یادوں کی ترتیب میں ایک دن

کہانی شروع ہوتی ہے اُس لمحے سے جب شہاب بھائی نے گروپ میں ایک فرمان جاری کیا:
"کل صبح نو بجے سے پہلے پہنچنا ہے!”
اب چونکہ یہ پاکستانی وقت کا حکم نامہ تھا، تو میری طبیعت نے بھی سوچا: "ساڑھے نو ہی تو وقت ہوتا ہے اصل حاضری کا!”
یوں میں، اپنی گھڑی اور قسمت کو تھامے، ڈائریکٹریٹ آف یوتھ افیئرز کی دہلیز پر ساڑھے نو بجے جا پہنچا۔ باہر علی عمران بھائی پہلے سے موجود تھے، ہم نے ہاتھ ملایا، اور دو سپاہیوں کی مانند اندر کی جانب "انٹری ماری۔”

حیرت تو تب ہوئی جب دیکھا کہ مجھ سے بھی بعد میں آنے والے لوگ موجود ہیں۔ دل کو کچھ تسلی ہوئی کہ کم از کم حاضری کی آخری لائن میں نہیں بیٹھا ہوں۔

شہاب بھائی سے رسمی علیک سلیک ہوئی، باقی چہروں پر وہی مروّت کی مسکراہٹ، اور پھر میں ایک خاموش کونے میں جا بیٹھا۔ ناشتہ نہ کرنے کا قلق دل پر بوجھ بن چکا تھا۔
دماغ کہہ رہا تھا: "اٹھ، سب سے ملو!”
جسم جواب دیتا: "ابے رہنے دے، چائے نہیں پی تُو نے آج!”

پھر اسٹیج پر فیصل بھائی نے علم کا پرچم تھام لیا۔
تعارف کا دور چلا — ایک ایک کر کے سب اپنی پہچان کا اعلان کر رہے تھے، میں بھی اسی قافلے کا حصہ بنا۔
پھر ناموں کی ایک مشق شروع ہوئی، سب کو ایک قطار میں کھڑا کر کے، ایک دوسرے کا نام یاد رکھنا تھا۔

میری یادداشت کا نظام ایسا ہے جیسے کمپیوٹر کی RAM —
یادیں لمحاتی ہوتی ہیں، اور اگر بجلی چلی جائے (یعنی توجہ ہٹے)، تو سب کچھ غائب!
بس کچھ نام جیسے "سیکنڈری میموری” میں چلے گئے، اور کچھ ایسے جیسے Recycle Bin میں پڑے ہوں۔

یہ مشق ختم ہوئی، تو دل نے کہا: "شاباش! کچھ تو یاد رہا!”
اُمید ہے کہ یہ یادیں آنے والے دنوں میں کام آئیں گی — کم از کم سلام لینے کے قابل تو بنائیں گی!

پھر آیا وہ لمحہ جس کے لیے پیٹ صبح سے احتجاج کر رہا تھا — ناشتہ!
ناشتے نے دماغ کو کچھ تروتازہ کیا، اور جسم کو وہ توانائی دی جو بقیہ دوستوں سے ملنے کی ہمت بن گئی۔
پھر میں اُن دوستوں سے بھی جا ملا، جن سے صبح رسمی علیک سلیک نہ ہو پائی تھی۔

اچانک مستان بھائی کی کال آئی:
"یار! مجھے پیکج کرواؤ!”
مگر میں ایزی پیسہ سے محروم، صرف بینک کا بندہ ہوں۔
حل نکالا: موبائل حریرہ کو تھمایا، کہا: "مستان سے بات کرواؤ!”

اسی اثنا میں ماریہ پر نظر پڑی —
جو نہ صرف پشاور لٹریری فیسٹیول کی رفیق رہی بلکہ سمر کیمپ کی بھی ہمسفر تھی۔
چند جملے، کچھ دعائیں، اور خیریت کی باتیں ہوئیں، اور میں پھر اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔

شہاب بھائی نے پھر کمان سنبھالی —
والنٹیئرزم پر ایک دل نشین پریزنٹیشن دی۔
میں چونکہ آئی ٹی کا پرزہ ہوں، اس لیے سلائیڈز کی ڈیزائننگ پر بھی نظر گئی —
اور کہنا پڑے گا، کہ فصاحت، بلاغت اور سلائیڈز تینوں میں "کمال فن” جھلکتا تھا۔

پھر فارم بھرے گئے، کچھ رسمی کارروائیاں ہوئیں،
اور ایک ایسی سرگرمی ہوئی جو دل کو بہت بھائی —
دیوار پر لفافے لگے، ہر لفافے پر ایک نام،
اور رنگ برنگے کاغذ جن پر ہم نے ایک دوسرے کے لیے تبصرے، دعائیں اور پیغامات لکھے۔
ایسا لگا جیسے ہم ہر ایک دوست کو ایک چُھپی چٹھی دے رہے ہوں —
کسی لفافے میں مزاح، کسی میں تعریف، کسی میں وہ باتیں جو زبان سے کہنا مشکل ہوتی ہیں۔

پھر لنچ آیا، جس نے باقی تھکن بھی دور کی۔

اب دن ڈھل رہا تھا۔
میں نے ہریرہ کو اشارہ کیا کہ Ride بک کروادے، مگر وہ سیشن میں ایسے منہمک تھا جیسے عدالت میں کوئی اہم گواہی ہو رہی ہو۔
آخرکار ماریہ کو اشارہ کیا کہ "ذرا اُسے میری طرف متوجہ کرواؤ!”
اور یوں اشاروں کی زبان میں Ride کی التجا کی گئی۔
شہاب بھائی کو سلامی دی، اور ایک ضروری ٹیسٹ کی آڑ میں روانہ ہوا۔

اس دن کئی چہرے ملے:
پرانے دوستوں سے باضابطہ ملاقات ہوئی، نمکین ایکٹیویٹ سے پہلی بار سامنا ہوا —
جن کے لیے میں نے پہلے ایک ویب سائٹ بنائی تھی، جس میں ڈومین کے کچھ مسئلے تھے، وہ بھی زیر بحث آئے۔

آفاق بھائی اور CLADO کے چیف عبدالرحمٰن بھائی کو پہلی بار حقیقی شکل میں دیکھا —
اگرچہ وہ "تھوڑا لیٹ” تشریف لائے، اور اسی وجہ سے اُنہیں ایک ہنسی بھری پنشمنٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

پنشمنٹ کا یہ سلسلہ بڑا دلچسپ تھا —
جو بھی لیٹ آتا، اُسے سٹیج پر سب کے مشورے کے مطابق کوئی شرمندگی نما مظاہرہ کرنا پڑتا۔
مستان بھائی نے تو ڈانس کرتے ہوئے اپنا تعارف پیش کیا،
ایک بہن نے گانا گایا — نام یاد نہیں، لیکن منظر یادگار بن گیا۔

کچھ دوستوں سے مدت بعد مل کر دل بھی خوش ہوا، اور دل کی کتاب کا ایک اور صفحہ بھر گیا۔

واپسی پر شہاب بھائی نے میرا سرٹیفکیٹ اور ایک تصویر مجھے تھمائی —
اور یوں اس روز کی کہانی کا رسمی اختتام ہوا،
لیکن یادیں ابھی باقی ہیں۔

آخری بات:

یہ روداد میں نے مختصراً لکھی ہے،
ورنہ ہر لمحہ، ہر بات، ایک الگ قصہ ہے۔

آپ سب دوستوں سے گزارش ہے کہ اس تحریر پر اپنی رائے ضرور دیں۔
خوبیاں بتائیں تو شکریہ، خامیاں بتائیں تو بہت شکریہ!
ایونٹ کی جو جھلک آپ کے دل میں بسی ہو، اسے کمنٹس میں ضرور بانٹیں —
کہ شاید وہ لمحہ میری نظروں سے چھوٹ گیا ہو، مگر آپ کی یادوں میں زندہ ہو۔

والسلام!
ایک رضا کار — ایک راوی — ایک دوست۔
حسین احمد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے