ہمارے زیادہ تر انٹرنیشنل کھلاڑی ویل ایجوکٹیڈ نہیں ہوتے حتی کہ اکثر نے انٹرمیڈیٹ بھی مکمل نہیں کیا ہوتا ہے ۔ بس اکیڈمیوں میں کھیل پر فوکس اور آئے روز کے دنیا سے لاعلمی ۔
اسی لیئے جب باہر جاتے ہیں تو تقریباً سارے کمیونیکشن
سکلز سے عاری البتہ یہ کوئی اتنی قابل گرفت بات نہیں ۔
جاوید میانداد سے کسی نے کہا تھا تم توتلے ہو اور انگلش بھی نہیں آتی تو اس نے خوب جواب دیا کہ
"کرکٹ کی جو زبان ہے وہ میرے بلے کو خوب آتی ہے ”
ان چیزوں سے ہٹ کر گرومنگ نہ ہونے کی وجہ سے جب یہ کھلاڑی باہر ممالک جاتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ اب پاکستان سے باہر ہو جو جی چاہے کریں اسلیئے ان کے ساتھ منیجرز بھیجے جاتے ہیں ۔
درجہ ذیل تین کھلاڑی نیپال کا سپنر سندیپ لیمچنے ، ویسٹ انڈین شمر جوزف اور پاکستانی حیدر علی ہیں ۔
تینوں بدقسمت ریپ کیسیز میں ملزم ہیں البتہ سندیپ پر
تقریباً پانچ سال پابندی بھی لگ چکی تھی ۔
عورت کے بارے میں صرف باہر اور یورپی ممالک کا نہیں
بلکہ پورے دنیا میں ایک قاعدہ ہیں اگر باہمی رضامندی تھی تو محبت یا ڈیٹنگ کا نام اور اگر ذرا اونچ نیچ بھی ہو تو ریپ کی شکایت ۔
صرف پاکستانی نہیں پورے دنیا کے کھلاڑی ملوث ہوتے ہیں ایسے کیسز میں لیکن بات پھر ” باہمی رضامندی ” کی آتی ہے ۔
سندیپ تو زیادہ تر کرکٹ کھیل چکا ہے لیکن یہ دونوں آگے بڑھ سکتے تھے ۔ اور دونوں ٹیلنٹڈ پلیئرز ہیں ۔
ہمیں سلمان بٹ ، آصف اور عامر یاد تھے سٹاروں کے بھی سٹار بن سکتے تھے لیکن اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے والے تھے ۔
اسلیئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تربیتی سیشنز اور گرومنگ کا بھی انتظام کرنا چاہیئے ورنہ صرف بہترین کھیل ان کو بچا نہیں سکیں گے۔