نوے ژوند تنظیم: جہاں خیال ثقافت بنتا ہے اور خدمت عین عبادت

ہر عظیم تحریک کی بنیاد درحقیقت تین ستونوں پر استوار ہوتی ہے: ایک پاکیزہ خیال جو خوابوں کو سمت دیتا ہے، ایک دلکش کشش جو دلوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے، اور ایک مضبوط عزم جو رکاوٹوں کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ یہی وہ مقدس ثلاثہ ہے جو تاریخ کے ہر انقلاب، ہر نشاۃ الثانیہ اور ہر سماجی تبدیلی کا محرک بنا ہے۔ جب یہ تینوں عناصر ادب کی شائستگی، ثقافت کی گہرائی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے ملتے ہیں، تو پھر معاشرے کے اندر ایک ایسی روح پھونک دی جاتی ہے جو نہ صرف موجودہ دور کو تبدیل کرتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی راہیں ہموار کرتی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جو "نوے ژوند” جیسی تحریکوں کو محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ایک تہذیبی بیانیہ بنا دیتی ہے۔

اس پاکیزہ خیال کی عملی تصویر نسیم مندوخیل کی شخصیت میں نظر آتی ہے، جنہوں نے 2013 میں پشاور ریڈیو FM 101 کی لہروں کے ذریعے سماجی بیداری کا بیج بویا۔ یہ وہ دور تھا جب معاشرے میں ادب اور ثقافت کے دھارے مدھم پڑ رہے تھے، لیکن انہوں نے عورت فاؤنڈیشن کے تحت آواز پروگرام کے ذریعے ایک نئی چنگاری سلگائی۔ یہاں سے ایک اور اہم موڑ آیا جب تانیہ تاجک جیسی روشن خیال شخصیت کے مشورے نے زندگی فاؤنڈیشن کو "نوے ژوند” میں تبدیل کر دیا۔ گویا پاکیزہ خیال نے اپنی دلکش کشش کو ثقافت اور ادب کے رنگوں سے مزین کر لیا، اور پھر مضبوط عزم نے اسے فروری 2014 میں خوشحال خان خٹک کی برسی پر منعقد علمی سیمینارز کی صورت میں پہلی بار عوامی سطح پر متعارف کرایا۔

اس طرح، نوے ژوند کا سفر محض ایک تنظیمی ڈائری کا ریکارڈ نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریک کی داستان ہے جس نے پاکیزہ خیال کو ثقافتی گہرائی، ادبی رچاؤ اور انسانی ہمدردی کے ساتھ پرویا۔ اسی لیے جب ہم اگلے مرحلے میں 2018 کے اسلام آباد دور پر نظر ڈالتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ راج خان مروت، نازیہ درانی اور دیگر دلی محبت رکھنے والے افراد کی شمولیت نے اس تحریک کو نئی وسعت عطا کی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نہ صرف زبان و ادب کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا، بلکہ اسے ایک اجتماعی عزم کی شکل دی۔ 5 اکتوبر 2019 کی پہلی رسمی میٹنگ اسی عزم کی علامت تھی، جس نے "نوے ژوند” کو ایک منظم اور مستحکم پلیٹ فارم میں بدل دیا۔

نوے ژوند نے اپنے سفر کے دوران کئی اہم ادبی و ثقافتی تقریبات کا انعقاد کیا۔ 4 جنوری 2020 کو راولپنڈی آرٹس کونسل میں نازیہ درانی کی کتاب کی رونمائی، مسعود خواجہ کی سرپرستی اور پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کی صدارت میں ایک یادگار واقعہ تھا۔ 15 جنوری 2021 کو MCI اور ICT کے اشتراک سے منعقد ہونے والا کثیر لسانی مشاعرہ، آرٹس اینڈ کرافٹ ویلی کی رونق بڑھا دی۔ امن کے فروغ کے لیے پہلا امن ایوارڈ 26 فروری 2022 کو نیشنل لائبریری اسلام آباد میں پیش کیا گیا، جس میں موسیقی کی دلکش پیشکش نے شرکاء کو مسحور کر دیا۔ دوسرا امن ایوارڈ 17 مارچ 2023 کو PNCA کے ہال میں امن تھیٹر اور تصاویر کی نمائش کے ساتھ منعقد ہوا۔ 21 فروری 2024 کو مادری زبانوں کے عالمی دن اور خوشحال بابا کی یاد میں نیشنل پریس کلب میں علمی سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ 6 جولائی 2024 کو PNCA میں تیسرا امن ایوارڈ، تصاویر کی نمائش اور موسیقی کا پروگرام بھی ایک شاندار کامیابی رہا۔

نوے ژوند کا سفر محض تقریبات کا ایک سلسلہ نہیں، بلکہ فکر و عمل کا وہ ہم آہنگ امتزاج ہے جو معاشرے کو نئی رُوح عطا کرتا ہے۔ جب 2020 میں نازیہ درانی کی کتاب کی رونمائی ہوئی یا 2021 کا کثیر لسانی مشاعرہ منظرِ عام پر آیا، تو یہ محض پروگرام نہیں تھے بلکہ یہ اُس فلسفے کی عملی تفسیر تھے جو ادب کو سماجی تبدیلی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ہر کتاب، ہر شعر، اور ہر تقریب ایک ایسی چنگاری بن گئی جو معاشرتی بے حسی کے اندھیرے کو چیرتی ہے۔ یہ وہ منفرد پہچان ہے جس نے "نوے ژوند” کو روایتی ادبی حلقوں سے ممتاز کیا: یہاں الفاظ محض کاغذ پر نہیں، بلکہ دلوں میں اُترتے ہیں اور عمل کی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔

سماجی خدمت کے میدان میں "نوے ژوند” کا کردار ایک بے پایاں رحمت کی مانند ہے۔ کورونا کے تاریک دنوں میں گھر گھر راشن پہنچانا، APS کے معصوم شہداء کو یاد رکھنا، یا خواجہ سراؤں جیسے نظرانداز شدہ طبقوں کی دستگیری کرنا یہ سب اُس انسانی ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے جو تنظیم کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ ثانیہ تاجک جیسے رفقاء کا پالتو جانوروں کے لیے سرگرم ہونا بھی اسی سوچ کا تسلسل ہے: ہر درد مند دل، خواہ وہ انسان ہو یا جانور، نوے ژوند کی توجہ کا مستحق ہے۔ یہ خدمت محض عارضی مدد نہیں، بلکہ معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ایک مستقل مشن ہے۔

تنظیم کی سب سے منفرد خوبی یہ ہے کہ یہ فنکاروں، ادیبوں، اور سماجی کارکنوں کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتابوں کے مقابلے، امن ایوارڈز، اور علمی سیمینارز جیسے اقدامات نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں، بلکہ معیار کی بلندیوں کو بھی چھوتے ہیں۔ جب PNCA کے ہال میں تیسرا امن ایوارڈ دیا گیا یا مادری زبانوں کے عالمی دن پر علمی مباحث ہوئے، تو یہ لمحے تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو گئے۔ یہاں ہر ایوارڈ محض ایک تمغہ نہیں، بلکہ عظیم خدمات کا اعتراف ہے اور ہر تقریب ایک نیا باب کھولتی ہے۔

نوے ژوند کا خواب اب ایک وسیع دریا بن چکا ہے جس میں بے شمار ندیاں شامل ہو رہی ہیں۔ غریب بچوں کو تعلیم دلوانا، ماحولیات کے تحفظ کی جنگ لڑنا، اور یتیم خانوں کی تعمیر جیسے منصوبے اِس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تحریک رُک نہیں سکتی۔ یہ تنظیم ایک گلدستہ ہے جس کی ہر پنکھڑی ایک مختلف رنگ لیے ہوئے ہے: شاعروں کی نزاکت، ڈاکٹروں کی خدمت، اور صحافیوں کی بے باکی سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کر رہے ہیں جو روشن، منصفانہ، اور انسانیت پر یقین رکھتا ہو۔ "نوے ژوند” کا ہر قدم اِس وعدے کی تکمیل ہے: ہم تبدیلی کا پہلا لفظ ہیں، آخری نہیں۔

یہی وہ عہد ہے جو آج مجھے "نوے ژوند” کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن کر رہا ہے۔ جب میں تنظیم کی پریس سیکرٹری کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہوں، تو میرے سامنے صرف الفاظ کی دنیا نہیں، بلکہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جہاں ہر کوشش، ہر تقریب، اور ہر پروگرام معاشرتی تبدیلی کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں "نوے ژوند” نے جو بیج بوئے ہیں، وہ اب شجرِ امید بن چکے ہیں اور میں اپنے قلم کی روشنی سے اس کی شاخوں کو اور بھی وسعت دینا چاہتی ہوں۔ یہ میرا نہیں، بلکہ ہم سب کا مشترکہ خواب ہے کہ جہاں الفاظ کی طاقت سے نہ صرف ادب کو جِلا ملے، بلکہ انسانی درد کو بھی آواز مل سکے۔

نوے ژوند کوئی معمولی نام نہیں، بلکہ یہ تروتازگی، جدت اور انسانی ہمدردی کی ایک علامت ہے۔ یہ ادارہ تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے، ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے اور معاشرے کے دکھی طبقوں کی آواز بننے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ میڈیا کے میدان میں میری تقرری دراصل انہی اقدار کو عوامی سطح پر پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے قلم کو سچائی، انصاف اور عوامی مسائل کا ترجمان بنایا ہے، اور اب یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اپنی صلاحیتیں ایک اجتماعی مقصد کے لیے استعمال کر سکوں گی۔

میں نے گزشتہ سال تنظیم کے ایوارڈ تقریب میں شرکت کی تھی، جہاں ہر طرف تخلیق کاروں، سماجی کارکنوں اور ادب سے وابستہ افراد کے جوش و خروش کی لہر تھی۔ اُس شام کی گونجتی تالیاں اور سراہنے کے کلمات سن کر میرے دل میں ایک خواہش نے جنم لیا کہ کیا میں بھی کبھی اس مقام تک پہنچ سکوں گی؟ یہ سوال میرے لیے ایک چیلنج بن گیا۔ میں نے اُس روز ہی عہد کیا تھا کہ اپنی محنت، لگن اور ایمانداری سے وہ مقام حاصل کروں گی جہاں میرا کام معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔

آج میں اسی عزم کے ساتھ "نوے ژوند” کی پریس سیکرٹری کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہی ہوں۔ میرا مقصد صرف خبروں تک محدود رہنا نہیں، بلکہ معاشرے میں شعور، رواداری اور امید کی ایسی چنگاری بھڑکانا ہے جو تاریکیوں کو روشنی میں بدل دے۔ ہم میڈیا کے ذریعے نہ صرف تنظیم کے مشن کو عام کریں گے، بلکہ ان گمشدہ آوازوں کو بھی اجاگر کریں گے جو سماجی ناانصافیوں کا شکار ہیں۔

میں اپنے تمام قارئین، رفقائے صحافت اور سماجی خدمت کے دلدادہ افراد سے یہی اپیل کروں گی کہ آپ بھی اس مشن کا حصہ بنیں۔ کیونکہ حقیقی تبدیلی تب ہی آ سکتی ہے جب ہم سب مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ آئیے، مل کر ایک ایسی داستان لکھیں جہاں الفاظ کی قوت سے نہ صرف ادب کو فروغ ملے، بلکہ انسانیت کی بھی خدمت ہو۔

اگر آپ کے دل میں بھی کسی بہتر کل کی امید جاگتی ہے، اگر آپ بھی یقین رکھتے ہیں کہ قلم کی طاقت سے دنیا بدلی جا سکتی ہے
تو پھر دیر کیسے؟
آئیے، "نوے ژوند” کے ساتھ مل کر ایک نئی صبح کا آغاز کریں!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے