خواتین کی سیاست: چیلنجز اور مواقع کا جائزہ

پاکستانی سیاست کے تناظر میں خواتین کا کردار ایک ایسا عنوان ہے جس پر روشنی ڈالنے کے لیے الفاظ کی نہیں، بلکہ عملی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہاں خواتین کی سیاسی شرکت کا تذکرہ محض ایک عددی بازی نہیں، یہ سماجی سوچ، تاریخی ورثے اور خود ساختہ عدم مساوات کا ایک پیچیدہ جال ہے۔ جہاں ایک طرف آئینی ضمانتیں اور قانونی تحفظات موجود ہیں، وہیں زمینی حقائق ان خوابوں کو پنپنے نہیں دیتے۔ اگرچہ آئین اور قوانین خواتین کو مردوں کے برابر سیاسی حقوق فراہم کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔

2024 اور 2025 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی تعداد 20 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ مقامی حکومتوں میں یہ شرح اور بھی مایوس کن ہے۔ یہ کمی صرف تعداد تک محدود نہیں بلکہ اثرانداز ہونے کی صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ زیادہ تر خواتین کوئی اہم عہدہ حاصل نہیں کر پاتیں، اور انہیں علامتی نمائندگی تک محدود رکھا جاتا ہے۔ خواتین کی اسمبلیوں میں کم نمائندگی صرف ایک عدد نہیں، بلکہ ایک المیہ ہے جو ہماری اجتماعی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح سیاسی محاذ پر خواتین کے سامنے کھڑی رکاوٹیں کسی ایک شعبے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک گھمبیر نظام کا حصہ ہیں۔ سماج کی وہ پرانی سوچ اور پرسودہ روایات جو عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود دیکھنا چاہتی ہے، سیاست جیسے کھلے میدان میں اسے اجنبی بنا دیتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ سیاسی عمل کی پیچیدگیاں، جن میں تشدد اور ہراسانی جیسے عناصر شامل ہیں، خواتین کے لیے اس میدان کو اور بھی دشوار گزار بنا دیتے ہیں۔

اسی طرح سیاسی میدان میں خواتین کو درپیش چیلنجز کئی گنا زیادہ ہیں۔ روایتی سماجی رویے، صنفی تعصب، اور اقتصادی عدم مساوات ان کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ خواتین سیاستدان اکثر خاندانی، گھریلو ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ زندگی کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔ مزید برآں، سیاسی جماعتیں بھی انہیں مرکزی دھارے میں لانے کے بجائے مخصوص "خواتین کے مسائل” تک محدود کر دیتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ سیاسی نظام کو بھی کمزور بناتا ہے۔

تاہم، پاکستانی سیاست میں کچھ خواتین نے اپنی قیادت اور صلاحیتوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ بینظیر بھٹو جیسی شخصیات نے نہ صرف وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا۔ موجودہ دور میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، جماعت اسلامی کی ڈاکٹر راحیلہ قاضی، شازیہ مری اور حنا ربانی کھر جیسی خواتین نے اپنی سیاسی بصیرت سے کافی اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اگر مواقع میسر آئیں تو خواتین بھی بہترین کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔

مگر ان مثبت مثالوں کے باوجود، خواتین کی اکثریت کو اب بھی سیاسی عمل میں شامل ہونے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتیں اکثر خواتین کو صرف مخصوص نشستوں پر ہی کھڑا کرتی ہیں، جس سے ان کا اثر محدود ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، سیاسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات خواتین کو میدان سیاست سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ اجتماعی طور پر پاکستانی جمہوریت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

تعلیم اور معاشی خودمختاری کی کمی بھی خواتین کی سیاسی شرکت میں رکاوٹ ہے۔ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے وہ سیاسی شعور سے محروم رہ جاتی ہیں۔ شہروں میں بھی معاشی طور پر کمزور خواتین کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، میڈیا اور عوامی گفتگو میں خواتین سیاستدانوں کو اکثر ان کے کردار کی بجائے ان کی ظاہری شکل یا خاندانی پس منظر کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے، جو ان کی سیاسی ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔

ان تمام رکاوٹوں کے باوجود، خواتین کی سیاسی شرکت کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے، سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ خواتین کو عمومی نشستوں پر امیدوار بنائیں، نہ کہ صرف مخصوص نشستوں تک محدود رکھیں۔ دوسرا، خواتین کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی خواتین کی سیاسی تربیت اور مثبت تصویر پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ خواتین کو یہ باور کرانا ہوگا کہ سیاست صرف مردوں کا میدان نہیں، بلکہ ان کا بھی اتنا ہی حق ہے۔ سماجی تنظیمیں اور این جی اوز خواتین کو سیاسی تربیت فراہم کر کے ان کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہیں۔ ساتھ ہی، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے چاہئیں، تاکہ وہ مالی طور پر خودمختار ہو کر سیاسی فیصلہ سازی میں حصہ لے سکیں۔

پاکستانی سیاست میں خواتین کا کردار اہم ہے، لیکن اسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت نہ صرف جمہوریت کو مستحکم کرے گی بلکہ معاشرے میں توازن بھی لائے گی۔ اس سلسلے میں حکومت، سیاسی جماعتوں، سماجی اداروں اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اگر مناسب اقدامات کیے جائیں تو آنے والے وقتوں میں پاکستانی سیاست میں خواتین کا کردار زیادہ موثر اور نمایاں ہو سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے