محبت: زندگی میں سب سے بڑی قوت محرکہ

محبت قلب و نظر کی اس لذیذ ترین اور شیریں ترین کیفیت کا نام ہے کہ جس کے زیرِ اثر آکر لوگ ایک دوسرے کو چاہنے لگتے ہیں۔ خلوص، قربانی، خدمت، پاس و لحاظ، احترام، باہمی قبولیت، ساتھ دینا اور چلنا، اور ایک دوسرے کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ایسی چیزیں ہیں جو محبت کے سرچشمے سے جنم لے کر انسانیت کو سیراب کر رہی ہیں۔

ازل سے مذہب، فطرت، ضرورت اور تاریخ نے مل کر محبت کے جوہر کو ترقی کے اس بام عروج پر پہنچایا جس کے تحت پوری انسانیت باہم منسلک ہوگئی ہے۔ کنتے لفظ ہیں؟ کتنے قدم ہیں؟ کتنے جذبے ہیں؟ کتنے اقدامات ہیں؟ کتنی قربانیاں ہیں؟ کتنے رشتے ہیں؟ کتنی حرکتیں ہیں؟ کتنی وحدتیں ہیں؟ کتنی برکتیں ہیں؟ کتنی رونقیں ہیں؟ جن کے لیے محبت بنیادی محرک کے طور پر موجود ہوتی ہے۔

محبت کی سینکڑوں اقسام اور ہزاروں مظاہر ہیں۔ محبت دلوں کو صاف، گھروں کو روشن، سماج کو سیدھا، ملکوں کو آباد اور قوموں کو خوشحال رکھتی ہے۔ یہ جو دلوں میں نور ہے، روحوں میں سرور ہے، گھروں میں رونق ہے، معاشرے میں حلاوت ہے، رشتوں میں لگاوٹ ہے، ملکوں میں حرکت ہے اور قوموں میں ہر دم تازہ دم جدت ہے۔ یہ سارا دراصل محبت ہی کی کرامت ہے۔

محبت اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہوئی تو ایمان بنا، انسانیت کو التفات کی تو شفقت کا احساس ٹہرا، میاں بیوی کے درمیان آئی تو لازوال اور سدا بہار رفاقت کو وجود بخشی، بہن بھائیوں کے دلوں میں سرایت کی تو خلوص اور احترام کا لامحدود جذبہ موجزن ہوا، سیاسی عمل میں جگہ پائی تو لیڈر شپ کے لیے عزت اور عوام کے لیے خدمت میں بدلی (ترکی کے طیب اردگان اس کی بہترین مثال ہے)، کاروباری فضا میں جلوہ گر ہوئی تو تاجروں کے لیے اعتماد اور گاہک کے لیے مطلوبہ معیار اور مقدار کی ضمانت بنی غرض کوئی ایک پہلو نہیں، کوئی ایک لمحہ نہیں، کوئی ایک دائرہ نہیں، کوئی ایک خانہ نہیں جہاں محبت کی مسلسل فرمائش اور افزائش نہیں۔

رشتوں، تعلقات، خدمات اور روابط کی بنیادوں میں اکثر و بیشتر محبت کا احساس ہی کار فرما رہتا ہے۔ یہ جو انسان نے ہزارہا برس پر محیط تاریخی سفر طے کیا ہے، یہ جو انسان نے دو سے اپنی آبادی 8 ارب تک پہنچائی ہے، یہ جو انسان نے تاریک ویرانوں کو پر رونق شہروں میں بدلا ہے، یہ جو انسان نے جہل سے علم کی طرف، بیماری سے صحت، خطرات سے حفاظت، خلا سے خدا اور تنہائی سے رشتوں کی جانب پیش قدمی کی ہے یقین کریں اس عمل کی جڑوں میں محبت کار فرما رہی ہے۔

ایمان اور عزت کے بعد اگر کوئی چیز حفاظت اور اپنے پاس رکھنے کی سب سے زیادہ قابل ہے تو یقین کریں وہ محبت ہی ہے۔ محبت خوشی کا باعث ہے، محبت آبادی کا باعث ہے، محبت آسودگی کا باعث ہے، محبت عزت کا باعث ہے، محبت حفاظت کا باعث ہے، محبت حمایت کا باعث ہے اور یہ کہ محبت بقاء اور ارتقاء کا بھی باعث ہے۔

محبت کچھ قدرتی امر ہے اور کچھ ارادی، والدین محبت کے جذبے کے تحت آپ کی شادی کر دیتے ہیں لیکن دائمی رفاقت آپ نے نبھانی ہے۔ بچے اللہ تعالیٰ دے دیتا ہے لیکن ان کی پرورش آپ نے کرنی ہے، دسترخوان محبت سے کوئی اور بچھا دیتے ہیں لیکن وہاں بیٹھ کر شکر گزاری سے کھانا تناول کرنا آپ کا کام ہے۔ نوکری حکومت یا کمپنی دیتی ہے لیکن ڈیوٹی آپ نے دینی ہے۔ اس طرح محبت دو طرفہ اظہار سے نمو پاتی رہتی ہے۔

ہر معاملے کی طرح محبت کا معاملہ بھی ففٹی ففٹی ہے۔ اس میں کچھ دیکھنا ہوتا ہے اور کچھ کرنا ہوتا ہے۔ کچھ لینا ہوتا ہے اور کچھ دینا ہوتا ہے۔ "آپ دیں گے نہیں تو آپ لیں گے نہیں” یہ قدرت کا دائمی اصول ہے اور اس معاملے میں سرمو انحراف کی گنجائش نہیں۔

جن جواہر نے محبت کو جنم اور افزائش دی ہیں انہیں سے آپ محبت کی حفاظت کا کام بھی لیں گے یعنی مذہب، فطرت، ضرورت اور تاریخ کے دیئے ہوئے تعلیمات اور اسباق سے کام لے کر ہی آپ محبت کو اپنے اندر اور گرد و پیش میں دوام بخشنے کے قابل ہو سکیں گے۔ آپ نے ان حقائق کو نظر انداز کر کے اگر آگے بڑھنا شروع کیا تو ایک خونخوار نفرت لتاڑنے کے درپے ہو جائے گی۔

دنیا میں ہر چیز کی ایک زد ہوتی ہے محبت کی بھی ایک زد ہے اور وہ نفرت ہے۔ محبت اگر روشنی ہے تو نفرت تاریکی، محبت اگر خوشبو ہے تو نفرت بدبو، محبت اگر یقین محکم ہے تو نفرت شک اور تذبذب، محبت دوسروں کے لیے اگر کچھ کر گزرنے کا کام ہے تو نفرت بہت کچھ روکنے کا۔

نفرت دلوں کو گندہ، ذہنوں کو پراگندہ، ارواح کو بھاری، رویوں کو تلخ، عزائم کو جارحانہ اور اعمال کو جاہلانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔ آئیے چند اشاروں سے محبت اور نفرت کی کیمسٹری پر ذرا روشنی ڈالتے ہیں!

فطرت جو محبت کا بھائی اور محافظ ہے اس کی انسان سے صرف ایک ہی توقع ہے اور وہ یہ کہ اپنی حدوں میں رہے۔ فطری حدود کو پامال ہرگز نہ کریں اور جو ایسا کرنے کی جسارت کرے گا ایک سخت اور گھاڑی نفرت اس کا راستہ روکنے کے لیے اٹھی گی۔

مذہب ایک اچھی، سچی اور کھری زندگی کے لیے جو اصول دیتا ہے وہ یہ کہ دنیا میں سب کچھ آپ کا نہیں۔ کچھ آپ کا اور کچھ آپ کا نہیں ہے۔ جو آپ کا ہے وہ حلال ہے اور جو آپ کا نہیں وہ حرام ہے۔ حلال کی پاسداری میں خالق اور مخلوق دونوں کی رضا، اعتماد اور خوشنودی ہے اور حرام کے دائروں میں جا گھسنے والوں کو خالق اور مخلوق دونوں کے اندوہناک غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ضرورت انسانی سماج کا عجیب ترین ایجاد ہے یہ وہ میقناطیسی قوت ہے جس نے لوگوں کو باہم اچھی طرح جوڑ کر رکھی ہے۔ کوئی اگر ہمت کر کے اس موضوع پر سروے کر لیں کہ صبح سے لے کر شام تک لوگوں کے باہم ملنے جلنے کے اسباب کیا ہیں؟ تو مجھے توقع ہے 85 فیصد ضرورت، بطورِ سبب سامنے آئے گی۔ ضرورت کے معاملے میں انصاف، ایمان داری اور عزت نفس کے قدروں کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ضروریات کے توازن کو جو چیز تباہ کر کے رکھ دیتی ہے وہ عیاشی اور محرومی کی گہری تقسیم ہے۔ جائز ضروریات کی تکمیل کو حقوق اور معاوضوں کے تعین میں لازمی طور پر دیکھنا چاہیے تاکہ کسی کے دل میں بھی نفرت کو داخل ہونے کا راستہ نہ ملے۔

تاریخ کا صرف ایک ہی سبق ہے اور وہ یہ کہ نفرت اور محبت کی وجہ سے انسان کو بڑی جنگوں اور تباہیوں کا سامنا ہوا ہے۔ جنگوں کا سامنا ہمیشہ جائز حدود و قیود سے باہر گھسنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ بعض انسانوں اور قوموں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جائز اور فطری حدود میں مطمئن ہو کر نہیں رہ پاتے اور یوں وہ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر فطری طور طریقے اختیار کر کے سماج کے امن اور اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یاد رکھے حقیقی اطمینان، حقیقی سلامتی اور حقیقی عزت ہمیشہ معروف اور معقول طرزِ عمل اختیار کرنے میں بندے کو میسر آتے ہیں۔

محبت کے فطری جذبات کو برقرار رکھنے اور نفرت کی آگ میں اپنی روح، دل اور وجود جلانے سے بچانے کے لیے معروف کے دائروں میں خود کو مصروف رکھنا ہوگا جو کچھ ہمیں حاصل ہے اس پہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہنا اور جو حاصل نہیں، وہ اگر ضروری ہے تو اس کے لیے محنت جاری رکھے، میں نے مستقل مزاجانہ محنت سے لوگوں کی تقدیر بدلتے دیکھا ہے ہاں اگر ضروری نہیں تو اس سے دل صبر کریں اللہ تعالیٰ مناسب موقع پر آپ کو اپنی عطاؤں سے نوازے گا۔ صبر کی متقاضی حالت کو کسی سے بھی نفرت کا ذریعہ نہ بنائیں۔

وسیع علم، حلم اور ظرف کے لوگ محبت کے لیے موزوں جبکہ تنگ دل، تنگ ظرف اور غیر متحمل لوگ ہمیشہ نفرت کا رزق بنتے ہیں۔ علم اور محبت باہم قریبی پڑوسی ہیں جبکہ نفرت اور جہالت تو یک جان دو قالب سہیلیاں ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں اور ماحول کو محبت سے سرشار اور نفرت سے دائمی طور پر پاک رکھے اسی میں سب کی خیر اور بھلائی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے