قیدی نمبر 804: طاقت کے کھیل کا نیا موڑ

سہیل وڑائچ کے تازہ کالم نے طاقت اور سیاست کے اس کھیل میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے مرکزی کردار کو ہم قیدی نمبر 804 کے نام سے جانتے ہیں۔ کالم کے لبِ لباب سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ قیدی کو سرنڈر کرانے کے ایجنڈے پر فی الوقت کامیابی حاصل نہیں کر سکی، اور اب کہیں نہ کہیں سے یہ دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اس کو راستہ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس “نرم گوشے” کی تعمیر کیسے ہوگی؟ ہمارے ہاں روایت یہی رہی ہے کہ جب طاقت کے مراکز کسی نئی سمت میں قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے بیانیہ سازی کا میدان گرم کیا جاتا ہےاور بیانیہ بنانے کے لیے معتبر کالم نویس سب سے موزوں آلہ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ کوئی راز نہیں کہ سیاست میں مکالمہ اور مفاہمت، ٹکراؤ اور مزاحمت کے بیچ کسی نہ کسی موڑ پر میڈیا اور صاحبانِ قلم کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ کالم نویس اپنی سماجی ساکھ اور قاری سے ذہنی رشتہ رکھتا ہے؛ اس کی تحریر ایک اشاریہ بھی ہوتی ہے اور سمت نما بھی۔ اگر پانچ ستاروں والے سپہ سالار کی خواہش یہ ہو کہ رائے عامہ کو کسی نئے امکان کی طرف مائل کیا جائے تو ایک موثر کالم اسی خواہش کو لسانی پیکر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وڑائچ صاحب کا کالم محض رائے نہیں لگتا، بلکہ ایک بڑے اسکرپٹ کے “پہلے صفحے” کی قرطاس معلوم ہوتا ہے۔

قیدی نمبر 804 اب صرف ایک شخصیت نہیں رہا؛ وہ ایک علامت ہے—نظام کے اندر طاقت کی کشمکش، عوامی مینڈیٹ کی تشریح اور ریاستی حکمتِ عملی کے توازن کا استعارہ۔ اس علامت کو دبانا، مسخ کرنا یا راستہ دے دینا—تینوں کے اپنے اپنے سیاسی، سماجی اور ریاستی اثرات ہیں۔ دبائیں گے تو مزاحمت بڑھے گی؛ مسخ کریں گے تو بیانیہ الٹ پلٹ ہو گا؛ راستہ دیں گے تو طاقت کے اندرونی توازن پر سوال اٹھیں گے۔ یہی وہ گرہ ہے جسے کھولنے کے لیے کبھی “ڈیل” کی سرگوشیاں جنم لیتی ہیں اور کبھی “ڈھیل” کی تاویلیں۔

اس پس منظر میں اگر واقعی آئندہ دنوں میں کالم نویسوں کا ایک دستہ قیدی نمبر 804 سے ملاقات کرتا ہے تو اسے محض “کوریج” نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک باقاعدہ “نَیَریشن مینجمنٹ ایکسرسائز” ہوگی۔ ملاقاتیں قیدی کے لہجے میں نرمی یا سختی کی نئی جھلک دکھائیں گی؛ اور اسی سے طے ہوگا کہ اگلا فریم “مصالحانہ مفاہمت” کا ہے یا “اصولی مزاحمت” کا۔ میڈیا کے لیے یہ لمحات ریٹنگ اور ریچ کے لحاظ سے سونے کی کان ثابت ہوں گے—تجزیہ نگاروں کے تجزیے بکتی خبروں میں بدلیں گے، اور کالم نگاروں کا دھندا—یعنی ان کی رائے کی مارکیٹ—نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔ مگر اس شور میں اصل سوال دب نہ جائے: عوام کو کیا ملے گا؟

یہاں چند محرکات قابلِ غور ہیں۔ اول، ملکی معیشت کی کسمپرسی ہر طاقت ور فریق کو کسی نہ کسی “سیاسی استحکام” کی طرف دھکیل رہی ہے۔ دوم، خارجہ محاذ پر شراکت دار ہمیشہ “قابلِ پیشگوئی” ماحول چاہتے ہیں جس میں پالیسیاں شخصیات سے بلند ہو کر ادارہ جاتی تسلسل اختیار کریں۔ سوم، عدالتی و قانونی پیچیدگیاں ایسی سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ ہر قدم کی ایک قیمت ہے—اور وہ قیمت صرف ایک فریق نہیں چکاتا۔ ان محرکات کے بیچ اگر قیدی نمبر 804 کو راستہ دینے کی بحث شدت پکڑتی ہے تو اسے اصول و مفاد کے بیچ توازن کی ایک نئی کوشش سمجھا جائے۔

تاہم خطرات کم نہیں۔ سب سے بڑا خطرہ بیانیہ کی “اوور مینجمنٹ” ہے۔ اگر رائے عامہ یہ محسوس کر لے کہ کالم نگار محض ترسیلِ پیغام کے مہرے ہیں تو تحریر کی ساکھ متاثر ہوگی، اور سچ کے گرد کھڑی کی گئی کوئی بھی عمارت کمزور بنیادوں پر کھڑی نظر آئے گی۔ دوسرا خطرہ یہ کہ مفاہمتی اشارے اگر عملی اقدامات سے نہ جڑیں تو توقعات اور حقائق کے بیچ خلیج پیدا ہوگی—جو پھر کسی بھی وقت سیاسی ارتعاش کو فکری بھونچال میں بدل سکتی ہے۔ تیسرا، اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی تمام طبقات ہم آواز نہیں ہوتے؛ داخلی اختلاف کسی بھی “نئے فارمولے” کو نیم پختہ چھوڑ سکتا ہے۔

قیدی نمبر 804 کی حکمتِ عملی بھی کم اہم نہیں۔ اگر وہ اپنی علامتی طاقت کو ادارہ جاتی ڈھانچے کے ساتھ کسی “نیو سوشل کنٹریکٹ” میں ڈھالنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو شاید سیاست ٹکراؤ سے مکالمے کی طرف لوٹ آئے۔ لیکن اگر وہ اپنی مقبولیت کو محض ماضی کے حساب چکانے کے لیے بروئے کار لائیں گے تو “وننگ نارٹیو” بھی نظامی تصادم سے تھک ہار کر ہنگامی بندوبست کے سپرد ہو سکتا ہے۔ یوں بیانیہ کی جیت، حکمرانی کی ہار میں بدل سکتی ہے—اور یہ وہ موڑ ہوگا جہاں سب جیت کر بھی ہار جائیں گے۔

کالم نگاروں کے لیے اس سارے منظرنامے میں اخلاقی سوال سب سے بڑا ہے: کیا قلم طاقت کی دربار داری کے لیے ہے یا عوامی مفاد کے نگہبان کے طور پر؟ صحیح مقام وہی ہے جہاں کالم نگار ریاستی اور سیاسی مفاد کے بیچ خطِ امتیاز کو روشن رکھے، خبر اور رائے کے فرق کو واضح رکھے، اور “رسائی” کی لذت کو “حقیقت” کی قیمت پر نہ بیچے۔ ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں سب سے پہلے وہی تحریریں پھینکی جاتی ہیں جو لمحاتی فائدے کے لیے ابدی اصول قربان کر دیتی ہیں۔

یہ مرحلہ گواہی مانگ رہا ہے: کیا ہم ایک ایسے سیاسی بیانیے کی طرف بڑھ رہے ہیں جو ادارہ جاتی احترام اور عوامی مینڈیٹ دونوں کو جگہ دے؟ یا پھر ایک بار پھر بیانیہ سازی کی مشق ہمیں وقتی سکون دے کر دیرپا بے سکونی کے سپرد کر دے گی؟ فیصلہ بہرحال بند کمروں میں نہیں، کھلے میدان میں ہوگا—جہاں قاری کا شعور، ووٹر کی مہر اور معیشت کی حقیقت، سب مل کر کسی بھی “لکھے گئے” اسکرپٹ کو “ہونے والے” انجام میں ڈھال دیتے ہیں۔

طاقت کے کھیل میں قیدی نمبر 804 اب محض ایک فرد نہیں بلکہ پورے نظام کے اعصاب پر سوار ایک سوال بن چکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے