دو روز قبل عالم اسلام کے اہم ملک ترکیہ پر رجب طیب اردوغان کی حکومت کا دورانیہ چوبیس سال پر محیط ہوا۔ رجب طیب اردوغان کا دور نہ صرف ترکیہ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا بلکہ خطے اور عالم اسلام کے مجموعی سیاسی اور عالمی منظر نامے پر بھی دور رس اثرات کا حامل سمجھا جائے گا۔ موجودہ دور میں طیب اردوغان نظریاتی اور ترقی کی سیاست کا بہت بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور بہت ہی پُرعزم اور متوازن طرزِ عمل اپنا کر نہ صرف ترکیہ کی یرغمال سیاست کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے بلکہ ملک کو ترقی اور خوشحالی سے ہم کنار کرنے کا کمال دکھایا نہ صرف یہ بلکہ عالمی امور میں بھی ایک فعال کردار ادا کرنے میں سرخرو ٹھہر گئے۔ اگر چہ رجب طیب اردوغان کا مجموعی طور پر ترکیہ کے لیے سود مند ثابت ہوا لیکن چند حوالوں سے وہ تنقید کا نشانہ بھی بنے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
رجب طیب اردوغان نے ترکیہ کے سیاسی منظر نامے پر دو دہائیوں سے زائد عرصے تک حکمرانی کی ہے، جس میں انہوں نے وزیر اعظم اور صدر دونوں کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے دور حکومت میں ترکیہ نے نمایاں معاشی ترقی دیکھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ جمہوری اقدار کے حوالے سے تنقید کا بھی سامنا رہا۔ آئیے ان کے دور اقتدار کی اہم کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک اجمالی سا جائزہ لیتے ہیں۔
اردوغان کی بڑی کامیابیاں
1. معاشی استحکام اور ترقی
رجب طیب اردوغان کے دور میں ترکی کی معیشت نے قابل ذکر ترقی کی، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ان کے ابتدائی دور میں ترکیہ کی معاشی شرح نمو ساڑھے چار فی صد تک رہی، جس نے ملک کو مستحکم بنیاد فراہم کی۔ اس طرح مہنگائی پر قابو پایا گیا۔ اے کے پی حکومت نے مہنگائی کو قابو کرنے میں کامیابی حاصل کی، جو پہلے کئی بار سو فی صد سے بھی تجاوز کر چکی تھی۔ اس دور میں قابلِ ذکر صنعتی ترقی ہوئی۔ گزشتہ چوبیس برسوں میں ترکیہ مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات کے حوالے سے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا، جس سے ملک کی معیشت کو خاص تقویت ملی۔
2. اسلامی اقدار کی بحالی اور فروغ
رجب طیب اردوغان کے دور حکومت میں حجاب پر پابندی کا خاتمہ ہوا۔ اکتوبر دو ہزار تیرہ میں ترکی نے عدلیہ، فوج اور پولیس کے علاوہ تمام سرکاری اداروں سے حجاب پر عائد پابندی کو ہٹا لیا۔ اس طرح مذہبی اقدار و روایات کے اظہار کی آزادی عوام کو میسر آئی۔ اس سے پہلے تعلیمی اور سرکاری اداروں میں پردے پر پابندی عائد رہی اور دینی شناخت کے ساتھ رہنا ناقابل قبول تھا۔ رجب طیب اردوغان ترکوں کے اپنے دینی عقائد اور اقدار کو کھلے طور پر ظاہر کرنے کے حامی رہے، خاص طور پر اناتولیا جیسے چھوٹے شہروں میں جہاں انہیں بہت پذیرائی ملی۔
3. فوج کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی ہوئی
رجب طیب اردوغان کے دور میں فوجی مداخلت کا خاتمہ ہوا۔ اے کے پارٹی کے اقتدار میں آنے سے قبل فوج چار مرتبہ سیاست میں براہ راست دخل اندازی کر چکی تھی، لیکن رجب طیب اردوغان نے اس روایت کو سختی سے توڑا۔ اس طرح انہوں نے حکمت اور جرآت سے فوجی سازشوں کا مقابلہ کیا۔ دو ہزار تیرہ میں سترہ فوجی افسران کو اے کے پی کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش میں عمر قید کی سزا دلوانے میں کامیابی حاصل کی۔
4. بین الاقوامی سطح پر ترکی کا قائدانہ کردار
رجب طیب اردوغان کے دور میں ترکیہ کے علاقائی اثر و رسوخ میں زبردست اضافہ ہوا۔ طیب اردوغان کے دور حکومت میں ترکیہ نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور بین الاقوامی امور میں اہم کردار ادا کیا۔ طیب اردوغان روس یوکرین جنگ کے خاتمے، اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل اور مشرق وسطی کے دوسری کشیدگیوں کے خاتمے کے لیے مقدور بھر سرگرم عمل رہے۔ اس طرح ترکیہ کی مصنوعات کی عالمی پذیرائی بھی بڑھی۔ ترکیہ کی مصنوعات کو عالمی سطح پر منفرد شناخت ملی اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔
5. کرد علیحدگی پسندوں کو قومی دھارے میں شامل کیا
طیب اردوغان نے بہترین سیاسی حکمت عملی اور دور اندیشی سے کام لے کر کرد باغیوں کو شدت پسندی ترک کر کے قومی دھارے میں شمولیت پر آمادہ کیا۔ کرد باغی گزشتہ کئی عشروں سے ترکیہ کے کاروائیوں مصروف تھے۔ یہ طیب اردوغان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے ایک دیرینہ مسئلہ حل کر دیا۔
طیب اردوغان پر تنقید کے پہلو
1. جمہوری اقدار کی پامالی
طیب اردوغان کے دور میں میڈیا پر دباؤ کا تاثر ابھرا۔ رجب طیب اردوغان کے دور حکومت میں ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور ان کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے۔ اس طرح مشہور اخبار "زمان” پر پولیس نے چھاپہ مارا۔ ترکیہ کے سب سے بڑے اخبار "زمان” کے دفتر پر چھاپہ مارا اور عملے کو ڈرایا دھمکایا۔ اس طرح مختلف اوقات میں اپوزیشن کو دبانے کی کوششیں بھی کی گئیں ہیں۔ استنبول کے میئر اکرم امام وغلو جیسے سیاسی حریفوں کی گرفتاریوں نے حالیہ جمہوریت پر سوالیہ نشانات کھڑے کیے۔
2. آمرانہ طرز حکومت کے رجحانات
رجب طیب اردوغان کے بارے میں یہ تاثر بھی عام ہوا کہ ان کا رویہ تحکمانہ شکل اختیار کر گیا یہی وجہ ہے کہ ان کے حاکمانہ طرز حکومت پر مسلسل تنقید ہوتی رہی، جس میں ناقدین کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس طرح نئے پرتعیش صدارتی محل کی تعمیر پر بھی اچھی خاصی تنقید ہوئی۔ اس طرح نئے صدارتی محل کی تعمیر پر بھی تنقید ہوئی۔ اس وقت صدارتی محل کو طیب اردوغان کے مبینہ تحکمانہ انداز کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یاد رہے کہ نئے صدارتی محل کی تعمیر پر اکسٹھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے۔ اس طرح احتجاجی مظاہروں کے ساتھ سختی سے نمٹنا بھی تنقید کا باعث بنا۔ دو ہزار تیرہ میں استنبول کے غازی پارک میں عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے فوجی قوت کا سہارا لیا گیا۔
3. معاشی مشکلات کا سامنا
ترکیہ میں گزشتہ کئی برسوں سے ترقی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ ترقی کی شرح میں کمی آنے اور مہنگائی بڑھنے سے عوامی سطح پر بے چینی پھیل رہی ہے۔ اس طرح بے روزگاری کی شرح میں بھی تقریباً دس فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ اس وقت ترکیہ میں معاشی عدم استحکام ایک اہم مسئلہ بن رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ترکیہ کی معیشت میں عدم استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں
4. سماجی تقسیم میں اضافہ
رجب طیب اردوغان کے دور میں ملک کے سیکولر اور مذہبی گروہوں میں باقاعدہ تقسیم بڑھی ہے۔ طیب اردوغان کی پالیسیوں نے ترکی میں سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان تقسیم و تفریق کو مزید گہرا کیا ہے۔ کرد مسئلہ اگر چہ اب حل ہو گیا لیکن اس سے کردوں کی علیحدگی پسند جماعت ‘پی کے کے’ کے خلاف سخت گیر پالیسیوں نے نسلی تناؤ کو بڑھایا تھا۔
آئیے اب رجب طیب اردوغان کی شخصیت اور سیاسی سفر کے اہم موڑ ملاحظہ کرتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور سیاسی تربیت
رجب طیب اردوغان غریبانہ پس منظر رکھتے تھے۔ لڑکپن میں انہوں نے سڑکوں پر سکنجبین اور روغنی نان فروخت کیے۔ اس طرح انہوں نے باقاعدہ اسلامی علوم بھی حاصل کیے ہیں۔ استنبول کی مرمرا یونیورسٹی سے مینجمنٹ سائنسز میں ڈگری حاصل کرنے سے قبل انہوں نے ایک اسلامی ادارے میں باقاعدہ اسلامی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ باقاعدہ سیاسی تربیت بھی پائی ہے۔ آغاز میں وہ نجم الدین اربکان کی ویلفیئر پارٹی کے رکن رہے، یہی وابستگی آگے چل کر ان کی سیاسی تربیت کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی۔
رجب طیب اردوغان کی اقتدار میں آمد
رجب طیب اردوغان سب سے پہلے استنبول کے میئر بن گئے۔ انیس سو چورانوے سے انیس سو اٹھانوے تک فوج کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے تک وہ استنبول کے میئر رہے۔ اس کے بعد اے کے پی کی بنیاد رکھی۔ اگست دو ہزار میں عبداللہ گل کے ساتھ اتحاد کر کے "اے کے پی” کا قیام عمل میں لایا گیا۔ رجب طیب اردوغان پہلے بارہ سال وزیر اعظم رہے اور دو ہزار چودہ سے اب تک صدر کے منصب پر فائز ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے بعد ملک میں آئینی ترمیم کر کے صدارتی نظام رائج کیا۔ اب ترکیہ میں براہ راست انتخابات کے ذریعے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔
رجب طیب اردوغان مضبوط اعصاب اور نظریات کے حامل ایک عالمی رہنما ہیں۔ حکمت اور جرآت ان کی شخصیت کے دو بنیادی خوبیاں ہیں۔ وہ ایک ایسے وژنری لیڈر ہیں جو وقت کے تقاضوں اور کام کے لیے مناسب مواقع کا زبردست ادراک رکھتے ہیں۔ ان کے چوبیس سالہ دور اقتدار کو ایک پیچیدہ اور متنوع حکمرانی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے ترکی کو معاشی استحکام فراہم کیا، فوج کے سیاسی اثر و رسوخ کو کم کیا اور اسلامی اقدار کو بحال کرنے میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف ان پر جمہوری اقدار کی پامالی، میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگانے اور آمرانہ طرز حکومت اختیار کرنے کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر رجب طیب اردوغان کا دور خود ترکیہ کے لیے اور بحیثیت مجموعی خطے اور عالم اسلام کے لیے کئی اعتبارات سے بہتر ثابت ہوا ہے۔
ان کے دور میں ترکی ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا، لیکن ساتھ ہی ساتھ اندرونی سطح پر سماجی تقسیم اور سیاسی کشمکش بھی بڑھی۔ رجب طیب اردوغان کی کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں ہی ترکیہ کی موجودہ سیاسی اور معاشرتی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔ رجب طیب اردوغان کی حکمرانی کا جائزہ لیتے وقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ترکیہ کو جدید دور میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا، لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کے اندر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ چند ماہ قبل انہوں نے اعلان کیا کہ دو ہزار اٹھائیس کے میں سیاست ریٹائر ہو جاؤں گا۔ اس اعلان سے انہوں نے ایک اچھی مثال قائم کی ہے کہ آخری سانس تک اقتدار سے چمٹے رہنا ایک بہت بڑی سیاسی اور نفسیاتی علت ہے۔