کیا ہی خوب ہو کہ علم، معیشت، صنعت اور مہارت ایک ہی چھت تلے آجائیں۔ اس عمل سے ایک طرف پیداوار اور معیار میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا تو دوسری طرف روزگار کا سیلاب امڈ آئے گا۔ میرا مطلب ہے معیشت علم پر مبنی ہو، علم معیشت سے جڑا رہے، دونوں کا رخ عالمگیر صنعت اور تجارت کی طرف ہو جائے اور ہاں انسانی فلاح و بہبود کے حصول کو مرکزی ستون کا درجہ حاصل ہو۔ تعمیرات، اصلاحات اور عمومی خوشحالی کے اہداف حکمت اور سمجھداری سے متعین ہو تاکہ خوشحالی کے اثرات سے کوئی طبقہ محروم نہ رہے اور ہاں بین الاقوامی سطح پر ہمارا تاثر ایک خدا پرست ملت کے طور پر پیش نظر ہو۔ یقین کریں اس طرزِ عمل کے فروغ سے خود ہمارے لیے بھی اور پوری انسانیت کے لیے بھی خیر کا ایک بڑا سرچشمہ جاری ہو جائے گا۔ اس منظر نامے کی تشکیل کو سادہ لفظوں میں مخلصانہ موافقت کہا جاتا ہے۔
موافقت ایک ایسا عمل ہے جس میں فرد یا معاشرہ بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ یہ صلاحیت نہ صرف بقاء کے لیے ضروری ہے، بلکہ تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کی بنیاد بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں یا افراد ضروری تبدیلیوں کو قبول اور مطلوب اصلاحات کو اختیار کرتے ہوئے اپنے طریقے بدل لیتے ہیں، وہی کامیابی کی منازل طے کرتے ہیں۔ موافقت کے بغیر، مشکلات سے نمٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، قدرتی آفات کے بعد جو معاشرے جلد بحال ہوتے ہیں، وہ اپنی حکمت عملی اور تعمیر نو کے طریقوں کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ موافقت صرف تبدیلی کو قبول کرنا نہیں، بلکہ اس سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی ہے۔ اس کے لیے ضروری لچک، دوراندیشی اور مستقل سیکھنے کا رویہ درکار ہوتا ہے۔ جو معاشرے یا افراد اس اصول کو اپناتے ہیں، وہ نہ صرف مسائل سے نمٹتے ہیں، بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی تلاش کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں علمی، معاشی، صنعتی اور تکنیکی دائرہ ہائے کار ایک دوسرے سے کماحقہ مربوط نہیں ہے۔ یونیورسٹی کو انڈسٹری کا اندازہ نہیں، انڈسٹری کو یونیورسٹی کا اتہ پتہ نہیں، کارخانہ دار کو ماہر نہیں مل رہا اور ماہر کو مناسب کام نہیں مل پا رہا۔ ہم گویا ایک قوم ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے گم ہو چکے ہیں۔ عصر حاضر کا کڑا تقاضا ہے کہ علم، دولت، صنعت اور مہارت باہم اچھی طرح بغلگیر ہو۔ اس سے ہمارے ہاں ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔ علم اور مارکیٹ جبکہ اخلاقیات اور ضروریات نیز مصارف اور اخراجات کے درمیان ایک توازن سماجی اور معاشی آسودگی اور تحفظ کی ضمانت ہے اس کے بغیر جدید صنعتی اور تجارتی دنیا میں، قابلِ قدر جگہ بنانا ممکن نہیں۔
امت مسلمہ کو اب اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تصور علم و فلاح اور تصور اخلاق و سماج کو پریکٹس میں لائے اور دنیا کو اسے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر دکھائے۔ انسانیت کی روح، حالات، مزاج اور معاملات میں جو بحران اٹھ گیا ہے اس کو خدا پرستانہ ذہنیت، انسان دوست مقصدیت، عمومی آفادیت، آسودہ روحانیت، اخلاقی رفعت اور بااقدار بین الاقوامیت سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عوام اور ریاستوں، مختلف طبقوں اور ممالک نیز اداروں اور تحریکوں کے درمیان مخلصانہ موافقت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ بینکاری، تعلیمی اداروں، ثقافتی سرگرمیوں، سیاحتی اسفار اور تجارتی تعلقات کے ذریعے باہمی موافقت کو کما حقہ فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انسانوں کے درمیان پائدار موافقت کا سب سے بڑا ذریعہ خدا ہے۔ انسان اگر حقیقی معنوں میں خدا سے جڑ جائیں تو لازماً وہ خود بھی ایک دوسرے کے موافق بن جائیں گے اور یوں مخلص بھی۔ انسانوں کی زندگی اور روح میں سب سے بڑا خانہ خدا کیلیے مختص ہے۔ یہ خانہ اگر خالی رہ جائے یا یہ غلط طور پر بھر جائے تو انسان، فرد اور قوم دونوں سطح پر بحران سے دوچار ہو جاتا ہے اور یہ صورتحال آج کے عالمی حالات سے بالکل عیاں ہے۔ ہم چند مظاہر کو لطیف سے اشارے کر رہے ہیں، آئیے ملاحظہ کریں۔
دولت کے ذخائر اور غربت دونوں میں برابر اضافہ ہو رہا ہے، انسانوں کے دل اور زبان کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں، معاشرہ محرومی اور عیاشی کے دو واضح دھاروں میں بری طرح تقسیم ہوچکا ہے، پیدوار اور بے روزگاری ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں، تعلیم اور روزگار کا پورا ڈھانچہ بے ترتیب سا ہوگیا ہے، جدید ایجادات اور سہولتوں نے چاروں جانب سے زندگی پر آسانیاں برسائی ہیں لیکن ساتھ ہی انسان کیلیے کاہلی سے کروٹ بدلنا مشکل ہو رہا ہے، نوجوان ذمہ داری (شادی) سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے جبکہ عیش(ناجائز تعلقات) میں ڈوبا ہوا ہے، دنیا میں باتیں انصاف کی ہو رہی ہیں لیکن کام سارے ظلم کے جاری و ساری ہیں، خواتین تیز واقع ہوگئی ہیں لیکن تیزی کی یہ دوڑ "شاپنگ مال” یا "پر شور کلام” تک محدود ہے۔ ایک جگہ اگر سرمایہ غیر ضروری طور پر اڑایا جا رہا ہے تو دوسری صورت میں صدیوں کی پیاس کو پانی کے چند قطروں (ٹکوں) سے بجھانے کی تدبیر ہو رہی ہے۔
دنیا پر ایک نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ کس طرح پوری دنیا میں ریاستی، سماجی، گروہی، جذباتی اور مفاداتی تقسیم نے بدترین نا انصافی کی لاکھوں شکلیں اختیار کی ہوئی ہیں، ایک ہی "وجود” کا ایک حصہ امن کیلیے تڑپ رہا ہے تو دوسرا حصہ جنگ کیلیے حرکت میں آرہا ہے۔ مختصر یہ کہ خدا سے بے نیاز انسان کا کوئی معاملہ بھی ٹھیک نہیں چل رہا، وہ کر کچھ رہا ہے اس سے ہو کچھ رہا ہے اس تناقض کو ختم کرنے کیلیے خدا اور انسان نیز انسان اور انسان کے درمیان مخلصانہ موافقت لازم ہے انسان جتنی جلدی اس جانب مراجعت کرلیں، بہتر ہے۔