جماعت اسلامی: نچلی سطح پر کام کا طریق کار

جماعت اسلامی آز اول تا آخر دعوت دین اور اقامت دین کی ایک ہمہ گیر تحریک ہے۔ انفرادی طور پر جماعت کا کام افکار کی اصلاح، اخلاق کی تطہیر اور کردار کی تعمیر سے ہوتا ہوا معاشرے میں اجتماعی معاملات اور حالات کی اصلاح جن میں سماجیات، معاشیات اور سیاسیات کی اصلاح شامل ہے، تک دراز ہے۔ جماعت میں اصلاح کے حوالے سے بہت ہی سادہ، فطری اور واضح تصور موجود ہے اور وہ یہ کہ معاملات حیات میں، انفرادی ہو یا اجتماعی، ارادی طور پر اللہ تعالیٰ کی منشاء کو دیکھا جائے۔

جماعت اسلامی میں اس کام کا آغاز خلوص نیت سے ہوتا ہے جو کہ ایک خاص قلبی اور روحانی کیفیت کا نام ہے یعنی ایک بندہ خالص رضائے الٰہی کے تحت جماعت میں شامل ہوتا ہے، نظم کی پابندی کا حلف اٹھاتا ہے، اپنی مخلصانہ اور رضاکارانہ حمایت و معاونت سے تحریک کو تقویت پہنچاتا ہے پھر مطالعے اور تربیت سے مزید قوت پا کر دین کے ہمہ جہت کاموں میں پیش قدمی کرتا ہے اور بالآخر سیاسی اور اجتماعی جدوجہد کے مختلف عنوانات سجاتا ہے۔

جماعت اسلامی نے اپنی تنظیم کے مطابق کام کے واسطے یو سی (UC) کو بنیادی اکائی قرار دیا ہے۔ علمی طور پر قرآن و حدیث کے دروس کو دعوت دین کا ذریعہ بنایا ہے، دین کے گہرے، وسیع اور متوازن تفہیم کے لیے سٹڈی سرکل کی روایت ڈالی ہے، اسلام کو بطورِ نظام زندگی اٹھانے اور سمجھانے میں اپنے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا ہے جبکہ اسلامی نظام زندگی کا قیام تو جماعت اسلامی کی تمام تر جدوجہد کی بنیادی منزل قرار پایا ہے۔ جماعت اس حقیقت پر یقین رکھتی ہے کہ اسلام انسانیت کے لیے خدائی ضابطہ حیات ہے جس کی مکمل اور مخلصانہ پیروی ہی دین و دنیا کی سعادت اور نجات کا باعث ہے۔

یو سی سطح پہ چار بنیادی شعبے اور چار خصوصی دائرہ کار مقرر ہیں۔ شعبہ جات میں شعبہ دعوت، شعبہ تربیت، شعبہ خدمت اور شعبہ سیاست قائم ہیں جبکہ دائرہ ہائے کار میں نوجوان، خواتین، علماء اور عام لوگ شامل ہیں مزید برآں مالیات، اطلاعات اور تنظیمی معاملات بھی مجموعی ڈھانچے کے اہم حصے ہیں۔ ہفتہ وار دروس قرآن و حدیث، پندرہ روزہ تربیتی پروگرامات، خصوصی مہمات، ماہانہ اجتماع ارکان، ہنگامی حالات میں ضروری خدمات کی فراہمی جبکہ سیاسی سرگرمیاں بھی ایک مربوط نظام کے تحت انجام دئیے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی اپنے بنیادی تصور یعنی اسلامی نظام زندگی کے قیام، ایک ضخیم اور مربوط اسلامی لیٹریچر کی تشکیل، غیر فرقہ وارانہ سوچ، عملی نقطہ نظر، دین و دنیا کی تفریق کی نفی، معاشرے کے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ طبقات میں پزیرائی، دیانت و بصیرت کی حامل اور ہر طرح کے کرپشن سے پاک قیادت، قیادت کو منتخب کرتے وقت دولت اور موروثیت کی بجائے میرٹ اور جمہوریت کو پیش نظر رکھنا، بہترین نظم و ضبط اور فلاحی خدمات کے لیے بین الاقوامی شہرت رکھتی ہے۔

جماعت اسلامی میں ماہانہ اجتماع ارکان ایک مستقل تنظیمی عمل ہے، یہ گویا جماعت میں تنظیمی اعتبار سے سب سے اہم پروگرام ہوتا ہے، جس میں گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آئندہ کے اہداف بھی طے کیے جاتے ہیں۔ خاص حال احوال کے حوالے سے خاص سرگرمیاں اور پروگرامات بھی اسی موقع پر تشکیل دیئے جاتے ہیں۔ اس پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوتا ہے اور انفرادی محاسبہ پر جس کا اختتام ہوتا ہے۔ بلعموم تربیتی عمل سے گزرنے والے امیدواران رکنیت اس پروگرام میں حلف رکنیت اٹھاتے ہیں اور یوں وہ باقاعدہ جماعت میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اجتماع ارکان چونکہ ایک ایجنڈے کے تحت منعقد ہوتا ہے اس لیے پروگرام کا ماحول نہایت سنجیدہ، باوقار، منظم اور خاموش طبع ہوتا ہے۔

میں یو سی سطح پر اجتماع ارکان کا ایک (حقیقی خاکہ) پیش کرتا ہوں جس کا میں گزشتہ پانچ برس سے حصہ ہوں یہ کچھ عرصہ پہلے کا پروگرام ہے اس سے آپ کو جماعت کا کام سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔

آئیے ملاحظہ کریں

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، پھر باہمی تعارف کا مرحلہ طے ہوا، اس کے بعد انفرادی اعمال کا جائزہ لیا گیا یعنی نماز با جماعت، مطالعہ قرآن و حدیث، اجتماع اہل خانہ اور مطالعہ لیٹریچر وغیرہ پھر مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا گیا اور ساتھ ہی آئندہ کے لیے مختلف دعوتی، تنظیمی اور سیاسی اہداف بھی طے ہوئیں اس کے ساتھ ہی ایک نئے رکن (جناب جمیل بھٹی صاحب) نے رکنیت کا حلف اٹھایا، موصوف اعلیٰ تعلیم یافتہ اور چین کے ایک خبر رساں ادارے سے وابستہ ہیں، نہایت سنجیدہ، ذہین اور باشعور انسان ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی سعادتیں نصیب فرمائے۔ پھر امید واران کی لسٹ فائنل ہوگئی۔

آخر میں امیر جماعت اسلامی اسلام آباد محترم نصر اللہ رندھاوا نے دعوت کی اہمیت و افادیت پر مختصر مگر جامع اور مؤثر روشنی ڈالی موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ "جماعت کا 70 75 فیصد کام دعوت پر مشتمل ہے، دعوت کے توسط سے ہی اللہ کی مخلوق کو اللہ کا پیغام پہنچتا ہے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے اور دعوت ہی کے نتیجے میں کارکن بنتے ہیں، ووٹرز بنتے ہیں، لوگوں کو جماعت کے مقاصد سے شناسائی ہوتی ہے اور یوں کام بہتر انداز سے آگے بڑھتا ہے”۔

امیر ضلع کے خطاب کے بعد ناظم یو سی کا انتخاب عمل میں آیا جو کثرت رائے سے (رفیع اللّہ صدیقی) منتخب ہوا موصوف جید عالم، مخلص کارکن اور ایک بڑے تعلیمی ادارے (کشمیر اسلامک اکیڈمی بھارہ کہو اسلام آباد) کے ڈائریکٹر ہیں جس میں تعلیم و تربیت کا بہترین معیار اور امتزاج قائم ہے۔ موصوف نے اپنی ذمہ داری کا حلف اٹھایا دوران حلف شدّت احساس سے آبدیدہ ہوئیں ہم نے استقامت کی دعا دی اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی یوں دعا سے اس روح پرور پروگرام کا اختتام ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے