کچھ دن پہلے کی بات ہے، میں رات دفتر سے ایک لڑکے کے ساتھ باہر نکلا۔ وہ لڑکا پانچ سال سے دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اور آٹھ سالہ عالم کورس کے پانچ سال مکمل کر چکا ہے۔ ہم ساتھ چل رہے تھے اور اسی دوران میں اپنے کزن کو ایک میسج کر رہا تھا۔ میسج میں میں نے بس اتنا کہا کہ اگر مدرسے کے لوگ بھی ایسے ہوں گے تو واقعی یونیورسٹی والے بہتر لگتے ہیں۔ یہ جملہ سننا تھا کہ جیسے وہ لڑکا آگ بگولا ہو گیا۔
غصے میں فوراً بولا: "تم لوگوں کو کسی چیز کا پتہ نہیں، تم سب گمراہ ہو۔” میں نے سکون سے جواب دیا کہ مجھے مدرسوں کا نظام پسند نہیں۔ اس پر وہ کہنے لگا: "تو اللہ کو نہیں مانتا؟”
میں نے کہا: "میں اللہ اور رسول ﷺ کو مکمل طور پر مانتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں۔ مگر بعد میں جن لوگوں کو ہم نے دین میں بڑھا چڑھا کر شامل کر لیا، میں ان کو نہیں مانتا۔ میں صرف اللہ کا حکم مانتا ہوں، بس۔”
اتنا کہنا تھا کہ اُس نے فوراً سوال کیا: "کیا تم غوث پاک کو نہیں مانتے؟”
میں نے جواب دیا: "میں اُن کو مانتا ہوں جن کو شیخ عبدالقادر جیلانی خود مانتے تھے۔ میں ان پیروں کو نہیں مانتا جو بعد میں آئے اور جن کی پیروی میں لوگوں نے اصل دین کو پیچھے چھوڑ دیا۔”
یہ سن کر وہ آپے سے باہر ہو گیا۔ گالیوں پر اتر آیا۔ میں نے اُس سے کہا: "بھائی، اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا، تم آرام سے بات کرو۔” مگر اُس کی آواز اس قدر بلند ہو چکی تھی کہ میں مشکل سے ہی اُسے سن پا رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے صاف الفاظ میں کہا:صرف ہمارا مسلک ہی ٹھیک ہے۔اور کسی دوسرے مسلک کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی ”
میں نے اس سے پوچھا: "یہ بات کس نے کہی ہے؟ یہ فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط؟”
اس نے فوراً جواب دیا: "اعلیٰ حضرت نے کہا ہے، اور ہم اُن ہی کی بات مانتے ہیں۔”
میں نے کہا: "اعلیٰ حضرت کون ہوتے ہیں؟ یہ فیصلہ تو صرف اللہ کرے گا کہ کس کی نماز قبول ہے، کس کا عقیدہ درست ہے۔”
یہ بات اسے اور بھی مشتعل کر گئی۔ مزید گالیاں دینے لگا، سخت زبان استعمال کرنے لگا۔ اس دوران میں نے یہ سوال کیا: "اگر قبر میں اللہ، نبی ﷺ اور دین کے بارے میں سوال ہوگا، تو ہم پیر اور مسلک کے بارے میں کیوں اتنا سوچتے ہیں؟”
اس نے اس سوال کا کوئی جواب دینے کے بجائے الٹا مجھے مزید برا بھلا کہا۔ اس پر میں بالکل خاموش ہو گیا، کیونکہ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لڑکا بات کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ نہ وہ سن سکتا ہے، نہ سمجھ سکتا ہے، نہ برداشت کر سکتا ہے، اور نہ ہی کسی اور کی بات ماننے کی ہمت رکھتا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے گہرائی سے محسوس کیا کہ ہمارا مدرسہ نظام کیسا انسان پیدا کر رہا ہے۔ ایسے نوجوان جنہیں صرف اپنی بات صحیح لگتی ہے، جو دوسروں کو گمراہ، کافر یا ناپاک سمجھتے ہیں۔ جہاں صرف ایک سوچ دی جاتی ہے: تم ہی سچے ہو، باقی سب غلط۔ تم مسلمان ہو، باقی سب منکر۔
یہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب خود تجربہ ہوتا ہے تو دل سے آواز آتی ہے کہ کیا واقعی ہم ایک ایسے نظام تعلیم کو دین کہہ سکتے ہیں جو انسان میں برداشت، گفتگو، دلیل اور اخلاق کی بجائے نفرت، تکفیر اور شدت پیدا کرتا ہے؟
میں خود اسلامی تعلیم حاصل کر رہا ہوں، اور میں جانتا ہوں کہ اسلام کا اصل پیغام کیا ہے۔ مگر مجھے ان مدرسوں میں وہ روح نظر نہیں آتی۔ مجھے صرف ایک رخ نظر آتا ہے، جہاں استاد کے خلاف بات کرنا تو دور، سوال تک پوچھنا ممنوع ہے۔
اس لڑکے کا رویہ مجھے چونکا گیا۔ وہ نہ صرف بات سننے کو تیار نہیں تھا، بلکہ جب میں نے نبی ﷺ کے بارے میں بات کی تو کہنے لگا کہ "نبی ہمارے سنی تھے۔”
میں نے دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ میرا ضبط ٹوٹا نہیں، مگر یہ جملہ سن کر مجھے ہنسی ضرور آئی کہ ہم کس سطح پر جا چکے ہیں۔ نبی ﷺ کو بھی ہم نے فرقوں میں بانٹ دیا۔ کوئی کہتا ہے وہ سنی تھے، کوئی کہتا ہے وہ شیعہ کے قریب تھے، کوئی کہتا ہے وہ صرف ہمارے جیسے تھے۔ کیا یہ دین کا احترام ہے؟ کیا ہم نے رسول کو بھی اپنے فرقے کی شناخت تک محدود کر دیا؟
میں نے اس دن یہ طے کر لیا کہ مسئلہ صرف افراد کا نہیں، پورا نظام تعلیم کا ہے۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو صرف لڑنے، الزام لگانے، اور دوسروں کو گمراہ کہنے کی تربیت حاصل کر رہی ہے۔ دلیل، محبت، ادب، اختلاف کی گنجائش — یہ سب چیزیں ان کے تربیتی نظام میں موجود ہی نہیں۔
پاکستان میں ہزاروں مدارس ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب میں نو ہزار سے زائد مدرسے ہیں، مگر اکثریت غیر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ادارے ریاست کی نگرانی میں نہیں، بلکہ اپنے مخصوص عقائد اور ایجنڈے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان میں بہت سے مدارس وہ ہیں جو مسلک کی بنیاد پر بچوں کے ذہنوں میں سخت تعصب ڈال دیتے ہیں۔
پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں۔ ہزاروں شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، احمدی، یہاں تک کہ عیسائی، ہندو اور سکھ عبادت گاہیں بھی نشانہ بنی ہیں۔
کرم میں 2024 میں ہونے والے حملے میں 133 افراد مارے گئے، 177 زخمی ہوئے۔ بچوں تک کی دوائیں بند ہو گئیں۔ اسی سال صرف ایک مہینے میں 30 سے زائد بچے مر گئے کیونکہ خوراک اور دوائی نہیں پہنچ سکی۔ عبادت گاہوں پر حملے، بازاروں میں بم دھماکے، اور جنازوں پر حملے — کیا یہی دین ہے؟ کیا یہ وہی درسگاہیں ہیں جو ہمیں اللہ کا قرب سکھاتی ہیں؟
میرا سوال سادہ ہے: اگر یہ دین ہے، اگر یہ دینی تعلیم ہے، اگر یہی لوگ دین کے محافظ ہیں — تو پھر وہ دین کہاں گیا جو کہتا تھا "دین میں جبر نہیں”، "حسنِ اخلاق افضل عبادت ہے”، اور "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا محفوظ رہے۔”
آج میں سوچتا ہوں کہ شاید یونیورسٹی کا ماحول اس سے بہتر ہے۔ وہاں اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے، وہاں دلیل کی جگہ ہے، وہاں سوچنے کا حق ہے، سوال کرنے کی آزادی ہے۔
دین کو ایک ہی مسلک کی حدود میں قید کر دینا، باقی سب کو گمراہ قرار دینا، یہ کوئی اصلاح نہیں — یہ تو تباہی ہے۔ یہ ایک ایسا اندھا اعتماد ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو قتل کر دیتا ہے۔
میں اس دن بہت خاموش رہا، لیکن میرے اندر ایک آگ لگی رہی۔ میں یہ سوال بار بار خود سے کرتا رہا: کیا اسلام واقعی اتنا محدود ہے؟ کیا نبی ﷺ نے یہی سکھایا تھا؟ کیا قرآن نے یہی پیغام دیا تھا؟
مجھے یقین ہے کہ نہیں۔ دین وہی ہے جو دل کو سکون دے، عقل کو وسعت دے، اختلاف کو جگہ دے، اور محبت کو عام کرے۔ جو صرف نفرت، شدت اور تکفیر پھیلائے، وہ نہ دین ہے، نہ علم، اور نہ ہی انسانیت۔
ہمیں اپنے نظام تعلیم پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں مدرسوں کو وہ مرکز بنانا ہے جہاں انسانیت، علم، محبت، برداشت اور عقل کی روشنی ہو۔ جہاں صرف "ہم صحیح” اور "تم گمراہ” کا سبق نہ دیا جائے، بلکہ سیکھنے، سوچنے، سننے اور سمجھنے کا ماحول ہو۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ آگے بڑھے، تو ہمیں مدرسوں کو اصلاح کی طرف لانا ہوگا۔ ورنہ ہم یونہی فرقوں میں بٹے رہیں گے، اور وہی لڑکے جو دین پڑھنے آتے ہیں، وہ نفرت اور شدت کے نمائندے بن کر نکلیں گے۔ اور تب ہم صرف قبروں میں سوالوں کے جواب ہی نہ ڈھونڈتے رہیں گے، بلکہ دنیا میں ہی اپنی روحانی موت مر چکے ہوں گے۔