انسان کو اگر ایک خزانہ سمجھا جائے تو دروازہ یقیناً زبان قرار پائی گی۔ تاریخ میں علوم و فنون اور تہذیب و تمدن نے جتنی بھی ترقی کی ہے اس پورے عمل میں زبان کا پچہتر فیصد حصہ رہا ہے۔ زبان سے ایک فرد یا موضوع کو سمجھا جاتا ہے اور زبان ہی کے ذریعے سے دوسرے فرد یا افراد کے مجموعے کو سمجھایا جاتا ہے۔ فرد، فرد سے چار چیزوں کے ذریعے ربط و ضبط میں آتا ہے۔ ایک زبان، دوم قلم، سوم کردار یا صلاحیت، چہارم خدمات اور جذبات۔ زبان ربط و ضبط کا وہ فطری وسیلہ ہے جس کی اہمیت ہر فرد پر روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اجتماعی زندگی کی بات کی جائے تو بھی زبان بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ زبان کے ذریعے لوگ علم اور آگہی سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ زبان ہر جگہ ایک خاص طرح کی تہذیب و ثقافت کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ زبان کی وساطت سے ہی ایک ملت اپنے دین و اقدار کے اثاثے کو آگے بڑھاتی ہے نیز زبان کے وسیلے سے لوگ ترقی و خوشحالی کے مجموعی مواقع میں بطریق احسن حصہ دار بنتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان پر جو بڑی نعمتیں نازل فرمائی ہیں ان میں زبان بھی شامل ہے۔ انسان نے ازل سے زبان کو اظہار ما فی الضمیر کے طور پر اختیار کیا ہے۔ انسان نے ہر دور میں ہر جگہ محبت و نفرت، خوشگوار نا خوشگوار، پسند نا پسند، حق نا حق، مطلوب نا مطلوب، معلوم نا معلوم، مرغوب نا مرغوب، اچھائی و برائی اور خوشی و دکھ غرض ہر معاملے کو زبان کے ذریعے سامنے لایا ہے۔ انسان خوش ہوتا ہے تو وہ بولنا چاہتا ہے، دکھی ہوتا ہے تو بھی بولنا چاہتا ہے، بتانے کے لیے بولنے کا محتاج، جاننے پہچاننے کے لیے بولنے کا محتاج، محبت اور نفرت کے لیے بولنے کا محتاج، ساتھ دینے یا سامنے ڈٹ جانے کے لیے بولنے کا محتاج غرض زبان ایک ضرورت بھی ہے، سہولت بھی ہے، مسرت کا اظہاریہ بھی ہے اور نفرت و محبت کے اظہار کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔
انسان کا وجود دو طرح کا ہے۔ ایک مادی وجود دوسرا معنوی یا جذباتی وجود۔ مادی وجود قد کاٹھ، رنگ روپ، صحت و طاقت، ہنسنے رونے، دوڑ دھوپ اور اٹھک بیٹھک میں نظر آتا ہے جبکہ دوسرا معنوی وجود یعنی ایک فرد کی سوچ و بچار، عقیدہ و عقیدت، خوبی و صلاحیت، جذبات و احساسات، اخلاق و عادات، خوشی و غمی اور نرمی و سختی ایسی چیزیں دوسروں پر زبان کے ذریعے ہی ظاہر ہوتی ہیں۔
پہلے پہل جب انسان زمین پر بس گئے تو ان کی تعداد اور روابط محدود تھیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ اس دور میں انسان ایک ہی زبان سے باہمی رابطے کا کام لیتے تھے لیکن بعد میں لوگوں کی تعداد بڑھ اور موجودگی پھیل گئی تو نت نئی زبانیں وجود میں آگئی۔ زمین پر زیادہ پھیلاو، وقت کا گزرنا، ایک دوسرے سے ملنے کا احتیاج، اظہار خیال کے مختلف پیرایے اور مدعا و منشاء کے مشترک اغراض نے زبانوں کی پیدائش اور پھر انہیں سیکھنے کے عمل نے زبانوں کی تشکیل، بقاء و ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔
ہر زبان کی پشت پر مذہب و تہذیب، شعر و ادب، اخلاق و اقدار، علم و آگہی اور افکار و عقائد کا ایک پورا نظام کار فرما ہوتا ہے۔ میں ایک مثال سے اپنا مدعا واضح کرنا چاہوں گا پاکستان میں رفیقہ حیات کا لفظ بڑا مانوس اور پسندیدہ ہے، لوگ شادی کے ساتھ جسمانی تعلق کو قبول کرتے ہیں اور اس تعلق کو ایک خاص مذہبی اور تہذیبی تقدس حاصل ہے لیکن اگر شادی کے بغیر جسمانی تعلق کی نوبت ائے یا اس کا تذکرہ ہو تو یہ سخت ناپسندیدہ اور معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ یورپ اور امریکہ میں گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ لوگ شادی کے بغیر بھی جسمانی تعلق اور ساتھ رہنے کو اتنا معیوب اور نا پسندیدہ نہیں سمجھتے۔ اس مثال پر اپ دوسرے معاملات کو بھی آسانی سے قیاس کر سکتے ہیں۔
زندگی اور معاملات زندگی کے لیے زندگی میں باہمی رابطہ ایک اہم ترین فطری ضرورت ہے اگر باہمی رابطہ درست، آسان اور ہمہ وقتی ہو تو سماج کا سفر اپنے قدرتی انداز اور رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ علم، اختیار اور مواقع گردش میں رہتے ہیں، ترقی و خوشحالی بڑھتی اور پھیلتی ہے۔ لیکن اگر رابطے میں خلل آجائے تو پھر معاملات، تعلقات اور بلآخر انسانی جذبات میں بھی خلل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس خلل سے سماج میں علمی، تہذیبی، مادی، یکجہتی اور اخلاقی ارتقاء کے عمل کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام میں من جملہ دوسری خوبیوں کے ایک خوبی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ انہوں نے قومی زبانوں کو قومی رابطے، تعلیم، تشہیر، سول سروس اور علم و ادب کا ذریعہ بھی بنایا ہے، باہمی رابطہ جتنا آسان اور سہل ہوگا، قومی ابلاغ کا عمل اتنا ہی موثر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا میں ترقی بام عروج پر ہے اور اس کے مقابلے میں جن قوموں نے اپنی قومی زبان کو نظر انداز کیا، باہمی رابطے کو مشکل اور پیچیدہ بنایا تو ان پر ہر طرف سے زوال کا راج شروع ہوگیا ہے۔
جو چیزیں قوموں میں باہمی یکجہتی اور ہم آہنگی کو بڑھاتی ہیں، محبت اور اپنائیت کو پروان چڑھاتی ہیں مختلف لوگوں کو قریب لاتی ہیں، ان وسائل میں سے زبان اہم ترین ہے۔ زبان ہی باہم ربط و ضبط کے معاملات کو منظم شکل دیتی ہے۔ زبان وہی اچھی اور کار آمد ہوتی ہے جو آسانی سے ایک قوم کی اکثریت کو سمجھ آ جائے۔ اسی زبان میں تعلیم و تدریس ہو، اسی زبان میں امتحان ہو اور اسی زبان میں رابطہ و کلام ہو تو آسانی سے علم و فضل اور فلاح و ترقی کے اہداف حاصل ہوتے ہیں۔
انگریزی ایک اہم اور بین الاقوامی زبان ہے۔ ہم اس کی اہمیت اور ضرورت سے قطعاً انکار نہیں کرتے۔ قوم کے ہر فرد کو انگریزی آنی چاہیے لیکن ہماری اپنی ایک زبان ہے اور ہمیں اسی کو تعلیمی، قانونی، سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دینا چاہیے۔ غیر زبان میں آپ جتنی چاہے کوشش کریں وہ کمال پیدا نہیں کیا جاسکتا جو قدرت نے اپنی زبان میں لوگوں کو عطا کی ہے۔
مملکت خدا داد پاکستان میں یہ ایک عجیب مذاق ہے کہ ہماری قومی زبان تو اردو ہے لیکن تعلیمی، دفتری، عدالتی، امتحانی اور اعلیٰ سطح کے روابط کا ذریعہ انگریزی ہے۔ اعلی سول سروس کے امتحانات سارے انگریزی میں ہیں۔ ملک میں انگریزی دس فیصد لوگوں کو بھی نہیں اتی لیکن تمام اہم معاملات انگریزی میں چلتے ہیں۔ انگریزی جو اس ملک پر مسلط نالائق بیروکریسی کی واحد "اہلیت” ہے۔ وہ اس واحد "اہلیت” کے بل بوتے قوم کی اوپر مسلط ہے۔ ملک و ملت بے شمار مسائل میں گرفتار ہیں ان کے حل میں تو ہمیں کوئی صلاحیت اس نالائق طبقے (بیروکریسی) کی نظر نہیں اتی لیکن اس نے ملکی وسائل، اختیارات اور مواقع پر بری طرح قبضہ جمالیا ہے۔
بیروکریسی کی انتظامی صلاحیت کا یہ حال ہے کہ گزشتہ ستر پچہتر برسوں میں ملک کا کوئی حل طلب مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ کراچی میں ایک بارش ہوتی ہے اور بستیوں کی بستیاں ڈوب جاتی ہیں۔ عمارتوں پر عمارتیں گر رہی ہیں ان حادثات پر وقتی شور شرابہ ضرور اُٹھتا ہے لیکن کوئی پائدار اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ وجود میں نہیں آتا۔ عدالتی نظام اس قدر فرسودہ ہے کہ وہاں انصاف تو درکنار لاکھوں کیسز التواء کا شکار ہیں اور ان پر برسوں بلکہ عشروں تک کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ تعلیمی نظام اس قدر ناکارہ ہے کہ ہر سال ہزاروں لاکھوں ڈگریاں بانٹ رہا ہے لیکن باصلاحیت افرادی قوت مارکیٹ کو میسر نہیں آ رہی۔
کرپشن کا دور دورہ ہے۔ وسائل کے ضیاع کا ایک منحوس چکر چاروں جانب چل رہا ہے۔ غربت اور جہالت نے اپنے خونی پنجے معاشرے کے اوپر گاڑھ رکھے ہیں۔ امن و امان کی صورتحال تو کبھی ٹھیک ہی نہیں ہوئی، کسی کے جان و مال محفوظ ہیں نا ہی عزت و آبرو، ترقی اور خوشحالی کی جانب کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور بنیادی ڈھانچے ایسی سہولتیں قوم کی استطاعت سے باہر ہیں۔ عیاشی اور محرومی میں معاشرہ بری طرح تقسیم ہے۔ ہر طرف تباہی، نا اہلی اور مایوسی حاوی ہے لیکن ان حال احوال میں بھی اگر کسی طبقے کی موجیں لگی ہیں تو وہ نا لائق، حریص اور مفاد پرست بیروکریسی ہے۔
قوم کو اس بات پر دھوکہ دیا جارہا ہے کہ انگریزی کے بغیر ترقی ممکن نہیں یہ ایک بے بنیاد خیال ہے کیا چین، جاپان اور یورپی ممالک نے اپنی اپنی زبانوں میں ترقی کر کے دنیا کو نہیں دکھایا؟ یہ خیال غلام اور بیمار ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ انگریزی کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک نااہل اور نالائق مسلط طبقے کے لیے ایک حربہ ہے باقی کچھ نہیں۔
قوم کو چاہیے کہ نفاذ اردو کی خاطر ایک قومی تحریک برپا کر کے اس کے دست و بازو بن کر قومی ترقی اور عمومی خوشحالی کے اس انقلابی دور کے آغاز میں اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائے جس میں پوری قوم کی خیر اور بھلائی پنہاہ ہے۔ اردو کو ہر سطح پر نافذ کرکے اس نا اہل اور نالائق طبقے کی اجارہ داری ختم کی جاسکتی ہے جو ملک پر اپنے قیام کے دن سے ہی مسلط ہے۔ ستمبر 2015ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اردو بطور سرکاری اور اعلیٰ سول سروس کی امتحانی ذریعہ نافذ کیا جائے لیکن دس سال گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر عمل درآمد کا موقع نہیں آیا قوم کو شک ہے کہ اس معاملے میں نالائق بیروکریسی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری درست سمت میں رہنمائی فرمائے اور ہمیں سیدھی راہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔