خوشی عقل کے ایک ایسے احساس کا نام ہے جس میں سکون، اطمینان، تسلی، تشفی، ذہنی آسودگی، ہم آہنگی اور راحت و مسرت کی ملی جلی کیفیات اجاگر ہوتی ہیں۔
خوشی کی متعدد نفسیاتی، حیاتیاتی، مذہبی اور ثقافتی تعریفیں ہو سکتی ہیں لیکن اس کا کوئی یکساں پیمانہ یا اکائی مقرر نہیں تاہم خوشی کی ایک جامع تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ
”خوشی ایک ایسا صحت مندانہ جذبہ یا احساس ہے کہ جس کی خصوصیات میں گہری طمانیت اور فراواں شادمانی کے مظاہر شامل ہوں۔“
خوشی کی تاریخ اسی قدر قدیم ہے جس قدر خود انسان کی تاریخ۔ خوشی جس میں، انسان کے دماغ کا ایک انتہائی اہم حصہ سرگرم، ایک شدید اندرونی ادراک متحرک، ایک جذباتی کیفیت عیاں اور بھلائی کے واسطے فطرت انسانی میں موجود خواہش سر اٹھا کر انسان کو ہمیشہ سے ہی خوشی کی تلاش میں مشغول رکھتی ہے۔ خوشی ایک ہمہ گیر احساس ہے اور اس کا دائرہ جسم، روح، صحت، ذوق، ذہن سمیت خیالات اور جذبات تک پر محیط ہے۔
یورپی اقوام ہمیشہ دنیا کو اپنی صلاحیتوں، کارکردگی اور رجحانات سے حیران کرتی رہتی ہیں۔ آزادی کی تحریکیں ہو یا تحاریک بیداری، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی ہو یا مختلف علوم و فنون کی جدت، کھیل کود کا میدان ہو یا جنگ و جدل کا محاذ، ادب و ثقافت ہو یا پھر فلم و موسیقی، نت نئے خیالات کی ترویج و اشاعت ہو یا سماجی و معاشی اصلاحات غرض یورپ ہر میدان اور مقام پر آگے ہی آگے اور اوپر ہی اوپر ہے اور دنیا کے دوسرے حصوں کو یورپ سے مقابلے کا امتحان درپیش تو ہے لیکن اس میں کامیابی ابھی بہت دور ہے کیونکہ یورپ اتنا آگے ہیں کہ دنیا کا کوئی دوسرا حصہ بجز چین اور جاپان اس کے قریب تو کیا قربت کے خیال سے بھی بہت دور ہے۔
چند برس قبل جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کی انتظامیہ نے ایک زبردست اقدام اٹھایا اور وہ یہ کہ صوبے کے چند سکولوں میں خوشی بطورِ مضمون پڑھانے کا فیصلہ ہوا یوں گزشتہ چند برسوں سے وہاں سکولوں میں باقاعدہ خوشی کا مضمون پڑھایا جاتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ مذکورہ تجربہ نہایت کامیاب ثابت ہوا آئیے اس حوالے سے کچھ تفصیلات بشکریہ DW ملاحظہ کرتے ہیں۔
01 "جنوبی جرمن صوبے باویریا کے اسکولوں میں ایک مضمون کے طور پر خوشی کی تعلیم دینے کا تجربہ کئی سال پہلے شروع کیا گیا تھا”۔
02 "یہ تعلیمی تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ اب بہت سے مڈل اسکول اپنے ہاں طالب علموں کو یہ مضمون پڑھا رہے ہیں”۔
03 "باویریا کے دارالحکومت میونخ کے چند منتخب اسکولوں میں طلبا و طالبات کو ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر خوشی کی تعلیم دینے کا تجرباتی سلسلہ تعلیمی سال 2013ء اور 2014ء میں شروع کیا گیا تھا۔ تب سے اب تک ایسے اسکولوں کی تعداد کئی گنا ہو چکی ہے جو اپنے ہاں ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر خوشی کی نصابی تعلیم دیتے ہیں۔
04 "دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مضمون کو لازمی اور اختیاری دونوں طرح کے مضمون کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے”۔
05 "خوشی کی نصابی تعلیم کو تجرباتی سطح پر ممکن بنانے کا مقصد یہ تھا کہ طلبا و طالبات کی شخصی نشو و نما کے لیے اسکولوں کے بچوں اور بچیوں کو یہ موقع مہیا کیا جائے کہ وہ نہ صرف شعوری طور پر خوش رہیں بلکہ اس خوشی کو اپنی زندگی میں اسکولوں اور گھروں میں عملاﹰ استعمال میں بھی لا سکیں”۔
06 "جرمنی میں اسکولوں میں پڑھائے جانے والے دیگر تمام مضامین کی طرح خوشی کا بھی ایک تعلیمی نصاب ہے، جس میں طلبا و طالبات کو ان کے مادی، جسمانی اور جذباتی ردعمل کے تجزیے اور ذاتی تجربات کے باہمی تبادلے کے ذریعے خوشی کے احساس اور اظہار کی تربیت دی جاتی ہے”۔
07 "اس سلسلے میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بطور مضمون خوشی کی تعلیم طلبا و طالبات کی تعلیمی صلاحیتوں میں واضح طور پر اضافہ کر دیتی ہے”۔
08 "اس مضمون کی تعلیم حاصل کرنے والے بچے بچیوں کو گھروں میں کرنے کے لیے اسائمنٹ ہوم ورک کے طور پر دیا جاتا ہے اور اس بارے میں اپنی روزانہ ڈائری بھی لکھنا ہوتی ہے مزید برآں اس کی باقاعدہ جانچ پڑتال بھی ہوتی ہے”۔
09 "ایک اور بہت دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خوشی کے مضمون کے کسی بھی طالب علم یا طالبہ کو کسی ٹیسٹ یا امتحان میں اپنی بہت خراب کارکردگی کا کوئی خدشہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو کوئی نمبر ملتے ہیں۔ مقصد نابالغ بچے بچیوں کو صرف خوش رکھنا ہوتا ہے تاکہ ان کی مجموعی زندگی اور تعلیمی کیریئر دونوں خوشی سے عبارت رہیں”۔
10 "قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ سالانہ امتحانات کے بعد ملنے والی رزلٹ شیٹ میں محض یہ لکھا ہوتا ہے کہ متعلقہ طالب علم یا طالبہ نے ایک باقاعدہ مضمون کے طور پر خوشی کی تعلیم بھی حاصل کی”۔
11 "مختلف تجربات اور مشاہدات سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ خوشی نے تعلیمی اور سائنسی ماہرین کو بھی خوش کر دیا کیونکہ اس مضمون میں تعلیمی اور سائنسی ماہرین کی دلچسپی بہت زیادہ ہو گئی ہے”۔
12 "متعدد تحقیقی مطالعاتی جائزوں کے نتائج کی روشنی میں ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کی تعلیم اسکولوں کے طلبا و طالبات کے ذہنی اور دلی اطمینان میں بھی بہت معاون ثابت ہوتی ہے”۔
13 "ایک مشاہدہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خوشی کی تعلیم کے بعد عموماﹰ خوش رہنے والے طلبا و طالبات زیادہ مطمئن ہوتے ہیں اور وہ دیگر بچے بچیوں سے جھگڑتے بھی بہت کم ہیں”۔
14 "اس کے علاوہ ایسے بچے تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی زیادہ کرتے ہیں اور ان کے لیے کچھ نیا پڑھنا اور سیکھنا بھی آسان ہو جاتا ہے”۔
ماہرین کے مطابق یہی پہلو بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا اصل مقصد بھی ہونا چاہیے۔
میں ہمیشہ دوستوں کو ایک بات دہراتا رہتا ہوں کہ زندگی میں خوشیاں خود سے کبھی نہیں آتی، خوشیاں باقاعدہ پیدا کرنا پڑتا ہے اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ خوشحال اور بدحال لوگوں کے احوال میں ان کے اپنے رویوں کو خاص عمل دخل حاصل ہے۔