ہم میں سے اکثر لوگ چھوٹی چھوٹی تکالیف، ان گنت مسائل، اور زخم نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن کسی روز جب آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھتے ہوں تب آپ پہ حقیقت کھلتی ہے کہ وقت نے آپ پہ گہرے نقوش چھوڑ دیے ہیں۔ اپنے آپ کو نظر انداز کرتے کرتے آپ نے خود کو زخمی کردیا ہے. آپ پہ حقیقت اس وقت آشکار ہوتی ہے جب آپ کے اردگرد لوگ آپ سے کوفت محسوس کرتے ہیں، آپ کو دیکھ کر ان کے چہرے پہ ناگواری سی آجاتی ہے، وہ آپ سے دور رہنے لگتے ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ آپ سے نفرت کرنے لگتے ہیں بلکہ وجہ آپ کو اپنے آپ کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ہم اپنے زخموں کو سینے کے عادی نہیں ہوتے اس لیے ہر نئی گہری چھوٹ پہ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کیا- کیا جائے اس لیے ان زخموں کو اپنے سینے میں تھپکی دے کر ہم سلا دیتے ہیں لیکن کب تک ۔۔۔۔
ایک روز تو اس نے جاگ کر چیخنا ہوگا اس روز آپ کو پتہ لگتا ہے کہ میرا رونا قہقہوں میں بدل رہا ہے ،میرا تھوڑا کہے کو لوگ بہت جان رہے ہیں، میرے زخم اندر رس رہے ہیں اور مجھے لگ رہا ہے کہ میں ٹھیک ہو رہی ہوں۔۔۔۔
کہانیاں بے شمار ہیں سننے والوں کی ،تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن کوئی ڈھارس بندھانے والا نہیں ہم کسی کو بار بار نہیں سن سکتے اور پھر ہم ہی گلا کرتے ہیں کہ تم بتاتے کیوں نہیں۔۔۔
لوگوں کو انتہا میں پہنچانے میں کہیں ہمارا بھی ہاتھ ہے۔ ہم بھی کہاں سنتے ہیں ہم میں سے جو بھی ٹوٹا ہوا آئے ہم ان پہ اپنا علم جھاڑنے لگ جاتے ہیں.. نہیں جناب ایسا نہ کریں، بس اس کو سن لیں، اس کو اپنا کندھا دے دیں، اسے یہ یقین تو ہو جائے گا کہ اللہ کے بعد کوئی تو ہے جو اس کا بھی ہے۔