہم نور عودہ اس غلط فہمی کو بھی رد کرتی ہیں کہ ان مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ میں سے چار مستقل ارکان فلسطین کو تسلیم کریں گے، تو اس کا قانونی اور اخلاقی اثر ضرور ہوگا۔ ایسے میں ان پر لازم ہو گا کہ وہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی بستیوں، قدرتی وسائل کی چوری اور فوجی قبضے جیسے اقدامات کے خلاف عملی قدم اٹھائیں۔

آخر میں نور عودہ خبردار کرتی ہیں کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا یا تو ایک مثبت اقدام بن سکتا ہے جس سے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی، زمین پر قبضے اور توسیع پسندی کا راستہ روکا جائے—یا پھر یہ محض ایک فریب ہو سکتا ہے جو مغرب کی مسلسل بے عملی اور اسرائیلی جرائم میں شرکت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

نور عودہ کا پیغام واضح ہے: فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا صرف ایک قانونی عمل نہیں، بلکہ یہ مغربی ممالک کی اپنے جرائم کی ایک اخلاقی تلافی ہے۔ مغربی دنیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ فلسطینیوں کو حقوق دینا کوئی احسان نہیں، بلکہ ایک طویل قرض کی واپسی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوامی دباؤ کے ذریعے فلسبینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے عمل کو خالی علامت بننے سے روکا جائے اور اسے حقیقی انصاف کی طرف پہلا قدم بنایا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے