اسلام آباد، جسے پاکستان کا چہرہ اور شہرِ اقتدار کہا جاتا ہے، حالیہ دنوں ایک نہایت حساس اور متنازع معاملے کی زد میں ہے.دارالحکومت کی متعدد مساجد کو غیر قانونی تعمیرات قرار دے کر گرانے یا خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف مذہبی جذبات کو جھنجھوڑ رہا ہے بلکہ آئینی و قانونی دائرہ کار اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کو بھی بحث کے کٹہرے میں لے آیا ہے۔
اسلام آباد کی منصوبہ بندی 1960 کی دہائی میں بین الاقوامی طرز پر کی گئی، جہاں مخصوص سیکٹرز، گرین بیلٹس، پارکس اور قدرتی مناظر کا تحفظ لازمی قرار دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے تحفظِ قدرتی مناظرات آرڈیننس 1966 نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے تحت گرین بیلٹ اور رہائشی سیکٹرز میں بغیر اجازت تعمیرات ممنوع ہیں۔
سی ڈی اے (Capital Development Authority) کے مطابق، کئی مساجد ان جگہوں پر قائم کی گئیں جہاں زمین مخصوص مقاصد کے لیے مختص تھی، یا پھر تعمیرات کی منظوری نہیں لی گئی۔
حالیہ سروے کے بعد 50 سے زائد مساجد کو نوٹسز جاری کیے گئے، جن میں بعض وہ بھی ہیں جن کی تعمیر میں خود سی ڈی اے یا سرکاری اداروں نے سہولت فراہم کی تھی۔ ان میں فیصل مسجد اور راول ٹاؤن کی ایک مسجد بھی شامل ہیں، جو تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
مزید برآں، اسلام آباد کی مدنی مسجد، جو راول ڈیم کے قریب واقع تھی، کو غیر قانونی قرار دے کر گرا دیا گیا، جس پر عوامی ردعمل خاصا شدید دیکھنے میں آیا۔
اس اقدام پر مذہبی جماعتوں، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام اور جمعیت اہلِ سنت والجماعت نے سخت ردعمل دیا۔
علما نے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
جمعیت علمائے اسلام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یہ نوٹسز واپس لیے جائیں اور مساجد و مدارس کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
مساجد کے پیشوا اور منتظمین نے ایک مشترکہ اجلاس بلا کر عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
کئی منتظمین نے پٹیشنز دائر کر کے اسٹے آرڈرز حاصل کر لیے، جس کے بعد فوری طور پر انہدام کا عمل کئی جگہ رک گیا۔
حکومتی اور سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ:
قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ رہائشی پلازہ ہو یا مسجد۔
اسلام آباد کے گرین بیلٹس اور پارکس عوام کی مشترکہ ملکیت ہیں، انہیں کسی ایک مقصد کے لیے مستقل طور پر قبضے میں نہیں دیا جا سکتا۔
اگر مساجد کو قانونی متبادل جگہ فراہم کی جائے تو دینی ضروریات بھی پوری ہوں گی اور ماحولیاتی اصول بھی متاثر نہیں ہوں گے۔
یہ مسئلہ محض مساجد کا انہدام نہیں، بلکہ قانون، مذہب، ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کا معاملہ ہے۔
قانونی پہلو: آئین پاکستان مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، مگر ساتھ ہی ریاستی قوانین کے تحت زمین کے استعمال کی حدود بھی واضح ہیں۔
سماجی پہلو: مساجد عوام کی مذہبی و سماجی زندگی کا مرکز ہیں، اس لیے ان کے انہدام کو جذباتی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
ماحولیاتی پہلو: گرین بیلٹس اور پارکس کا تحفظ اسلام آباد کے ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔
آگے کا راستہ
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں:
1. حکومت اور مذہبی حلقوں کے درمیان بامقصد مذاکرات۔
2. قانونی طریقے سے متبادل جگہوں پر مساجد کی تعمیر۔
3. ایسی پالیسی بنانا جو ماحولیاتی تحفظ اور مذہبی ضروریات دونوں کو یکساں اہمیت دے۔
4. ماضی میں دی گئی سرکاری سہولتوں کا ریکارڈ شفاف انداز میں سامنے لانا، تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
اسلام آباد کی مساجد کا مسئلہ محض ایک شہر کا انتظامی تنازع نہیں بلکہ یہ پاکستان میں قانون، مذہب، ماحولیات اور عوامی جذبات کے مابین توازن کا امتحان ہے۔ اگر اس معاملے کو دانشمندی اور شفافیت سے حل نہ کیا گیا تو یہ ایک طویل اور شدید تنازع میں بدل سکتا ہے، جو نہ صرف دارالحکومت بلکہ پورے ملک کے امن و ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔