جس طرح روانہ ہونے والے سیلاب کا قریبی علاقے میں کچھ وقت بعد پہنچنا یقینی ہوتا ہے، اسی طرح ریاست کے بااختیار لوگوں کے منفی رویوں اور غلط پالیسیوں سے ملک کے اندر انتشار کا آنا بھی یقینی ہوتا ہے۔ اس انتشار کا دائرہ اس وقت مزید تیزی سے وسعت اختیار کرتا ہے جب ذمہ دار لوگ اپنے منفی رویوں اور پالیسیوں کے دفاع پر اتر آتے ہیں۔ ذمہ داروں کا یہ منفی رویہ ان کی نااہلی، خودغرضی، اور ریاست و اس کے باشندوں کے ساتھ بے وفائی کی خبر دیتا ہے۔
ہمارے ملک کے موجودہ حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہاں امن، روزگار، رزق، اور زندگی کی بنیادی ضروریات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لوگ ریاست سے محرومی کا شکار ہیں؛ بلکہ ان کی محرومی دن بدن نفرت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ اور جہاں محرومی نفرت کی شکل اختیار کرتی ہے، وہاں مثبت ردِعمل سے کئی گنا زیادہ منفی ردِعمل پیدا ہوتا ہے۔ ریاست کے باشندوں سے اس وقت تک مثبت ردِعمل کی توقع کی جا سکتی ہے جب تک بااختیار لوگ اپنے منفی رویوں اور غلط پالیسیوں کا دفاع نہیں کرتے، لیکن جب وہ ایسا کرتے ہیں تو منفی ردِعمل پر پابندی کے نتیجے میں مزید انتشار کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ مختلف اطراف سے جدائی کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں، اور یہ انتشار کی انتہا ہوتی ہے۔
اس کے بعد عملی جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو صاحبِ اختیار لوگوں کے پاس زبانی شکوہ کرنے کا اخلاقی جواز بھی نہیں رہتا۔ ایسی صورتِ حال میں واعظ اور ناصح کی زبان بند کرنا متنفر عوام اپنا حق سمجھتے ہیں، اور ان کے ان رویوں کے پیچھے ریاستی ادارے اور حکمران ہوتے ہیں۔ اس وقت معاشرے کے سنجیدہ افراد بھی کلی طور پر نہ سہی، جزوی طور پر ضرور متنفر عوام کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ حکمران طبقے کے رویوں کے یہ اثرات عام عوام پر پڑتے ہیں، اور عوام میں ہر قسم کے پروفائل اور ذہنیت کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی طرف سے کسی بھی ردِعمل کو ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ مثلاً غلطی حکومت اور اداروں میں موجود عہدیداروں کی ہوگی، مگر نشانے پر ریاست کا مذہب آئے گا، نشانے پر ملک اور ریاست کا بنیادی نظریہ آئے گا۔
یہ جو کچھ عرض کیا گیا، ان سارے حالات کا ہم اپنے ملک میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس لیے اگر حکومت اور اداروں نے اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو بہت تھوڑے وقت کے بعد یہ مسائل اتنی پچیدگی اختیار کر جائیں گے کہ سنجیدگی کے ذریعے بھی ان کا حل مشکل ہو جائے گا۔ وہ لوگ جو آج مثبت اپروچ کے ذریعے مسائل کے حل کی تجاویز دیتے ہیں، حالات کے مزید بگڑنے پر وہ بھی اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور تمہیں اکیلے اپنے حال پر چھوڑ دیں گے۔ یعنی معاشرے کے سنجیدہ اور دانشور لوگ محض تماشا دیکھیں گے کیونکہ اس کے علاوہ ان کے بس میں کچھ نہیں ہوگا۔ ایسے حالات میں ایک مغموم شخص زیادہ سے زیادہ صرف اتنا کر سکے گا کہ اپنی آنکھیں بند کر لے، تاکہ جو تباہی وہ جسمانی اور ذہنی طور پر محسوس کر رہا ہو، وہ اسے اپنی آنکھوں سے کم از کم نہ دیکھے۔
پورے ملک میں بالعموم، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بالخصوص، مسائل کے فوری حل کے لیے اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی جائے اور کسی لیت و لعل کے بغیر انہیں حل کرنا شروع کیا جائے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ملک کے مختلف حصوں کے دانشوروں، میڈیا پرسنز، مذہبی، سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کو جمع کیا جائے۔ ساتھ ہی مختلف علاقوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اثر و رسوخ رکھنے مشران کو بھی اس اکٹھ کا حصہ بنایا جائے۔ لیکن یہاں یہ واضح رہے کہ شامل کیے جانے والے اثر و رسوخ کے حامل افراد وہ ہوں جو سیدھے سادھے (Straightforward) ہوں۔ ریاست کی طرف سے اس اجتماع میں شامل ہونے والے نمائندے کٹھ پتلیاں نہ ہوں، بلکہ انہیں حقیقی اختیار دیا جائے۔
ریاست کو اس پلیٹ فارم پر لوگوں کے خدشات، اعتراضات اور سوالات سننے چاہئیں۔ جہاں عوام کا موقف حق بجانب ہو، اسے فوراً عملی طور پر تسلیم کیا جائے، اور جہاں موقف میں کجی ہو، وہاں دلیل کے ذریعے اسے رفع کیا جائے۔ اس ضمن میں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ جب تک مسائل کا حل نہ نکلے، یہ مشترکہ پلیٹ فارم برقرار رکھا جائے۔ اگر مسائل حل نہ ہوں تو اس پلیٹ فارم کو مزید فعال بنایا جائے۔ یعنی رکاوٹوں کے مقابلے میں پلیٹ فارم کی کارکردگی کئی گنا زیادہ ہونی چاہیے۔
محروم علاقوں (خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے بعض حصوں) کو زندگی کی بنیادی ضروریات ممکنہ حد تک فراہم کی جائیں۔
قبائلی علاقوں کو خصوصی ترجیح دی جائے کیونکہ وہاں کے لوگ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کی محرومیوں کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے۔
اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو بہت جلد ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو صاحبِ اختیار لوگوں سے متنفر قوم کے متوقع رویوں سے جنم لیتے ہیں۔
اس سلسلے میں عالمی قوتوں اور اندرونی مفاد پرست گروہوں کے دباؤ کی مشکل موجود ہے۔ اس حوالے سے مطمئن رہیں: یہ عوامل عملاً ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اگر پہنچائیں بھی تو وہ نقصان اس نقصان کے مقابلے میں کچھ بھی نہ ہوگا جو اندرونی انتشار سے ہمیں پہنچے گا۔ اس لیے اس ملک اور اس کے عوام پر رحم کیجیے۔ ذمہ دار لوگ اپنی ذمہ داریاں محسوس کرتے ہوئے مسائل کے مثبت حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ عملی تبدیلی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوام کی طرف سے بھی مثبت اجتماعی مزاحمت ضروری ہے، جس میں بلا مسلک، قوم، پارٹی یا علاقے کی تفریق سب کو شامل ہونا چاہیے۔ یہ حالات منظم، مثبت اور اجتماعی جدوجہد کے متقاضی ہیں۔
یہ تحریر لکھتے وقت ذہن میں بار بار اقبال کا شعر گونجتا رہا:
تیرے عشق میں انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی تو دیکھ، کیا چاہتا ہوں
مگر پتہ نہیں کیوں، دل میں روشنی کی ایک کرن آئی اور امید کے لاشے میں سانس بھرنے لگی کہ نہیں، سارے لوگ بے وفا نہیں ہوتے۔ ہر کوئی نااہل، مفاد پرست اور خودغرض نہیں ہوتا۔ اس ملک کی سیاست، اداروں اور معاشرے میں آج بھی مخلصین موجود ہیں۔ اور یہی مخلص طبقہ ہماری امیدوں کا چراغ ہے۔