دنیا کے گندہ ترین انسان، ایران کے جنوبی صوبے فارس کے گاؤں دیجگاہ سے تعلق رکھنے والے آمو حاجی عجیب و غریب زندگی گزار کر 23 اکتوبر 2022ء کو اپنے رب کے پاس پہنچ گئے۔ موصوف نے گندہ ترین انسان کا عالمی "اعزاز” اپنے نام کیا تھا۔ 94 سال پر محیط طویل زندگی میں دیکھنے والوں کو اس کے پاس گند، سیگریٹ، پر اسرار خاموشی، جنگلی پرندوں کا گوشت، بوسیدہ کپڑوں کے ڈھیر جبکہ پانی اور صابن سے اندوہناک خوف کے علاؤہ کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ ظاہری زندگی جو خود ساختہ گندگی اور محرومی سے عبارت تھی، دنیا کو واضح نظر آئی لیکن خاص بات یہ ہے کہ اپنی زندگی کے باطنی پہلو میں موجود رازوں کو انہوں نے انسانوں کی نظر سے بچا کر اپنے رب کے پاس لے گئے ہیں ممکن ہے موصوف کو اس حد تک پہنچانے میں گرد و پیش کے لوگوں کی بے شمار غفلتیں اور مظالم برابر کار فرما ہو۔
موصوف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیس سال کی عمر میں کسی گہرے جذباتی صدمے سے دو چار ہوئے تھے جس کے بعد وہ مسلسل 70 برس تک نہانے دھونے سے مجتنب رہے یہاں تک کہ موت سے صرف ایک ہفتہ قبل اہل محلہ نے زبردستی نہایا جس کے فوراً بعد وہ ایسے بیمار پڑے جس سے جانبر نہ ہوسکے اور یوں تاریخ کی کتاب میں ایک حیرت انگیز باب کا اضافہ کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا سے آنکھیں موڑ لیے۔ صحت، حفظان صحت، صفائی، تحفظ اور متوازن خوراک سے ٹوٹلی بے نیازی کے باوجود طویل عمر پانا، اس حقیقت کی علامت ہے کہ زندگی اور موت کا معاملہ زمین سے کہیں زیادہ آسمانی ہے۔
موصوف کو کسی وجہ سے یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ نہانے سے وہ بیمار ہو جائیں گے اور اسی خوف نے اس کو پانی اور صابن سے آخری حد تک متنفر کر دیا تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے بے تحاشہ کوششیں کیں کہ کسی طرح آمو حاجی کو صاف ستھری اور نارمل زندگی کی طرف واپس لے آئے لیکن وہ سارے ناکام رہیں اور آمو جی گندی زندگی پر پوری مستقل مزاجی سے ڈٹے رہے یہاں تک کہ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے اس کے بوسیدہ جسم سے روح کھینچ لی جس سے وہ مٹی نما جسم، ابدی طور پر مٹی میں جا ملا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آرنا کے مطابق "آمو حاجی نے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک نہ تو غسل کیا تھا اور نہ ہی کبھی صابن کا استعمال کیا تھا۔ وہ تنہا زندگی گزارتے تھے اور اتوار کے روز ایران کے جنوبی صوبہ فارس کے ایک گاؤں دیجگاہ میں انتقال کر گئے اس کی موت کی خبر کو عالمی میڈیا نے خاص کوریج دی۔
ایرانی میڈیا کے ایک مقامی اہلکار نے اطلاع دی ہے کہ آمو حاجی ”بیمار ہونے” کے خوف سے نہانے دھونے سے گریز کرتے تھے۔ تاہم ”کچھ روز قبل پہلی بار” گاؤں والے انہیں غسل کے لیے زبردستی غسل خانے میں لے کر گئے تھے۔
گاؤں والے اکثر ان پر نہانے دھونے کے لیے دباؤ بھی ڈالتے رہے، تاہم اس سلسلے میں کسی کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ لیکن کچھ روز قبل بعض لوگوں نے انہیں زبردستی غسل دینے کی کوشش کی اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ آمو حاجی آخر کار دباؤ کے سامنے جھک گئے اور انہیں غسل دیا گیا۔
2013ء میں آمو حاجی کی زندگی پر ”آمو حاجی کی عجیب زندگی” کے عنوان سے ایک مختصر دستاویزی فلم بھی بنائی گئی تھی جس کے بعد اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
آمو حاجی ایک تارک الدنیا قسم کے انسان تھے اور ایران کے جنوبی صوبے فارس میں مقیم تھے۔ سن 2014 میں "تہران ٹائمز” کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ "ان کا پسندیدہ کھانا ایک جنگلی جانور ساہی (پرکیو پائن) ہے”۔
ان کا کہنا تھا کہ "وہ اکثر زمین کے اندر ایک غار میں رہتے ہے یا پھر دیجگاہ گاؤں کے پڑوسیوں نے اینٹوں کی ایک جھونپڑی تعمیر کی ہے وہاں رہتے ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ بچپن میں ہی انہیں غیر معمولی ”جذباتی دھچکہ لگا” تھا جس کی وجہ سے وہ دنیا سے مکمل طور پر بیزار ہو گئے تھے”۔
کئی عشروں سے نہ نہانے کی وجہ سے ان کی جلد ”کاجل نما سیاہی اور پیپ” سے ڈھکی ہوئی تھی۔ ان کی خوراک میں سڑا ہوا گوشت بھی شامل تھا جبکہ وہ تیل کے ایک پرانے ڈبے سے پانی پیا کرتے تھے، جو بالعموم صاف نہیں ہوتا تھا۔
انہیں تمباکو نوشی کا بھی کافی شوق تھا اور اکثر و بیشتر وہ ایک ہی وقت، متعدد سگریٹ کا کش لگاتے تھے۔ وہ نہلانے یا پینے کے لیے صاف پانی دینے کی کوششوں سے سخت اداس ہوتا تھا۔ وہ سرد موسم کی شدّت سے بچنے کے لیے بوسیدہ کپڑوں کی ڈھیر اوڑھے رہتا جبکہ گرمیوں میں لباس سے کافی حد تک بے نیاز ہو جاتا۔
آمو حاجی کی گندی زندگی میں ہمارے لیے ایک پاکیزہ سبق پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جب بھی کوئی بندہ اپنی زندگی میں کسی صدمے سے گزرے تو سماج کے سب لوگوں کو مل کر اسے حوصلہ، سہارا اور تسلی دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں اور اسے نارمل زندگی کی طرف لانے میں غفلت سے کام قطعاً نہیں لینا چاہیے۔ آمو حاجی تو خیر گندگی کی طرف چلا گیا تھا لیکن مطالعہ بتاتا ہے کہ شدت پسندی، دہشت گردی اور تخریب کاری کے راستوں پر بھی زیادہ تر وہ لوگ چل پڑتے ہیں جو مختلف صدموں سے گزر جاتے ہیں لیکن انہیں تسلی دے کر واپس نارمل زندگی کی طرف لانے کے لیے کوئی خاص اجتماعی کوشش نہیں ہو رہی۔