کاش کہ ہم مسلمان ہوتے!

اسلام کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں واحد اسلام ہی وہ نظامِ زندگی ہے جو انسانیت کی خدمت کا کامل اور بے لوث تصور اپنے پیروکاروں کو دیتا ہے۔ قرآن و سنت سے پتہ چلتا ہے کہ دینِ اسلام نام ہی خیر خواہی اور بھلائی کا ہے۔ ایسی خیر خواہی و بھلائی جس کا دائرہ نباتات، حیوانات، چرند و پرند تک پھیلا ہوا ہے۔

مکہ میں اگر کوئی کافرہ مغنیہ (گانے والی عورت) معاشی تنگی کا شکار ہوتی ہے تو وہ اپنے افلاس کے خاتمے کے لیے مسلمانوں کے علاقے (مدینہ) کا رخ کرتی ہے۔ مکہ میں مسلمانوں کے جانی دشمنوں پر اگر قحط کی صورت میں آفت نازل ہوتی ہے تو مسلمانوں سے دشمنی کے باوجود ان کی نظریں مدد کے لیے انہی مسلمانوں پر پڑتی ہیں۔

مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے بعد بھی انہیں مسلمانوں ہی سے خیر خواہی کی توقع ہوتی ہے اور مسلمان اپنے جانی دشمنوں کی توقع کے عین مطابق ان کی مدد کرتے ہیں۔ عرب میں اگر سود کے ذریعے عوام کا معاشی استحصال کیا جاتا ہے تو مسلمانوں کے نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ براہِ راست وحی کے ذریعے ایسا منصفانہ معاشی نظام عطا فرماتے ہیں جس پر عمل پیرا ہونے کے نتیجے میں چند برسوں میں ہی علاقے سے غربت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مکہ میں جابر اور ظالم ابو الحکم اگر خود ساختہ طور پر لوگوں کی مرضی کے خلاف ان پر سردار مسلط ہے تو اسلام اس کی سرداری کے بت کو نیست و نابود کر کے اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظامِ حکومت (خلافت) قائم کرتا ہے۔

اسلام کے ظہور کے وقت یہودیوں اور عیسائی علماء نے اگر مذہب پر اجارہ داری قائم کی تھی تو ان کی اجارہ داری کو یہ کہہ کر رد کیا گیا کہ تم شارع یعنی قانون بنانے والے نہیں بلکہ شارح ہو اور شرح کے لیے بھی تمہیں واضح ہدایت دی گئی کہ اس دائرے سے باہر تمہیں دینی معاملات میں رائے دینے کی اجازت نہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر تمہاری کوئی رائے خدائی تعلیمات کے مطابق ہے تو درست ورنہ رد۔

اسلام کے ظہور کے وقت جہاں قبائل انتظامی اور سیاسی لحاظ سے منتشر تھے وہاں خدا کے پیغمبر ﷺ نے انہیں نسلیت، قومیت اور علاقیت کے تنگ دائروں سے نکال کر اصولوں کی بنیاد پر متحد کیا۔ اور ایسا متحد کیا کہ خدا نے انہیں اپنے کلام میں رُحَماءُ بَينَهُم کا مصداق قرار دیا۔ اسلام نے ابتدا ہی میں ان غلاموں کو آزاد کرایا جنہیں ظلم کی چکی میں پیسا جا رہا تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ غلامی کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے اپنی لازوال تعلیم بھی بطور تحفہ انسانوں کو عطا کی۔

عرب میں لوگ ذاتی دشمنیوں کی آگ میں جل رہے تھے، اسلام نے آ کر ان دشمنیوں کا ایسا حکیمانہ علاج کیا کہ وہ علاج آج بھی اسی طرح کارآمد ہے جیسے پندرہ صدیاں پہلے تھا، بلکہ اپنی حقانیت کی بنا پر تا ابد کارآمد رہے گا۔
ظہورِ اسلام کے وقت انسان علمی اور عقلی اعتبار سے اتنا احمق واقع ہوا تھا کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے پتھروں کے بت تراش کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا۔ اسلام نے انسان کو علم اور معقولیت سے نوازا، اسے کائنات کا امام قرار دیا اور خدا کے سوا کسی کے سامنے سجدہ کرنے سے یہ کہہ کر منع کیا کہ تمہاری شان بڑی بلند ہے۔ اس کائنات کے خیر و شر کو ربِ کائنات نے تمہارے ہی رویے سے جوڑا ہے۔ مگر ساتھ یہ بھی بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی اہمیت کا غلط مطلب متعین کرو، اس لیے انسان ہی رہو، خدا بننے کی کوشش کبھی نہ کرنا۔ کبھی اپنے آپ کو مختارِ کل نہ سمجھنا۔ کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ تم خدا کے بندوں کے لیے قانون ساز ہو اور حاکمِ مطلق کی طرح مخلوقِ خدا کے لیے قانون بنانا شروع کر دو، بلکہ تمہاری حیثیت صرف اتنی ہے کہ تم خدا ہی کے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے زمین پر بطورِ خلیفت اللہ اپنا کردار ادا کرو۔

یہ اسلام ہی تھا اور اس کی تعلیمات میں پروان چڑھنے والے رویوں ہی کا نتیجہ تھا کہ مدینہ میں جب مکہ کے مہاجر بے سروسامانی کی حالت میں آئے تو مدینہ کے ہر فرد نے آنے والے مہاجرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقاعدہ ایک منظم اور بے لوث فلاحی ادارے کا کردار ادا کیا۔

آج جن حالات سے سیلاب زدگان گزر رہے ہیں اور حکومت کو ان کی بحالی کے سلسلے میں جن مشکلات کا سامنا ہے، اگر یہاں حکومت نے اسلامی معاشرہ پروان چڑھایا ہوتا تو یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اگرچہ ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ہوتا، مگر اس کے بعد پیش آنے والے حالات کو انتظامی طور پر سنبھالنا بالکل مشکل نہ ہوتا۔ اگر مدینہ کے طرز پر معاشرہ بنانے میں عوام، علماء، اہلِ دانش، ادیب، شعراء اور خصوصاً حکمران اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرتے تو یہ چند اضلاع کے سیلاب متاثرین کو ہم بطورِ عام افراد چوبیس گھنٹوں کے اندر بحال کر سکتے تھے۔ یہ بات کسی مفروضے کی بنیاد پر نہیں کہی جا رہی بلکہ اس کے پیچھے ناقابلِ تردید تاریخی شواہد موجود ہیں، اور وہ تعلیمات آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہیں جن کی بنیاد پر مسلمانوں نے عملاً ایسا معاشرہ قائم کیا تھا.

آج اگر کسی کا دل چاہتا بھی ہے کہ وہ اپنے متاثرہ بھائی کی بحالی میں کردار ادا کرے، اسے اپنے گھر میں کمرہ دے، خوراک میں شریک کرے تو وہ عملاً ایسا نہیں کر پاتا کیونکہ اس قسم کا باہمی تعاون باہمی اعتماد کا متقاضی ہے، جسے مادہ پرستی نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ اس عدمِ اعتماد کی وجہ سے میزبان مہمان سے ڈرتا ہے اور مہمان میزبان سے۔ نتیجتاً باہمی تعاون کی فضا مسدود ہو چکی ہے۔ اس فساد کے باوجود اگر چند پاکیزہ نفوس کسی کی مدد کے لیے آمادہ ہوتے ہیں تو انہیں معاشرہ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کو اتنا بدنام کیا جاتا ہے کہ اپنی بے پناہ پاکیزگی اور بے لوث اخلاص کے باوجود لوگ ان کے قریب جانے سے ڈرتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس معاشرے میں ان تعلیمات کی پاسداری کی جاتی ہے وہاں بے امنی اور دہشت گردی کو پنپنے کا سرے سے موقع ہی نہیں ملتا۔ یہ تعلیمات انسان کو اتنا بالغ نظر بناتی ہیں کہ اسے کوئی اپنے مفاد کی خاطر مستقل استعمال نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تعلیمات انسان کے ذہن کو وسعت دیتی ہیں، اسے مفاد پرستی اور مادہ پرستی کے مرض میں مبتلا ہونے سے بچاتی ہیں۔

جس معاشرے میں اسلامی نظامِ زندگی کا تصور عام ہوتا ہے وہاں مقتدر ٹولہ زیادہ دیر تک اپنے ظالمانہ رویے قائم نہیں رکھ پاتا کیونکہ اسلامی تعلیمات انسان کو بیدار مغز، جرات مند، سلیقہ مند اور باحکمت بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات ہر تنگی سے نکلنے کے لیے اپنے ماننے والوں کو معقول راستہ بھی دکھاتی ہیں اور اس پر چلنے کے لیے سنجیدہ رویہ بھی سکھاتی ہیں۔

حضرات! یہی وہ اسلام ہے جس سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے، جس کی تعلیمات کے بارے میں معاشرے میں مختلف قسم کے منفی تاثرات پھیلائے جاتے ہیں اور ہم اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر ہم اسلام کے قریب ہوتے تو جن مسائل کو بنیاد بنا کر ہمیں اسلام سے متنفر کیا جا رہا ہے وہ مسائل سرے سے پیدا ہی نہ ہوتے اور اگر آتے بھی تو نہایت قلیل مدت میں ہم ان سے نجات پا سکتے تھے۔ آج بھی اگر ہم صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنا کر اپنے رویے تعمیر کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے مسائل کو نہایت قلیل مدت میں حل نہ کر سکیں۔

عملاً اسلامی معاشرے کے نہ ہونے کا شکوہ ہمیں حکمرانوں سے نہیں، کیونکہ ان کی پوزیشن ایسی ہے جو ان کے خلاف جدوجہد کو ہم پر لازم کرتی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں شکوہ ہے تو ان لوگوں سے جو ہم میں سے ہیں، جو حکمران نہیں ہیں، جو فوج کے اعلیٰ افسران بھی نہیں ہیں، جو خاندانی لحاظ سے کسی پارٹی کے مالک بھی نہیں ہیں، بلکہ ان مذہبی لوگوں سے ہے جنہوں نے اسلامی تعلیمات کو مدرسے، مسجد، تبلیغی مرکز اور خانقاہوں تک محدود کر دیا ہے۔ جنہوں نے انہی جگہوں کی وابستگی کو دین قرار دے دیا ہے۔ جنہوں نے خدا کے آفاقی دین کو اپنے مسلک تک محدود کر رکھا ہے۔ جن کے ذمے تھا کہ عوام کو دینِ حق کا درست اور کامل تصور سمجھائیں مگر انہوں نے خود اس تصور کو کسی نہ کسی وجہ سے مسخ کر ڈالا۔

شکوہ ہمیں اپنے ان بھائیوں سے ہے جو عصری علوم کے حامل ہیں، جن کی ذمہ داری تھی کہ اسلام کے خلاف اٹھنے والے غیر حقیقی نظریات کا تعاقب کرتے مگر افسوس کہ انہوں نے بھی باطل کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملا کر اسے تقویت پہنچائی۔ مسلمان اہلِ علم نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ کم از کم اتنا تو سمجھ لیتے کہ دنیا میں اگر کوئی نظامِ حق ہے تو وہ دینِ اسلام ہی ہے۔ اس طبقے نے مذہب کے خلاف اپنے رویے کے لیے دلیل مذہبی طبقے کے رویوں کو بنایا حالانکہ یہ لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ اگر یہ معمولی غور بھی کرتے تو ان سے اتنی واضح بات پوشیدہ نہ رہ سکتی تھی کہ اسلام مذہبی طبقے کے رویوں کا نام نہیں بلکہ خدا کے کلام اور نبی پاک ﷺ کی سنتوں کا نام ہے۔ اس لیے اگر اسلام پر کوئی آنچ آتی ہے تو بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس گرد کو جھاڑ دیں جو پروپیگنڈوں اور کسی مذہبی شخص کے نامناسب رویے کی وجہ سے دینِ حق کی تعلیمات پر آتی ہے۔ مگر عملاً ایسا نہ ہو سکا، بلکہ ہمارے اپنے ہی ہمارے خلاف صف آراء ہوئے۔ جس کی وجہ سے ہم نہ کامل مسلمان رہے اور نہ ہمارا معاشرہ اسلامی بن سکا تاکہ ہم اپنے مسائل کو اس کے ذریعے حل کر پاتے، اور عملاً ہم ان مسائل سے دوچار ہوئے جنہیں آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

کاش کہ ہم مسلمان ہوتے تو آج ہم رقص و سرور، شراب و کباب اور رباب کی محفلوں کے بجائے اپنوں ہی کے ہاتھوں خون میں لت پت اپنے بھائیوں کے لاشوں کا حساب لینے کے لیے میدانِ عمل میں ہوتے۔
کاش کہ ہم مسلمان ہوتے تو جنت کے حصول کے لیے خانقاہ میں بیٹھ کر اپنے پیر کے اللہ ھو کی آواز میں اپنی آواز ملانا کافی نہ سمجھتے، بلکہ ہم میدانِ عمل میں ظالم حکمرانوں کے خلاف برسرپیکار ہوتے۔
کاش کہ ہم مسلمان ہوتے تو آج بونیر، سوات اور باجوڑ کے ہمارے مسلمان بھائی ایسے کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار نہ ہوتے۔

کاش کہ ہمیں آج بھی یہ بات سمجھ آ جائے کہ ہمارے مسائل کا حل اسلام ہی میں ہے اور عملاً ہم مسلمان بننے کے لیے آمادہ ہو جائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے