یہ بستی۔۔ کیسی بستی ہے۔۔؟؟

کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اندر آپ اپنے پلاٹ کے گرد چار دیواری بنا کر ایک گائے یا بھینس، جس کا دودھ آپ اپنے گھر میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، نہیں پال سکتے۔ اگر آپ پالتے ہیں تو آپ کو مجبور کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا ہے کہ آپ اسے فوراً ہٹا دیں۔ اور اس کے بعد آپ ہر روز گوالے سے دودھ خریدیں۔ لیکن گوالے کو پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خالص دودھ دے اور پانی نہ ملائے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ آپ اگر خالص دودھ کے لیے گائے یا بھینس رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اجازت نہیں ہے، گوالے کو اجازت ہے کہ وہ پانی ملائے، اس کو کوئی پکڑ نہیں سکتا، کوئی روک نہیں سکتا اور آپ مجبور ہیں کہ وہ پانی ملا دودھ اس سے لے کر پیئیں؟ اور اس کو پیسے بھی دیں۔ یہ کیسا قانون ہے اور کیسا انصاف ہے کہ آپ اپنے بیوی بچوں کے لیے خالص دودھ کا انتظام کرنے کے لیے گائے اور بھینس نہیں پال سکتے کیونکہ بائی لاز اجازت نہیں دیتے لیکن ایسا کوئی قانون ایسے کوئی بائی لاز نہیں ہیں جو اس گوالے کو روک سکیں جو خود بھی حرام کھا رہا ہے اور آپ کو بھی حرام کھلا رہا ہے۔

اس معاشرے کی ان کواپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ایک اور اخلاقی، معاشرتی اور انصاف پر مبنی حرکت ملاحظہ کریں کہ گائے اور بھینس جو کہ پاک جانور ہیں، جن کا دودھ نور کہلاتا ہے، بائی لاز آپ کو یہ پاک جانور رکھنے پر منع کرتے ہیں جبکہ ایک نجس، ناپاک اور غلیظ جانور جس کو گھر میں رکھنے پر وعید سنائی گئی ہے، جس کو گھر میں رکھنے پر اپ کی نیکیاں روزانہ کی بنیاد پر کم کر دی جاتی ہیں، اور گناہ روزانہ کی بنیاد پر بڑھا دیے جاتے ہیں ، وہ آپ گھر میں ایک رکھیں، دو رکھیں یا تین رکھیں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے بائی لاز اس کی بخوشی اجازت دیتے ہیں۔ کوئی عدالت اس پر آپ کو سزا نہیں دیتی۔ کوئی پڑوسی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔

یہ کیسی بستیاں ہیں یہ کیسے قوانین ہیں۔ کیا یہ انسانوں کی بستیاں ہیں؟

کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے یہ کیسے بائی لاز ہیں کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، سی ڈی اے اور آر ڈی اے کے آرڈرز کے باوجود رہائشی پلاٹوں میں پراپرٹی ڈیلر اپنے دفتر کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ دائیں والے گھر میں فیملی رہتی ہے، بائیں والے گھر میں فیملی رہتی ہے، درمیان والے گھر میں پراپرٹی ڈیلر بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں پہ سارا دن کس قماش کے لوگ آتے ہیں اور جاتے ہیں، وہ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔ اور ان پراپرٹی کے دفتروں کے لوگ اپنے ان دفتروں کے باہر باقاعدہ میز کرسیاں لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر آنے جانے والی خواتین چاہے پیدل ہوں، موٹر سائیکل پر ہوں یا گاڑیوں میں ہوں، ان کو ایسے گھورتے ہیں اور ایسے تاڑتے ہیں جیسے ٹکٹ لے کر دیکھنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان پر کوئی پابندی نہیں ہے، کیوں کہ پراپرٹی ڈیلر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے اپنے مفاد کے لوگ ہیں۔

جبکہ قانونی صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد میں رہائشی پلاٹس کے کمرشل استعمال کے خلاف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح اور مستند عدالتی احکامات موجود ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 22 جنوری 2015 کو فیصلہ دیا کہ رہائشی عمارتوں میں کمرشل ایکٹیویٹیز کو تین ماہ کے اندر بند کیا جائے۔ عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت دی کہ وہ رہائشی علاقوں کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

18 مئی 2024 کو، اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوبارہ سی ڈی اے کو رہائشی جگہوں پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی 20 مئی 2022 کو ایک اہم فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی۔
یہ کتنی زیادہ مضحکہ خیز اور قہقہ لگانے والی بات ہے کہ وہ شخص جو سینہ تان کر دن دہاڑے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا رہا ہے بنیادی انسانی حقوق کو اپنے پیروں تلے روند رہا ہے وہ اپنے پڑوسی پر اعتراض کرے کہ اس نے گائے اور بھینس رکھی ہوئی ہے۔ اور سوسائٹی کے انتظامیہ اس کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دینے کے بجائے آپ کے گھر پہنچ جائے کہ پڑوسی اعتراض کر رہے ہیں آپ گائے اور بھینس یہاں سے ہٹا دیں۔
آپ امن پسند پڑھے لکھے اور شریف ادمی ہیں آپ ان کی بات مان کر اسے ہٹانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا انتظامیہ اور پراپرٹی ڈیلر امن پسند ہیں ؟ کیا وہ عدالتی احکامات اور قانون کے مطابق رہائشی ایریا سے اپنا پراپرٹی دفتر ختم کریں گے؟ اور انتظامیہ انصاف سے کام لیتی ہے یا نہیں؟

یہ سب تضادات صرف حیران کن ہی نہیں بلکہ شدید شرمندگی کا باعث ہیں — جہاں عدالتی احکامات رہائشی پلاٹوں اور مکانوں کے کمرشل استعمال کو روک رہے ہیں، وہاں نجس جانور پر خاموشی ہے مگر پاک اور مفید جانور پر پابندی ہے۔ واضح عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہائشی پلاٹوں پر کھلے پراپرٹی کے دفتروں کو بھی کھلی چھوٹ ھے۔ اور سوسائٹی کی انتظامیہ آنکھیں بند کر کے خاموش بیٹھی ھے۔ اَب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا یہ لوگ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کو کچھ عزت دیتے ہوئے ان رہائشی مکانوں اور پلاٹوں سے اپنے پراپرٹی کی دفتر ختم کرتے ہیں یا کوئی قانون پسند اور انصاف پسند شہری سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی توجہ ان کی جانب مبذول کروا کر ان سے قانون کے تقاضے پورے کرواتا ہے؟

اچھے معاشرتی ماحول کا تقاضہ یہی ہے کہ قانون پر عمل درامد ہر صورت میں ممکن بنایا جائے۔ عوام کو بیوقوف سمجھ کر ان کے بنیادی حقوق سے کھیلنا افسوس ناک بھی ہے اور قابل مذمت بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے