جشنِ آزادی نہیں۔۔۔ آزادی چاہیے

کوئی عمارت نہیں چھوڑی جس پر برقی چراغاں نہ کیا ہو۔
کوئی سڑک یا چوک نہیں چھوڑا جس پر ہری، نیلی، پیلی بتیاں نہ لگائی ہوں۔
جشنِ آزادی ایسے منایا جا رہا ہے جیسے دنیا میں اس سے بڑا کوئی خوشی کا موقع ہو ہی نہیں سکتا۔

چلو ٹھیک، منظور۔
مان لیا۔
لیکن احساس کیوں نہیں ہو رہا آزادی کا؟
آزادی ہو تو احساس بھی ہو۔
ایسا کیوں نہیں ہے؟

آزادی صرف جھنڈیاں لگانے اور نعرے لگانے کا نام نہیں۔ اگر ہر گلی میں رنگین بتیوں کی بہار ہے مگر لوگوں کے دلوں میں اندھیرا ہے تو یہ آزادی کا کیسا جشن ہے؟ اگر ہر عمارت جگمگا رہی ہے مگر عام آدمی کے چہرے پر خوف اور مایوسی ہے تو کیا یہ وہی آزادی ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟

اصل آزادی تب ہوتی ہے جب شہری اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں، جب ہر شخص یہ یقین کرے کہ قانون اس کا محافظ ہے، دشمن نہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ نہ قانون سے مدد ملتی ہے نہ اس پر اعتماد ہے۔ لوگ انصاف لینے عدالت جاتے ہیں تو برسوں مقدمات لٹکے رہتے ہیں۔ طاقتور آج بھی قانون سے کھیلتے ہیں اور کمزور آج بھی دھکے کھاتے ہیں۔ اگر انصاف نہ ملے تو آزادی کیسا خواب؟

ہم ہر سال جشن مناتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے بنیادی سوالات سے نظریں چرا لیتے ہیں۔
کیا ہمیں یہ حق ہے کہ ہم آزاد کہلائیں جب تعلیم ہر بچے تک نہیں پہنچتی؟
جب روزگار صرف سفارش اور تعلق والوں کو ملتا ہے؟
جب عام شہری کو اپنی جان و مال کا تحفظ بھی نصیب نہیں ہوتا؟
یہ وہ سوال ہیں جو روشنیوں کے ہنگامے میں بھی ہمیں چین لینے نہیں دیتے۔

یقیناً، آزادی ایک قیمتی نعمت ہے، لیکن اس کا مطلب صرف ایک دن خوشی منانا نہیں بلکہ پورا سال اس کا احساس زندہ رکھنا ہے۔ جب انسان صبح اٹھے اور اسے فکر نہ ہو کہ آج کہاں سے روٹی آئے گی؛ جب نوجوان یہ سوچے کہ محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھ سکتا ہے؛ جب عورت یہ سمجھے کہ وہ محفوظ ہے اور اس کے حقوق پامال نہیں ہوں گے—تب آزادی کا مزہ ہے، تب جشن کا بھی مطلب ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ آزادی کا مطلب محض جغرافیہ پر اپنا جھنڈا گاڑ دینا نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے دلوں میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔ اگر قانون کمزور ہے، اگر ادارے طاقتوروں کے غلام ہیں، اگر انسان خوف کے سائے میں زندہ ہیں تو پھر یہ خوشیاں کس کی ہیں؟

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کا جشن اصل میں ایک یاد دہانی ہے—کہ ہم ابھی منزل پر نہیں پہنچے۔ ہم نے چراغاں تو کر لیا لیکن اندھیروں کو دور نہیں کیا۔ ہم نے نعرے تو لگا لیے لیکن دلوں میں اعتماد نہیں بھرا۔

آزادی صرف وہ نہیں جو کاغذ پر لکھی ہو، بلکہ وہ ہے جو ہر شخص اپنی سانسوں میں محسوس کرے۔ اگر ایک عام آدمی کو لگے کہ اس کی آواز سنی جاتی ہے، اگر ایک مزدور سمجھے کہ اس کی محنت کا حق ملے گا، اگر ایک طالب علم کو یقین ہو کہ اس کے خواب چھینے نہیں جائیں گے—تو یہ ہوگی اصل آزادی۔

جب تک قانون عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا، جب تک انصاف سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، جب تک خوف کی جگہ اعتماد نہیں لے گا—اس وقت تک یہ جشنِ آزادی کا ہنگامہ بس ایک رسم رہے گا، دل کی آزادی کی علامت نہیں۔

چلو ٹھیک، منظور۔
مان لیا۔
لیکن احساس کیوں نہیں ہو رہا آزادی کا؟
آزادی ہو تو احساس بھی ہو۔
ایسا کیوں نہیں ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے