کچھ ہفتوں سے پاکستان مون سون کی بے رحم بارشوں کے نیچے کراہ رہا ہے۔ یہ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کا کچھ بے جان ڈیٹا نہیں ہے۔ یہ دریا ہیں جو غصے میں پھٹے کناروں سے باہر بہہ رہے ہیں، گھروں کو بہا لے جا رہے ہیں۔ یہ پہاڑی ڈھلانیں ہیں جو اپنے بوجھ نہ سہار سکیں اور زوردار دھماکے سے لینڈ سلائیڈنگ میں بدل گئیں، پوری بستیاں اپنی لپیٹ میں لے لیں۔ یہ کسان ہیں جو اپنی پوری زندگی کی کمائی، اگتی ہوئی فصلیں، پل بھر میں سیلاب کی نذر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
675یہ صرف ایک عدد نہیں ہے۔ یہ 657 جانے ہیں جو ہم سے چھن گئیں۔ 657 گھر جن کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے۔ 373 اموات صرف خیبر پختونخواہ میں۔ ہر ایک عدد کے پیچھے ایک کہانی ہے، ایک خاندان ہے جو سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور یہ المناک گنتی جاری ہے، کیونکہ ابھی بھی کئی لاپتہ ہیں، سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں جان جوکھوں میں ڈال کر انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پنجاب میں 164، سندھ میں 28، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان کی پہاڑی وادیوں میں 32، آزاد کشمیر میں 15، اور خود دارالحکومت اسلام آباد میں بھی 8 جانوں کا نقصان ہوایہ سب ہمارے ہم وطن ہیں۔ اور خوفناک بات یہ ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی ہے کہ یہ شدید بارشیں 23 اگست تک جاری رہیں گی۔ مزید تباہی کا سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ کوئی "صرف ایک اور سیلاب” نہیں ہے۔ یہ ایک پیٹرن ہے، ایک ہولناک حقیقت کا اعادہ ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہیں۔ ہر سال یہ شدید ہوتی جاتی ہے۔ گرمیوں میں ہیٹ ویو ہمارے بوڑھوں، بچوں کو چن چن کر مارتی ہے۔ سردیوں میں سخت، بے رحم سردی غریب کی جان لےلیتی ہے۔ اور پھر مون سون آتا ہے، سیلاب لاتا ہے، اور ہماری بنیادیں ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ 2022 کا تباہ کن سیلاب ابھی ہماری یادوں سے محو بھی نہیں ہوا تھا کہ 2023 کے مون سون نے اپنی تباہی مچا دی ہے۔ ہم ابھی پچھلے زخموں پر مرہم رکھ ہی رہے تھے کہ نئے زخم لگ گئے۔ یہ پے در پے تباہی موسمیاتی تبدیلی کی رفتار ہماری بحالی کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔
موسم ہم سے غصے میں ہے، اور ہم نے اسے مزید مشتعل کیا ہے،گلوبل وارمنگ ہمارے مون سون کو ہوا دے رہی ہے، بادل پھٹ پڑتے ہیں۔ شمال میں ہمارے خوبصورت گلیشیئر، جو ہمارے پانی کا خزانہ ہیں، تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور یہ اضافی پانی پہلے ہی لبریز دریاؤں میں آ گرتا ہے۔ جو سیلاب کا باعث بنتا ہے۔دہائیوں کی نظراندازی کا نتیجہ ہے کہ ہمارا بنیادی ڈھانچہ تباہ حال ہے۔ نکاسی آب کا نظام؟ فرسودہ، اٹا ہوا، تھوڑی سی بارش پر بھی ڈوب جاتا ہے۔ ڈیم؟ ناکافی۔ سیلاب سے بچاؤ کے بند؟ کمزور، پانی کے دباؤ کے آگے بکھر جاتے ہیں۔ شہروں میں؟ ہم نے سیلابی راستوں پر، دریائی کناروں پر بستیاں بنا ڈالی ہیں۔ قدرت کا غصہ ٹھکانے لگنے کے لیے جگہ ہی نہیں چھوڑی، ہم نے اپنے محافظ درخت کاٹ ڈالے،شمالی پہاڑوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث بارش کا پانی جذب نہیں ہو پاتا، تیزی سے بہتا ہے، لینڈ سلائیڈنگ لاتا ہے، دریاؤں کو بھر دیتا ہے۔ خبردار کرنے والا کوئی نہیں، بچانے والا کوئی نہیں: ابتدائی انتباہی نظام؟ نامکمل خاص طور پر دور دراز پہاڑی علاقوں میں، خطرے کی گھنٹی بجتی ہے تو پانی سر پر آ چکا ہوتا ہے۔ انخلا؟ سست، غیر منظم۔
ہر گزرتے لمحے کی قیمت ہے،خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بچاؤ کارروائیاں تیز از تیز کرنا ہوگا۔ ہر بچی ہوئی جان ایک فتح ہے۔امدادی کاروئیوں کے بعدگندے پانی سے پھیلنے والی بیماریاں (ہیضہ، ٹائیفائیڈ وغیرہ) ایک اور قاتل ہیں۔ حتیاطی تدابیر فوری شروع کروائی جائیں۔موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا (کلائمیٹ ریزیلینس)بڑے، جدید ڈیمز (جیسے ڈیامر بھاشا) پر جلد از جلد تعمیراتی کام مکمل کرنا ہو گاجو سیلاب روکیں اور پانی ذخیرہ کریں، صرف خواب نہ رہیں۔ موجودہ نہریں، نکاسی کے نظام کی بحالی اور مضبوطی۔ شہروں کو "سپنج سٹی” بنائیں جو بارش کا پیا س جذب کر سکیں ہم نے شہری علاقوں کو اس حد تھ کنکریٹ سے بھر دیا ہے کہ زمین پانی جذب ہی نہیں کر پاتی ۔درخت لگائیں خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں، جنگلات واپس لائیں ،جدید ترین موسمیاتی ٹیکنالوجی لازمی ہے۔ خبر ہر گاؤں، ہر کچی آبادی تک فون، ریڈیو، مقامی گھنٹیوں سے پہنچنی چاہیے۔ باقاعدہ انخلا کی مشقیں کرائی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں ۔
جو گھر، سڑکیں، پل ٹوٹے ہیں، انہیں دوبارہ اسی کمزور طریقے سے نہ بنائیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالیں ،خطرے والے علاقوں میں دوبارہ تعمیر پر پابندی لگائیں اور اس پر سختی سےعمل درآمد بھی کروایا جائے ندی نالوں،دریاوں پر موجودتجاوزات کے خلاف آپریشن کیا جائے۔ چاہے شہر بسانا ہو، کھیتی باڑی کرنا ہو، یا بجلی بنانی ہو، ہر جگہ پوچھیں: "موسمیاتی تبدیلی اس پر کیا اثر ڈالے گی؟ ہم کیسے محفوظ رہیں گے۔ قوانین پرسختی سے عملدرآمدکروایا جائے جنگل کاٹنے ،دریائی راستوں پر بے جا تعمیرات جیسے جرائم پر سخت سزائیں دی جائیں ،مقامی حکام کو وسائل دیں، تربیت دیں، اختیار دیں کہ وہ فوری ردعمل دے سکیں۔
پاکستان دنیا کے کاربن اخراج میں 1% سے بھی کم حصہ ڈالتاہے۔ پھر ہم اس کی سب سے بڑی قیمت کیوں چکا رہے ہیں؟ امیر ممالک، خاص طور پر بڑے آلودگی پھیلانے والے، اپنا وعدہ پورا کریں۔ "موسمیاتی فنانس” – مطابقت (adaption) اور "نقصان و تباہی” (Loss & Damage) کے لیے فنڈز – پاکستان جیسے ممالک کو بروقت، کافی مقدار میں دیں ہر سال COPمیں فنڈز کا وعدہ کیا جاتا ہے مگر وہ فنڈز جاری نہیں کئے جاتے اگر مل بھی جائیں تو ناکافی ہوتے ہیں یہ ہم پر احسان نہیں،ہمارا حق ہے۔
یہ مون سون صرف ایک موسمی واقعہ نہیں۔ یہ پاکستان کے موسمیاتی المیے کا ایک اور دکھ بھرا باب ہے۔ ہرطرف لاشیں، ہر جانب بے گھر خاندان، ڈوبے ہوئے کھیت، تباہ کاروبار اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری موجودہ راہ ناکام ہو چکی ہے۔ فوری امداد ضروری ہے، لیکن ناکافی ہے۔ ہمیں ایک بنیادی تبدیلی چاہیے۔ ایک بیداری۔ ایک عزم۔ یہ تبدیلی ہمارے اپنے فیصلوں سے آئے گی اور بین الاقوامی تعاون کی پشت پناہی سے مضبوط ہوگی۔ یہی ہماری بقا کی واحد راہ ہے، ادھورے وعدوں، نامکمل منصوبوں، اور ٹال مٹول کا وقت گزر چکا۔ آج ہی وہ دن ہے جب ہمیں اپنے گھروں کو، اپنے شہروں کو، اپنے ملک کو، ایک گرم ہوتی، غضبناک ہوتی دنیا کے لیے نئے سرے سے تعمیر کرنا ہوگا۔ ہمارے دروازے پر دستک دینے والی اس نئی، سخت حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا، اور اس کے مطابق ڈھلنا ہوگا۔ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے یہی مطالبہ کریں گی۔