بچپن کی حسین یادوں میں ایک پروگرام ایسا بھی تھا جس کا انتظار دل کو بے قرار رکھتا تھا۔ وہ پروگرام تھا "کسوٹی” . علم و ادب سے بھرپور، تہذیب سے آراستہ، اور ذہانت سے جگمگاتا ہوا۔ ہم سب بہن بھائی اسے بڑے شوق سے دیکھا کرتے۔ اُس دور میں جب ٹیلی ویژن پر مواد کم مگر معیاری ہوتا تھا، قریش پور کی موجودگی ایک علمی خوشبو کی طرح سکرین پر بکھر جاتی۔
ذوالقرنین قریشی المعروف قریش پور کا شمار پاکستان ٹیلی ویژن کے ان مایہ ناز دانشوروں، ادیبوں اور علمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف ٹی وی سکرین پر ناظرین کو علم و ادب کی لذت سے روشناس کرایا بلکہ ان کے دلوں میں اپنی تہذیبی، شائستہ اور باذوق شخصیت کی گہری چھاپ بھی چھوڑی۔ قریش پور 1932ء میں پیدا ہوئے اور 5 اگست 2013ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر ان کے کام، ان کی گفتگو، اور ان کا انداز آج بھی یادوں میں زندہ ہے۔
قریش پور کو پہلی بار میں نے اسی "کسوٹی” پروگرام میں دیکھا۔ ان کا اندازِ گفتگو اتنا دلنشین، لہجہ اتنا شائستہ اور علم اتنا رواں دواں ہوتا کہ چھوٹی عمر کے باوجود ان سے ایک قلبی انسیت محسوس ہونے لگی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ صرف اسکرین پر نہیں، بلکہ ہمارے گھر کے ایک فرد ہوں ، ایسے فرد جو خاموشی سے ہمارے علم میں اضافہ بھی کرتے، اور تہذیب کا ہنر بھی سکھاتے۔
آج جب ان کی برسی کا دن آیا ہے، تو وہ سب لمحے تازہ ہو گئے ہیں۔ وہ شامیں، وہ سوالات، وہ علمی مثلث ، قریش پور، عبیداللہ بیگ، افتخار عارف اور ان کے بیچ قریش پور کا وہ مسکراتا، پُراعتماد اور مہذب چہرہ ذہن میں ایک فلم کی طرح چلنے لگا ہے۔ ان کے ساتھ جُڑنے والا بچپن کا وہ رشتہ آج بھی اتنا ہی تازہ، اتنا ہی سچا محسوس ہوتا ہے۔ گویا وقت تھم گیا ہو، اور یادیں بول پڑی ہوں۔
قریش پور محض ایک میزبان نہیں تھے، وہ ایک عہد تھے۔ ان کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات اب بھی ذہن و دل میں زندہ ہیں، جیسے وہ کل کی ہی بات ہو۔ اور شاید یہی ایک سچے علمی انسان کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ وہ خود چلا جائے، مگر دلوں میں اپنی روشنی چھوڑ جائے۔
قریش پور کی زندگی صرف ٹیلی وژن کی سکرین تک محدود نہ تھی، بلکہ ان کا علمی و ادبی دائرہ بہت وسیع تھا۔ وہ ایک سنجیدہ محقق، مصنف، مترجم، اور کالم نگار بھی تھے۔ ان کی تحریروں میں فکر و دانش، مطالعے کی گہرائی اور مشاہدے کی وسعت نظر آتی ہے۔ انہوں نے کئی اخبارات اور رسائل میں علمی و ادبی موضوعات پر مضامین لکھے جو ان کی گہری بصیرت کے آئینہ دار تھے۔
قریش پور نے اردو ادب کے فروغ کے لیے خاموش لیکن مؤثر خدمات انجام دیں۔ ان کی زبان سادہ، سلیس اور پراثر تھی۔ ان کا اندازِ بیان علمی بھی تھا اور عوامی بھی، یہی وجہ تھی کہ پڑھنے والا قاری خود کو ان کی تحریر میں شامل محسوس کرتا۔ انہوں نے کئی ادبی و سوانحی کتب کا ترجمہ بھی کیا، اور ان کے تراجم میں اصل متن کی روح اور اردو کی لطافت دونوں جھلکتی تھیں۔
قریش پور کی شخصیت میں تحقیق کا ذوق، علم کا بانکپن اور تہذیب کا وقار نمایاں تھا۔ وہ نئی نسل کو علم دوست بنانے کے قائل تھے، اور اسی سوچ کے تحت انہوں نے کئی ایسے پروگرام کیے جن میں نوجوانوں کو علمی اور فکری اعتبار سے متاثر کیا گیا۔ ان کے بقول، "علم کو فروغ دینا صرف اداروں کی نہیں، بلکہ ہر باشعور فرد کی ذمہ داری ہے۔”
ان کا مطالعہ بے حد وسیع تھا، تاریخ، فلسفہ، سائنس، ادب، مذہب، اور ثقافت ہر موضوع پر وہ گہرائی سے گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی ہمہ گیریت انہیں اپنے دور کے دوسرے دانشوروں سے ممتاز کرتی تھی۔
قریش پور نے اپنے کیریئر میں پاکستان ٹیلی ویژن کے کئی معروف پروگراموں کی میزبانی کی، جن میں”کسوٹی” ،”گھریلو سائنس”، "فہم القرآن” اور دیگر تعلیمی و معلوماتی پروگرام شامل تھے۔ ان کی میزبانی میں وقار، شائستگی اور علم کی خوشبو ہر وقت محسوس کی جاتی تھی۔ وہ ان چند شخصیات میں سے تھے جنہوں نے ٹی وی کے ذریعے علم کو عام کیا۔