امام کی کفالت، ایک اجتماعی شرعی اور سماجی ذمہ داری

مساجد اسلام کا مرکز ہیں۔ نہ صرف نمازوں کی ادائیگی بلکہ دینی تربیت، اخلاقی اصلاح، اور معاشرتی رہنمائی کا سب سے پہلا اور اہم مقام یہی ہے۔ اور مسجد کا سب سے اہم منصب، امامت ہے۔ امام نہ صرف ایک عبادت گزار فرد ہوتا ہے، بلکہ پوری قوم کا روحانی رہنما، مربی اور مبلغ بھی ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں امام کی کفالت کو وہ حیثیت حاصل نہیں جو اسلام نے دی ہے۔

حالیہ واقعہ:

حالیہ دنوں، چائی باسہ (چارکھنڈ) میں امام مسجد حضرت مولانا شاہنواز انصاری صاحبؒ کی 18 جون 2025 کو انتہائی غربت کی حالت میں وفات (مسجد کی تیسری منزل میں خود کو پھانسی لگا کر) نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اُن کی اہلیہ اور بیٹی بھی بیمار تھیں، مگر مناسب علاج میسر نہ ہو سکا۔ یہ وہ امام تھے جو قرآن، حدیث اور نماز کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرتے رہے، لیکن جب اپنی زندگی کے سب سے مشکل لمحات آئے، تو معاشرہ اُن کے ساتھ نہ کھڑا ہو سکا۔

اسلامی تعلیمات:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تین آدمی ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دشمنی کرے گا… ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی کو اجرت پر رکھے، اس سے پورا کام لے لے، اور پھر اس کی مزدوری نہ دے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 2227)

امام کی خدمت لینا، اس سے وقت اور صلاحیت کا تقاضا کرنا، اور پھر اُسے بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا اس حدیث کی روشنی میں ظلم اور جرم ہے۔

مسجد کمیٹی کی شرعی ذمہ داریاں:

1. امام کو مکمل مالی اعانت دینا، تاکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔
2. مسجد کی آمدن یا چندہ کا واضح اور شفاف استعمال، جس میں امام کی تنخواہ اور صحت کا خیال شامل ہو۔
3. امام کی عزت و احترام کو قائم رکھنا، نہ کہ اسے معمولی ملازم سمجھا جائے۔
4. امام کے ساتھ معاہدہ کرنا، تاکہ ذمہ داریاں واضح ہوں، اور اختلافات سے بچا جا سکے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ:

آج ہم نے امام کو صرف نماز پڑھانے والا سمجھ لیا ہے، جبکہ اسلام نے اُسے اُمت کا رہنما قرار دیا۔ شادی کے لیے جہیز، ولیمے اور دعوتوں پر لاکھوں خرچ کر دینے والے لوگ جب امام کی تنخواہ کا وقت آتا ہے تو شکوے کرتے نظر آتے ہیں۔

امام کی تنخواہ، اُس کی عزت، اس کی صحت، اس کے بچوں کی تعلیم… یہ سب اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب ایک شخص دن میں پانچ وقت ہمیں قرآن و سنت کی طرف بلاتا ہے، تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم اُسے دنیاوی آسائش نہیں تو کم از کم ضروریات زندگی تو دیں؟

ہماری ذمہ داری:

1. امام کو مناسب ماہانہ تنخواہ (کم از کم 40-50 ہزار روپے یا مقامی معیار کے مطابق) دی جائے۔
2. اُن کی شادی اور خاندانی کفالت میں تعاون کیا جائے۔
3. دینی خدمات کے عوض وقار اور عزت سے نوازا جائے۔
4. مسجد کمیٹیاں امام کے ساتھ تحریری معاہدہ کریں تاکہ مستقبل میں کوئی ظلم نہ ہو۔

ہمیں سوچنا ہوگا:

کیا امام صرف چند رکعتوں کا امین ہے یا ہماری نسلوں کی دینی رہنمائی کا ذمہ دار؟

کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنے دینی رہنما کو فاقہ کشی کی حالت میں دیکھ کر بھی خاموش رہیں؟

کیا ہمارے بچے کل انہی اماموں سے قرآن، دین اور اخلاق سیکھیں گے یا ہمیں ان کی جگہ بھی کوئی مشین چاہیے؟

امام کی عزت اور کفالت، صرف ایک مسجد کمیٹی کی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے اپنی مساجد اور اماموں کا احترام نہ کیا، تو یہ روحانی نظام زوال پذیر ہو جائے گا۔ آئیں، اپنی مساجد کے اماموں کو وہ مقام دیں جو اسلام نے دیا ہے، تاکہ وہ بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے