دنیا میں ہمیشہ سے خوراک کا تعلق فطرت سے جڑا رہا۔ انسان نے جب جانور پالنے شروع کیے، تو دودھ سے حاصل ہونے والے قدرتی گھی، یعنی دیسی گھی، کا استعمال روزمرہ کا معمول بن گیا۔ یہ گھی نہ صرف کھانوں میں استعمال ہوتا، بلکہ جسم کی مالش، بچوں کی نشوونما، بزرگوں کی ہڈیوں اور عمومی طاقت کے لیے بھی کارآمد سمجھا جاتا رہا۔
یہ وہ وقت تھا جب دیسی گھی کو طاقت، صحت اور فطرت کی علامت مانا جاتا تھا۔
لیکن پھر صدیوں کے اس آزمودہ گھی کے خلاف ایک مہم شروع ہوئی۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب مغرب میں انڈسٹریل فوڈ پراسیسنگ زور پکڑنے لگی، تو کمپنیوں نے کارپوریٹ مفادات کی خاطر ایک نیا مصنوعی گھی متعارف کرایا جسے مارجرین یا بناسپتی گھی کہا گیا۔
لیکن سوال یہ تھا کہ لوگ دیسی گھی چھوڑ کر یہ نقلی گھی کیوں لیں؟
تو یہاں وہ ہتھیار استعمال کیا گیا جو ہر دور میں کامیاب رہا ہے: خوف۔
عوام کو بتایا گیا کہ دیسی گھی کولیسٹرول بڑھاتا ہے، شریانیں بند کرتا ہے، دل کے دورے کی وجہ بنتا ہے۔ ڈاکٹروں کو ساتھ ملایا گیا، میڈیکل ریسرچ فنڈ کی گئی، رپورٹیں چھپوائی گئیں۔ اور یوں خوف کا بازار گرم ہوا:
“دیسی گھی کھایا؟ دل کے دورے کے لیے تیار ہو جاؤ!”
لوگوں نے خوف کے مارے وہی نقلی بناسپتی گھی خریدنا شروع کر دیا جو سستا بھی تھا اور “ماڈرن” بھی لگتا تھا۔ دیسی گھی کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
وقت گزرا۔ فیکٹریوں نے اربوں کمائے۔ مگر جلد ہی ایک نئی مارکیٹ کھلنے لگی: ویجیٹیبل آئل یعنی تیل۔
اب بناسپتی گھی بیچنے کی مہم کی جگہ بناسپتی کے خلاف مہم شروع ہوئی۔ وہی بناسپتی گھی جو کبھی دیسی گھی سے بہتر سمجھایا گیا تھا، اب خطرناک قرار پایا۔ رپورٹیں بدلیں، ڈاکٹری رائے بدلی، اشتہارات بدلے۔
اب خوف یہ بیچا گیا:
“بناسپتی گھی؟ شریانوں سے چپکنے والی موت!”
اور یوں تیل نے مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ لوگوں نے دل کی خاطر تیل اپنایا۔ کسی نے نہ پوچھا کہ کل تک تو بناسپتی بہتر تھا، اور آج تیل کیسے؟ سچائی صرف وہی تھی جو کارپوریٹ سیکٹر کے اشتہاروں میں تھی۔
انھی خطوط پر ایک اور خوف کا بازار گرم کیا گیا— بیماری کا خوف۔
فطری غذا سے دور ہوتے ہی انسان بیماریاں جھیلنے لگا، مگر جہاں فطری علاج اور طرزِ زندگی کی طرف لوٹنے کی بات ہونی چاہیے تھی، وہاں ایک اور کارپوریٹ شعبہ سرگرم ہو گیا: فارماسیوٹیکل مافیا۔
یہ وہ مافیا ہے جس کا مقصد بیماری کا علاج نہیں بلکہ بیمار کو گاہک بنانا ہے — ایسا گاہک جو ایک بار دوائی کھانا شروع کرے تو قبر میں جانے تک کھاتا رہے۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت سب سے پہلے کولیسٹرول کو خوف کا مرکز بنایا گیا۔
لوگوں کو بتایا گیا کہ تمہارے خون میں چکنائی بڑھ گئی ہے، یہ شریانیں بند کرے گی، تمہیں دل کا دورہ پڑے گا، اور تم یکایک مر جاؤ گے۔
اس خوف کو پھیلانے کے لیے جدید ترین مشینری، "لیب رپورٹس”, اور سفید کوٹ میں ملبوس ایمان دار دکھائی دینے والے لیکن درندہ صفت ڈاکٹرز استعمال کیے گئے۔
اور پھر ایک گولی آئی — "سٹَیٹِن” — جو کولیسٹرول کو "کم کرنے” کا دعویٰ کرتی تھی، مگر حقیقت میں جسم کے کئی دیگر نظاموں کو برباد کرتی تھی۔
کولیسٹرول کی حقیقت یہ ہے کہ یہ جسم کی ضرورت ہے۔
یہ ہر سیل کی دیوار کا حصہ ہے، ہارمونز کے توازن میں مددگار ہے، اور دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔
مگر ایک مرتبہ یہ خوف دلوں میں بٹھا دیا گیا کہ "کولیسٹرول تمہیں مار دے گا” — تو دوائی کا کاروبار اربوں ڈالر کی انڈسٹری میں تبدیل ہو گیا۔
اسی طرح ایک اور خوف داخل کیا گیا — بلڈ پریشر کا۔
جیسے ہی کسی کی پریشانی یا بے خوابی کی وجہ سے پریشر تھوڑا سا اوپر نیچے ہوا، اسے بتایا گیا کہ تمہیں بلڈ پریشر ہے، اور یہ تمہیں آہستہ آہستہ مار دے گا۔
پھر آئی ایک گولی — اور کہا گیا کہ اسے زندگی بھر کھاتے رہو۔
یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر تم اپنی نیند، نمک، وزن، فکر اور ذہنی دباؤ کا خیال رکھو تو تمہارا بلڈ پریشر خود بخود نارمل ہو سکتا ہے۔
مگر وہ دوا — ایک مستقل گاہک بنانے کے لیے، ایک دائمی خوف کے ساتھ تجویز کی گئی۔
یہی کھیل شوگر کے معاملے میں کھیلا گیا۔
اگر آپ کا بلڈ شوگر 130 یا 140 ہے، اور وہ کھانے کے بعد تھوڑا بڑھا ہے، تو وہ بیماری نہیں، فطری اتار چڑھاؤ ہے۔
مگر خوف کا انجکشن دیا گیا — "شوگر ہے تو گردے فیل ہو جائیں گے، آنکھیں ضائع ہو جائیں گی، پاؤں کٹ جائیں گے” —
یہ سن کر مریض نے انسولین شروع کی، پھر روز گولیاں، پھر ڈائٹیشن، پھر اسپیشلسٹ —
گویا ایک نئی زنجیر میں جکڑ دیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کون کرتا ہے؟
انسان دوست؟ ہمدرد؟ سائنس دان؟ نہیں —
یہ سب کچھ کرتے ہیں وہ درندہ صفت کارپوریٹ مالکان جن کی آنکھوں کے آگے صرف نفع ہے، اور جن کے لیے انسان صرف ایک صارف ہے، ایک گاہک، ایک عدد۔
فارما کمپنیاں دنیا کے طاقتور ترین گروپوں میں شامل ہیں۔
یہ ڈاکٹروں کو سفر کے ٹکٹ، قیمتی گاڑیاں، فیملی ہالڈیز، اور نقدی بطور رشوت دیتی ہیں —
اس شرط پر کہ آپ ہماری دوائی ہر مریض کو لکھو، چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو۔
بڑے اسپتالوں میں کمپنی کے نمائندے باقاعدہ کمرے کرائے پر لیتے ہیں، جہاں ڈاکٹرز کی ‘ٹریننگ’ ہوتی ہے — جس کا مطلب ہے کہ تم نے اب فلاں دوا فروخت کروانی ہے۔
ڈاکٹر اگر مزاحمت کرے تو اسے "ریسرچ کانفرنس” کے نام پر امریکہ یا سوئٹزرلینڈ بھیج دیا جاتا ہے۔
اگر مطیع ہو جائے تو ماہانہ کمیشن بھی دیا جاتا ہے۔
بعض ڈاکٹرز کی کل آمدنی کا 60 سے 70 فیصد فارما کمپنیوں سے آتا ہے — نہ کہ مریض سے۔
یہ گٹھ جوڑ ایک عالمی دھندہ ہے۔
دنیا میں چند فارما کمپنیز ایسی ہیں جن کی سالانہ آمدنی کئی ملکوں کے مجموعی بجٹ سے زیادہ ہے۔
یہ وہی کمپنیاں ہیں جنہوں نے دنیا کو کرونا، ایڈز، کینسر، ویکسین، اور دیگر بیماریوں کے نام پر خوف کے سودے بیچے ہیں۔
جیسے گھی کے نام پر تیل اور دوائی کے نام پر زہر بیچا گیا، ویسے ہی کارپوریٹ درندوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنا پنجہ گاڑا۔ مثال کے طور پر، ماں کے دودھ جیسی قدرتی نعمت کو کمتر ثابت کر کے "فارمولہ فیڈ” کو جدید تربیت کا معیار بنا دیا گیا۔ اشتہاروں میں یہی بتایا گیا کہ اگر آپ اپنے بچے سے سچی محبت رکھتی ہیں تو فلاں کمپنی کا ڈبہ دار دودھ ہی پلائیں۔ اسی طرح، ڈائپر کو ماں کی شفقت سے جوڑ کر ایک عام چیز کو ضرورت سے بڑھا کر خواہش میں بدل دیا گیا — اور قیمت؟ آسمان سے باتیں کرتی۔
O
پھر تعلیم کو لیجیے۔ جب سے امتحان کے خوف کو ہتھیار بنایا گیا، مہنگے اسکولوں، کوچنگ سینٹرز، اور ٹیسٹ پریپ انڈسٹری نے والدین کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے شروع کیے۔ بچے کی ذہانت کو نہیں، بلکہ اسکول کے نام اور فیس کو کامیابی کی ضمانت سمجھا گیا۔ "اگر بچہ A+ نہ لے سکا تو وہ ناکام ہے” — یہ جھوٹ جب سچ بنا تو کروڑوں روپے کی تعلیم کا کاروبار سچ مچ چل نکلا۔
فیشن کی دنیا میں تو درندگی نے فن کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ لباس، جوتے، چشمے، گھڑیاں — سب کچھ اس طرح بیچا جا رہا ہے جیسے یہ عزت و وقار کی علامت ہوں۔ اگر کسی کے جسم پر برانڈ کا لوگو نہ چمکے تو اسے کمتر، غریب یا بے ذوق سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہی کپڑا، وہی چمڑا، وہی سلائی — بغیر برانڈ کے نصف قیمت پر بازار میں دستیاب ہے۔ مگر نہیں، درندوں نے خواہشوں کو ضرورت سے بڑا بنا دیا ہے۔
اور اگر آپ نے موبائل میں فلاں اینٹی وائرس یا سیکیورٹی ایپ انسٹال نہ کی، تو سمجھو سب کچھ ہیک ہو جائے گا۔ کارپوریٹ خوف یہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ان کمپنیوں نے خود ہی جعلی خطرے دکھا کر اپنے ہی تماشے رچائے۔ سیکیورٹی کا وہ/ کاروبار چمکا جس میں خطرہ بیچنے والا اور تحفظ دینے والا، دونوں ایک ہی درندہ تھا۔
بیوٹی اور فٹنس انڈسٹری بھی اسی قبیلے کی شاخ ہے۔ ایک خاص جسمانی ساخت کو "خوبصورتی” قرار دے کر وزن، رنگت، بالوں، جلد اور ناک کو کاروبار بنا دیا گیا۔ کہیں سمارٹ بیلٹ، کہیں فیٹ برننگ ٹی، کہیں جلد گوری کرنے والی کریم، اور کہیں پلاسٹک سرجری کے وعدے۔ یہ سب وہی پرانے خوف تھے جو شکل بدل کر ہماری جیبوں پر وار کرنے لگے۔
یہ کھیل صرف خوراک یا دوا یا دیگر چیزیں بیچنے تک محدود نہیں رہا — خوف کو ایک ہتھیار کے طور پر سیاست میں بھی استعمال کیا گیا۔ جب کوئی رہنما اپنی کارکردگی سے لوگوں کو قائل نہ کر سکے، تو وہ انہیں خوفزدہ کر کے ووٹ لینے نکلا۔
مثال کے طور پر امریکہ میں جب جارج بش کو دوبارہ صدر بننے کے لیے انتخابی میدان میں اترنا تھا، تو اُن کے پاس دکھانے کو نہ کوئی معاشی کامیابی تھی، نہ کوئی اندرونی اصلاحات، نہ ہی کوئی قومی اتحاد۔ لیکن ایک چیز ضرور تھی — خوف
امریکیوں کو دن رات بتایا گیا کہ اگر تم نے ہمیں ووٹ نہ دیا، تو دہشتگرد تمہارے گھروں میں گھس آئیں گے، تمہارے بچے اسکولوں میں محفوظ نہیں رہیں گے، تمہارے شہر تباہ ہو جائیں گے۔
باقاعدہ "ٹیرر الرٹس” جاری کیے گئے — کبھی نارنجی، کبھی سرخ رنگ کی وارننگز۔ ان رنگوں کے پیچھے نہ کوئی حقیقی خطرہ ہوتا، نہ کوئی واضح ثبوت — صرف میڈیا پر سنسنی، اور لوگوں کے دل میں بیٹھا ہوا خوف۔
اور یہ خوف اس قدر کارگر ثابت ہوا کہ لاکھوں امریکیوں نے محض اس لیے بش کو ووٹ دیا کہ “اگر یہ نہ آیا تو شاید ہم مر جائیں گے”۔
ایسا ہی کھیل بھارت میں نریندر مودی نے کھیلا — ہر مخالف کو ملک دشمن، پاکستان نواز، یا دہشتگردوں کا ہمدرد کہا گیا۔ ٹی وی چینلز پر دن رات "خطرہ” بیچا گیا — اور عوام نے اپنی نوکری، مہنگائی، اور تعلیم بھول کر صرف ایک چیز یاد رکھی: "اگر مودی نہ آیا تو بھارت ٹکڑوں میں بٹ جائے گا”۔
اسی طرح اسرائیل میں بنیامین نیتن یاہو نے جب بھی سیاسی دباؤ کا سامنا کیا، جنگ چھیڑ دی یا حملے کی دھمکی دی، تاکہ لوگ اس خوف میں آ کر اُسے ہی "واحد محافظ” سمجھیں۔
یعنی جب عوام سے پیار، سچائی، یا خدمت سے ووٹ نہ لیا جا سکے، تو انہیں ڈرا کر ووٹ لینے کا نسخہ آزمایا جاتا ہے — اور یہ نسخہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی کارآمد ہے۔
اور اب یہ درندے جنگل میں نہیں، ہماری جیب، ذہن اور ضمیر میں بسیرا کیے بیٹھے ہیں۔ ہم جو کھاتے ہیں، پہنتے ہیں، سونگھتے ہیں، پڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں — سب کہیں نہ کہیں کسی کارپوریٹ سیکٹر کے دانت تلے پس رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب شکار خوشی خوشی خود قدموں پر آتا ہے، اور قاتل کو برانڈ کہہ کر سلام کرتا ہے۔