فکر و نظر کے اعتبار سے دنیا میں دو بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں ایک وہ جو کائنات کو ایک مقصد اور حکمتِ الٰہی کے تحت دیکھتا ہے، جبکہ دوسرا نقطہ نظر صرف مادّی شواہد پر انحصار کرتا ہے۔ پہلا گروہ زندگی کو ایک بامعنی نظام سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں حقائق کی تلاش کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو ایک نئے افق تک لے جا سکتا ہے۔
خدا پر ایمان لانے والے، خدا کو ہی زندگی اور کائنات کا اصل سرچشمہ یقین کرتے ہیں جبکہ دوسرے نقطہ نظر والے بس مادی اشیاء میں حقیقت پانے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔ پہلا گروہ دولت ایمان و یقین سے معمور رہتا ہے جبکہ دوسرا گروہ پیہم جستجو میں رہتا ہے۔ خدا پرست لوگوں کو کائنات کے ذرے ذرے میں کامل مطابقت اور موافقت نظر آ رہی ہے جبکہ مادی سوچ رکھنے والی مخلوق ہر دم تصادم اور حادثات کے انتظار میں بیٹھی ہوتی ہے۔ اہل ایمان چونکہ تمام مظاہر کا بنیادی سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھتے ہیں لہذا انہیں تمام دائرہ ہائے نظر و عمل میں جا بجا کامل اور بامعنی مطابقت محسوس ہو رہی ہے کوئی تصادم، کوئی حادثہ یا کوئی اتفاق نہیں۔
اہل ایمان یقین رکھتے ہیں کہ یہ زندگی اور کائنات اللہ تعالیٰ نے خاص منصوبہ بندی سے، ایک خاص مقصد کے تحت تخلیق کی ہے اور ایک مقررہ مدت کے بعد سب کچھ تبدیل ہو کر ایک نئی کیمسٹری میں ڈھل جائیں گے جس کو کائنات اور زندگی کے انجام (قیامت) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اہل ایمان چونکہ زندگی میں اعمال کے دو اقسام کا تصور رکھتے (اعمال صالحہ اور اعمال غیر صالح) ہیں اور قیامت کے موقع پر سب لوگ اپنے اعمال کے مطابق بدلہ اپنے رب کی جانب سے پائیں گے۔ اسی بنیاد کو ذہن میں رکھ کر ہم خدا پرستانہ نظریات کے تناظر میں سائنس اور روحانیت کے درمیان تعلق پر ذرا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں امید ہے یہ کاوش ناظرین کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوگی۔
یہ حقیقت ہے بادی النظر میں سائنس اور روحانیت کے درمیان تعلق ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی نوعیت کا ہے۔ پوری تاریخ میں، انسانی تحقیقات کے ان دو دائرہ ہائے کار کو بعض لوگ الگ الگ بلکہ ایک دوسرے سے متصادم دیکھ رہے ہیں۔ تاہم سائنس اور روحانیت کے درمیان ہم آہنگی اور تعامل کے بہت سے نکات موجود ہیں۔ آئن سٹائن کا یہ قول بہت بامعنی ہے کہ”سائنس بغیر مذہب کے لنگڑی ہے اور مذہب بغیر سائنس کے اندھا”۔ آئیے سائنس اور روحانیت کے درمیان کچھ مشترک پہلوؤں کو زیر بحث لاتے ہیں۔
سائنس اور روحانیت دونوں کے سامنے پیش نظر حقیقت کی تلاش ہے یعنی دونوں کا مقصد کائنات اور انسانی وجود کے گہرے اسرار کو سمجھنا ہے۔ اس طرح یکجہتی کا تصور بھی مشترک ہے یعنی سائنس کلی حقیقت کی تلاش کرتی ہے جبکہ روحانیت "وحدت الوجود” کی تعلیم دیتی ہے۔ اس طرح تجربہ اور مشاہدہ بھی دونوں کے اندر پایا جاتا ہے یعنی سائنس میں تجربات کیے جاتے ہیں جبکہ روحانیت میں باطنی مشاہدے پر زیادہ زور رہتا ہے۔ اس طرح انرجی کا تصور یعنی سائنس توانائی کو پیمانہ تصور کرتی ہے جبکہ روحانیت زندگی کی قوت (اصلاح، علم اور انصاف) پر توجہ دیتی ہے۔ اس طرح تغیر اور ارتقاء کا تصور بھی مشترک ہے یعنی سائنس ارتقائی نظریہ بیان کرتی ہے جبکہ روحانیت، روحانی ترقی کی بات کرتی ہے۔
سائنس اور روحانیت کو مختلف انسانی تجربوں کے پیشِ نظر مختلف میدان کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ روحانیت معنی و منزل، مقصد و مدعا، اخلاقیات و الہیات اور حقیقت و صداقت کی نوعیت سے متعلق سوالات سے نمٹتی ہے جو جسمانی دائرے سے بظاہر بالاتر لیکن حقیقت میں ہم آہنگ ہے۔ دوسری طرف سائنس تجرباتی مشاہدے، مطالعے اور نظر آنے والے شواہد کی بنیاد پر نظریات کی تشکیل کے ذریعے قدرتی دنیا کو سمجھنے اور برتنے پر مرکوز ہے۔
اپنے الگ الگ نقطہ نظر کے باوجود سائنس اور روحانیت اکثر وجود کی نوعیت، شعور اور کائنات کی ابتدا کے بارے میں ایک جیسے بنیادی سوالات کو حل کرتے نظر آتے ہیں۔ دونوں ان بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری دنیا پر حکومت کرتے ہیں حالانکہ وہ ایسا کرنے کے لیے مختلف طریقے اور نقطہ ہائے نظر استعمال کرتے ہیں۔
کچھ افراد اور مفکرین کا خیال ہے کہ سائنس اور روحانیت حقیقت پر تکمیلی نقطہ نظر پیش کرتی ہیں۔ سائنس تجرباتی علم اور تکنیکی ترقی فراہم کرتی ہے جبکہ روحانیت انسانی وجود کے موضوعی اور کیفیتی پہلوؤں سے متعلق بصیرت فراہم کر رہی ہے۔ دونوں طریقوں کو یکجا کرنے سے دنیا اور زندگی کے بارے میں ایک جامع ادراک پیدا ہوتا ہے۔ سائنس میں حرکت انسانی دماغ کی برکت سے آتی ہے جبکہ روحانیت سے، انسانی روح میں باقاعدہ ایک روشنی جنم لیتی ہے جس سے وہ خالق کائنات کا وجود ماننے کے قابل بنتی ہے۔
روحانیت اور سائنس کائنات کے اسرار و رموز کے بارے میں ایک مشترکہ تجسس رکھتی ہیں۔ دونوں نامعلوم کو دریافت کرنے، چھپی ہوئی سچائیوں کو بے نقاب کرنے اور ہماری سمجھ بوجھ کو بڑھانے کی گہری خواہش سے روبہ حرکت و قبولیت ہیں۔ کچھ سائنسی ترقی، جیسے کوانٹم فزکس نے حقیقت سے متعلق روایتی نظریات کو چیلنج کیا ہے اور روحانی تشریحات کے لیے نئے در کھول دیئے ہے۔
روحانیت اکثر اوقات اخلاقیات اور اقدار سے متعلق سوالات سے نمٹتی ہے جبکہ سائنس بنیادی طور پر تجرباتی علوم پر مرکوز رہتی ہے تاہم، سائنسی ترقی کا نتیجہ انسانی سہولت اور تحفظ کی صورت میں سامنے آتا ہے جبکہ روحانیت سے جڑی ریاضتیں سکون اور طمانیت کے احساس سے انسان کو لبریز کر رہی ہیں۔ روحانیت سائنسی دریافتوں کے مضمرات کا راستہ روکنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کر سکتی ہے مزید برآں روحانی اور اخلاقی نقطہ ہائے نظر کا انضمام انسانیت کے فائدے کے لیے سائنسی علوم کے ذمہ دارانہ فروغ اور استعمال کے لیے ضروری رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
سائنس اور روحانیت دونوں میں بنیادی طور پر دماغ کو مرکوز رکھتا پڑتا ہے۔ روحانیت میں اکثر ذاتی تجربات، اندرونی کیفیات مزید برآں اپنے اور دوسروں کے ماورائی حقائق کے ساتھ گہرے تعلق کی تلاش جیسے معاملات شامل ہیں جبکہ سائنس کا مقصد معروضیت اور عمومیت ہے، موضوعی تجربات سائنسی تحقیقات کو مہمیز کرنے کا کام کرتے ہیں، جیسا کہ سائنسی اصطلاح میں شعور یا روحانی اصطلاح میں مراقبہ وغیرہ۔
حالیہ برسوں میں، سائنس اور روحانیت کے درمیان خلیج کو ختم کرنے میں عمومی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بین الضابطہ شعبوں جیسے نیوروتھیولوجی، شعوری مطالعہ اور ٹرانس پرسنل سائیکالوجی، مادے کی ماہیت اور روح کی حقیقت وغیرہ جیسے موضوعات اگر نارمل انداز میں آگے بڑھنے دئیے جائیں تو یقین کریں یہ سب ایک دوسرے کو باقاعدہ تلاش کرتے نظر آئیں گے۔ متعلقہ لوگ یعنی اسکالرز، ماہرین الہیات اور سائنس دان اگر باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں تو سائنسی اور روحانی نقطہ ہائے نظر کو یکجا کرنے میں بڑی مدد میسر آئے گی جو لوگ سائنس اور روحانیت کو متصادم سمجھ رہے ہیں بخدا ان کی سمجھ بوجھ میں فالٹ ہے اور اس فالٹ پر قابو پانے کے لیے ان دونوں دائرہ ہائے عمل میں مکالمہ اور مباحثہ کی اشد ضرورت ہے۔
یاد رکھیں تمام روحانی، سائنسی، علمی اور مذہبی موضوعات ازل سے چلے آرہے ہیں اور یہ ابد تک جاری و ساری رہیں گے۔ انسان نے اپنے دل و دماغ اور اوقات و ترجیحات میں ان سب کو برابر جگہ دی ہوئی ہے۔ جن کو سائنس اور روحانیت میں فرق نظر آرہا ہے انہیں چاہیے کہ اپنے دل و دماغ پر کچھ مزید زور ڈالیں بخدا انہیں ان سب میں واضح مطابقت نظر آجائے گی۔ سائنس اور روحانیت کے درمیان تعلق میں ترقی کا عمل جاری ہے اور یہ تا ابد مسلسل جاری رہے گا۔ جس کو سائنس اور روحانیت میں مطابقت نظر آ رہی ہے وہ متوازن نقطہ نظر ہے اور جس کو عدم مطابقت نظر آ رہی ہے وہ غیر متوازن نقطہ نظر۔