یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟
آپ جو کچھ کر رہی ہیں، کیا یہ مناسب ہے؟ آپ کون ہیں، کہاں سے ہیں، کس مذہب سے آپ کا تعلق ہے؟ کس ملک کی نمائندہ ہیں؟ کس عہدے اور رتبے پر فائز ہیں — بھلے وہ آپ نے دھونس دھڑکے سے ہی حاصل کیا ہو، لیکن کیا اس کا بھی کوئی لحاظ نہیں؟
جب آپ دوسرے ملکوں میں جاتی ہیں تو سب سے پہلے آپ اپنے مذہب کی نمائندہ ہیں، پھر اپنے ملک کی نمائندہ ہیں، اور پھر اس سیاسی جماعت کی نمائندہ ہیں جس سے آپ کا تعلق ہے۔ لیکن افسوس! آپ کسی ایک حیثیت کا بھی پاس نہیں رکھ رہیں۔
آپ جہاں بھی جا رہی ہیں، جس ملک میں بھی جا رہی ہیں — چاہے وہاں آپ کا کوئی کام ہو یا نہ ہو — آپ ہر مرد سے بلا تفریق مصافحہ کر رہی ہیں۔ صرف خود ہی نہیں، بلکہ اپنی صاحبزادی کو بھی آگے بڑھا کر ہاتھ ملوا رہی ہیں۔
آپ نے تو خود کہا تھا کہ آپ ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ ہمارے مذھب، معاشرے اور ہمارے ملک کی روایت یہ ہے کہ غیر محرم مرد اور عورت ہاتھ نہیں ملاتے؟ آپ کس راستے پر چل پڑی ہیں؟ آپ کس معاشرے، کس ملک اور کس مذہب کی نمائندگی کر رہی ہیں؟
کچھ تو عزت، احترام اور لحاظ رکھیں، کچھ تو ڈیسنسی دکھائیں۔
جب آپ خود کہتی ہیں کہ آپ کا تعلق ایک مذہبی خاندان سے ہے تو کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محرم اور غیر محرم کے بارے میں کیا اصول و ضوابط طے کیے ہیں؟ آئیے، میں آپ کو کچھ بنیادی باتیں یاد دلاتا ہوں۔
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آنے والی خواتین کا سورۂ تحریم کی آیت کے مطابق امتحان لیتے کہ وہ کہیں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور مقصد سے تو ہجرت کرکے نہیں آئیں۔ جب وہ امتحان پر پوری اترتیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ میں نے تمہیں زبانی بیعت کر لی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قسم کھا کر بیان فرماتی ہیں: بخدا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں بھی کبھی کسی خاتون کا ہاتھ نہیں چھوا۔
اللہ تعالیٰ نے خود سورۂ ممتحنہ میں آپ ﷺ کو خواتین سے بیعت لینے کا حکم دیا، حالانکہ عرب میں بیعت کا مطلب یہی تھا کہ کسی بڑے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وفاداری کا عہد کیا جائے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی بیعتِ رضوان کا ذکر سورۃ الفتح میں موجود ہے۔ اس کے باوجود خواتین سے بیعت کرتے وقت آپ ﷺ نے صرف زبانی بیعت پر اکتفا کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قسم کھا کر کہنا کہ رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک نے کبھی بھی کسی غیر محرم عورت کا ہاتھ نہیں چھوا کیا صرف ایک ذاتی عادت بیان کرنے کے لیے تھا؟ ہرگز نہیں۔
سنن ابی داؤد: 2153، صحیح مسلم: 2657، مسند احمد: 8526 و 10920 میں غیر محرم سے ہاتھ ملانے پر سخت ترین طریقے سے منع فرمایا گیا ھے اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا ھے۔
لہٰذا غیر محرم سے مصافحہ کرنا واضح طور پر ناجائز اور گناہ ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی اس سے اجتناب فرمایا۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ جب بھی آپ غیر ملکی دورے پر جائیں یا پاکستان میں کہیں سرکاری حیثیت میں جائیں تو اپنے مذہب، اپنے ملک اور اپنے معاشرے کی درست تصویر پیش کریں۔
ہمارے ملک کی اکثریت خواتین غیر محرم مردوں سے ہاتھ نہیں ملاتیں اور مذہب کے احکام پر کاربند رہتی ہیں۔ براہ کرم آپ بھی اس کا لحاظ کریں۔
یقین جانیے، اگر آپ غیر ملکی دوروں میں یا اندرونِ ملک نامحرم مردوں سے ہاتھ نہیں ملائیں گی تو نہ تو آپ کا دورہ ناکام ہوگا اور نہ ہی آپ کے مقاصد پر کوئی حرف آئے گا۔ بلکہ اس سے آپ کی عزت، اہمیت اور وقار مزید بڑھے گا، کیونکہ دنیا اُن لوگوں کو زیادہ عزت دیتی ہے جو اپنے مذہب، اپنے معاشرے اور اپنی روایات پر ڈٹ کر قائم رہتے ہیں۔