مجھے زندگی میں پہلی بار، ملکی سرحدوں سے باہر قدم رکھنے کا موقع 29 فروری 2024 کو نصیب ہوا۔ اگر چہ میں سیاحت کا بے تحاشہ جذبہ رکھتا ہوں اور ہمیشہ خدا سے دُعا گو رہتا ہوں کہ مجھے تب تک موت نہ آئے جب تک آپ کی پیدا کردہ پوری دنیا نہ دیکھ سکوں لیکن ہر کام کے لیے انسان کی تدبیر اور خدا کی تقدیر میں ایک ترتیب مقرر ہے اور بندہ چار و ناچار اس کے مطابق چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔
سفر محض ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہونا نہیں بلکہ ایک اہم ترین تاریخی عمل ہے۔ سفر خیر و برکت کا ذریعہ ہے، کامیابی و کامرانی کا وسیلہ ہے، تحمل اور وسیع الظرفی کا باعث ہے، علم و ادراک کا راستہ ہے مزید برآں امکانات اور مواقع کا ایک پورا خزانہ ہے۔ سفر پر آمادہ لوگ کامیابی سے زیادہ قریب ہوتے ہیں جبکہ اجتناب برتنے والے ناکامی کے نرغے میں رہتے ہیں اس لیے دوستوں کو پیغام ہے کہ ہر ممکن حد تک سفر لازم رکھیں یہ آپ کی زندگی اور حالات دونوں میں خوشی لائے گا۔
اگر چہ میں ایک عرصے سے کینیڈا دیکھنے کی خواہش دل میں لیے صبح و شام کرتا رہا لیکن قدرت کو عالم عرب دکھانا منظور ہوا اور یوں ہم اِدھر وارد ہوئیں بلا خوف تردید کہتا ہوں عالم عرب مغربی دنیا سے کسی صورت کم نہیں امن و امان، صفائی ستھرائی، ترقی و خوشحالی، نظم و ضبط اور کاروبار حیات کی ہموار روانی یہاں بالکل ویسے ہی ہیں جیسا کہ یورپ یا امریکا وغیرہ میں بلکہ میرے شریک سفر سجاد علی خان تو مصر ہے کہ متحدہ عرب امارات "یورپ پلس” ہے۔ یہاں وہ سب کچھ موجود ہیں جس کے لیے لوگ پورپ میں توقع رکھتے ہیں اور اس کے علاؤہ بھی بہت کچھ ایسا بھی پایا ہے جس سے یورپ کا دامن خالی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں ایک غیر ترقی یافتہ صحرائی خطے سے عالمی سطح پر ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور بااثر ملک بننے تک کا قابل رشک سفر طے کیا ہے۔ یہ ملک نہ صرف معاشی لحاظ سے مضبوط ہے بلکہ اس نے اپنے شہریوں کی خوشحالی اور معیار زندگی کو بھی اپنی خاص ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اس کے بانی صدر شیخ زاید بن سلطان النہیان نے ملک کی ترقی کے لیے مضبوط بنیادیں رکھیں جنہیں اب "بابائے قوم” کہا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں نیشنل چارٹر فار ہیپی نیس اینڈ پوزیٹیویٹی کے نام سے ایک پروگرام تشکیل دے دیا گیا ہے اور یہ پروگرام حکومت کو ہر فرد، خاندان اور مجموعی طور پر پورے معاشرے کی خوشحالی کے لیے سازگار ماحول بنانے کا پابند بناتا ہے۔ نیشنل سروے فار ہیپی نیس اینڈ پوزیٹیویٹی کا سروے ملک بھر میں ہر سال خوشی کے معیار کو ناپتا ہے اور حکومت کو بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح ڈیجیٹل معیار زندگی کی پالیسی ایک مثبت اور محفوظ ڈیجیٹل کمیونٹی بنانے کے لیے فریم ورک مہیا کرتی ہے۔
متحدہ عرب امارات دو سو سے زائد قومیتوں کا گھر بن چکا ہے ان قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں کاروبار کرتے ہیں، رہائش رکھتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پورا اس ملک کی سیاحت کرتے ہیں۔ یہاں کے باشندے عالمی معیار کے شہری حقوق اور مذہب پر عمل کی آزادی سے بخوبی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی کہانی محض معاشی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی متاثر کن مثال ہے جہاں خوشحالی، رواداری اور جدت طرازی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اپنے بانیوں کے وژن اور موجودہ قیادت کی دور اندیشی سے متحدہ عرب امارات نے ثابت کیا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی، عزم اور عوامی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ سے ایک چھوٹا سا ملک بھی عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا تجربہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ کیسے محدود وسائل کو بھی مؤثر طریقے سے استعمال کرکے عظیم مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ آج متحدہ عرب امارات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کی علامت بن چکا ہے۔
28 تاریخ کو نماز مغرب کے بعد ناچیز اسلام آباد سے اور سجاد علی سوات سے پشاور کے لیے عازم سفر ہوئے رات گیارہ بجے ہم نے ایک دوسرے کو وہاں پایا اور خوشی سے نہال ہوئے۔ پہلے سے مرکز جماعت رابطہ کیا ہوا تھا اور احباب نے خوش دلی سے، ہمیں خوش آمدید کہا وہاں پہنچیں تو کافی دیر ہو چکی تھی اس لیے فوراً سو گئے صبح اذان فجر کے ساتھ ہی اٹھیں اور نماز کے لیے تیاری کی نماز کے بعد ہم دونوں معمول کے مطابق واک کے لیے نکلے واک سے واپسی پر مولانا اسماعیل صاحب کے نگرانی میں چلنے والے دورہ تفسیر قرآن کے شرکاء کے ساتھ ناشتہ کیا جس میں بیس سالہ پرانے ذائقوں کا خوب لطف اٹھایا۔ بعض دوستوں سے ملاقات ہوئی جو بہت اچھی لگی ٹھیک آٹھ بجے پشاور ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں ڈرائیور اور سجاد کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔
ہماری فلائٹ ساڑھے دس بجے تھی۔ ہم ضابطے کی کارروائی سے گزر رہے تھے کہ اسی اثناء میں بچپن کے دوست جمیل احمد (حال مقیم شارجہ) سے اچانک ملاقات ہوئی، اچانک موصوف سے ملنے پر ہم حد درجہ نہال ہوئے ان سے میری بچپن کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں سکول، دارلعلوم، مسجد اور کھیل کود کے میدان سے جڑے بے شمار یادوں نے فوراً میرے دل و دماغ کا احاطہ کیا اور میں قدرت کے اس عجیب و غریب اتفاق پر سراپا حیرت بنا کہ کس طرح جمیل احمد بھائی آگے چل کر دیار غیر میں ہمارے لیے ایسا سہارا بنا کہ جس کا ہر موقع پر ساتھ رہا۔ پیارے دوست جمیل احمد کی رفاقت نے ہمیں ہر اعتبار سے آسودہ کیا۔ آپ نہایت مشفق، مخلص اور مہربان انسان ہیں۔ ناچیز کا دل اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر شکر گزاری سے لبریز ہے کہ اس نے ایک پرانی دوستی کو تازہ رفاقت میں بدلنے کے لیے اتفاقی اسباب پیدا فرمائے۔
اس طرح آبو ظہبی میں مقیم میرے عزیز اصب محمد حنیف کی نہایت مخلصانہ، محبت آمیز اور گرم جوش مہمان نوازی اور فول پروٹوکول کے ساتھ آبو ظہبی اور دوبئی کے تفصیلی وزٹ کرانے پر بے حد خوشی ہوئی۔ اس موقع پر ہمیں پیارے کزنز سید تیمور کمال اور سید بابر کمال کا ساتھ بھی میسر رہا، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس موقع کے لطف کو دوبالا کیا۔
دو ہفتے پر محیط قیام سے ہمیں محسوس ہوا کہ یو اے ای زندگی اور کاروبار دونوں کے لیے حد درجہ موزوں مقام ہے۔ ہر طرف امن و امان کا دور دورہ ہے۔ ترقی اور خوشحالی کے مظاہر ہر جانب رقصاں ہیں۔ قانون کی مکمل پاسداری اور نظم و ضبط کے قیام نے، معاملات زندگی کو ہموار انداز میں چلنے کے قابل بنائے ہوئے ہیں۔ لوگ خوش حال، محتمل مزاج اور پر اعتماد ہیں۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن ہیں۔ عالی شان مساجد، پر رونق کاروباری مراکز اور محیر العقول عمارات سے ہر آن خوشحالی چھلک رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات ایک غیر معمولی ملک ہے جس نے گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا تجربہ کیا ہے۔ یہ ملک لامحدود سرمایہ کاری، ہمہ گیر ہنر مندی، سدا بہار سیاحت، کاروبار کے وسیع مواقع اور امن و امان کی مثالی بحالی سے بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بہترین مقام میں بدل گیا ہے۔ لوگ دھڑا دھڑ اس ملک کا رخ کر رہے ہیں اور سیاحت و تجارت کے لاتعداد مواقع میں اپنے لیے قسمت آزمائی میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی تاریخ قدیم زمانے سے ملتی ہے، جس میں ہزاروں سال پرانی انسانی آباد کاری کے ثبوت موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر، یہ خطہ آمدنی کے اہم ذرائع کے طور پر ماہی گیری اور باغ بانی پر انحصار کرتا رہا۔ تاہم 20ویں صدی میں جب متحدہ عرب امارات ایک جدید ملک میں تبدیل ہوا تو حالات یکسر بدل گئے۔ دسمبر 1971 میں، متحدہ عرب امارات کو سات امارات کی فیڈریشن کے طور پر تشکیل دیا گیا، جس میں ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، ام القوین، فجیرہ اور راس الخیمہ شامل تھے۔ اس یونین نے ملکی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا اور گویا اس کی تیز رفتار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھی گئی۔
متحدہ عرب امارات ایک آئینی بادشاہت ہے، ایک منفرد سیاسی نظام کے ساتھ جہاں طاقت کو وفاقی حکومت اور انفرادی طور پر "ففٹی ففٹی” اصول کے تحت امارات کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا صدر مملکت کا سربراہ ہوتا ہے، جبکہ ہر امارت پر اس کا اپنا حکمران بھی ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت استحکام کو بہر صورت برقرار رکھنے، معاشی تنوع کو فروغ دینے اور اپنی آبادی کو فلاحی خدمات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا سیاسی استحکام اس کی معاشی کامیابی کے پیچھے سب سے اہم محرک رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے پچھلی چند دہائیوں کے دوران غیر معمولی اقتصادی ترقی کا تجربہ کیا ہے، جو کہ تیل پر انحصار کرنے والی معیشت سے متنوع معیشت میں بدل گیا ہے۔ تاریخی طور پر، تیل نے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں، متحدہ عرب امارات نے بنیادی ڈھانچے، سیاحت، مالیات اور دیگر شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ آج، دبئی تجارت، لاجسٹکس اور مالیات کا عالمی مرکز ہے، جبکہ دارالحکومت ابوظہبی حکومت، ثقافت اور صنعت کا مرکز بن چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ایک سازگار کاروباری ماحول کو فروغ دیا ہے، بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے اور انٹرپرینیورشپ کو فعال کیا ہے، جس نے اس کی اقتصادی خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نسبتاً نوجوان قوم رکھنے کے باوجود، تاریخی جڑوں، عرب تشخص اور اسلامی روایات کے اثرات سے جڑا ایک بھرپور اور متنوع ثقافت کا حامل ملک ہے۔ اسلام سرکاری مذہب ہے اور اس کے اصول روزمرہ کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے، بشمول خاندانی اقدار، مہمان نوازی اور سماجی اصول کے۔ متحدہ عرب امارات اپنے متنوع معاشرے کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں مختلف پس منظر اور قومیتوں کے لوگ باہم ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ یہ ملک اپنے ثقافتی ورثے کو مختلف تہواروں، موسیقی، رقص، آرٹ اور روایتی کھانوں کے ذریعے مناتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اپنے تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے تعلیم اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے ہر دم پرعزم ہے۔ یہ ملک کئی معروف یونیورسٹیوں کا گھر ہے اور اس نے علم پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ترقی پسند اقدامات کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا مقصد بین الاقوامی تجارت، قابل تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں عالمی رہنما بن کر دکھانا ہے۔
متحدہ عرب امارات ایک ایسی قوم ہے جس نے اپنی تاریخی جڑوں سے وابستگی قائم رکھتے ہوئے اور جدیدیت کو اپناتے ہوئے شاندار ترقی اور خوشحالی حاصل کی ہے۔ سات امارات کی فیڈریشن کے طور پر اپنے قیام سے لے کر عالمی اقتصادی پاور ہاؤس بننے تک، متحدہ عرب امارات نے اپنی صلاحیت کا ادراک بخوبی کیا ہے اور ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کا سیاسی استحکام، متنوع معیشت، بھرپور ثقافت، نیز تعلیم اور اختراع سے گہری وابستگی جیسے عوامل، اس کی کامیابی میں کلیدی معاون ہیں۔ متحدہ عرب امارات مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ یہ ملک، بلاشبہ ان تمام ممالک کے لیے ایک رول ماڈل کا کام کرتا ہے جو ترقی اور خوشحالی کی اسی سطح کو حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔