فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف آرمی اسٹاف حالیہ دنوں میں سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود تھے، جہاں انہوں نے اعلیٰ سطح کی عسکری اور سیاسی قیادت سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
دورے کے دوران آرمی چیف نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سبکدوش ہونے والے کمانڈر جنرل مائیکل ای کرلا کی ریٹائرمنٹ تقریب اور نئے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کی چارج سنبھالنے کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے جنرل کرلا کی شاندار قیادت اور دوطرفہ عسکری تعاون کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہا، جبکہ ایڈمرل کوپر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
آرمی چیف نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی پیشہ ورانہ امور پر تبادلۂ خیال ہوا اور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر دوست ممالک کے ڈیفنس چیفس سے بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے ان پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل پر اعتماد رکھیں اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ پاکستانی نژاد امریکیوں نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
اسی نشست کے دوران آرمی چیف نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کبھی پاکستان کو اپنے وجود کے لیے سنگین خطرہ محسوس ہوا تو ردعمل ایسا ہوگا جس کے اثرات آدھی دنیا تک محسوس کیے جائیں گے، کیونکہ جب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ جاتی ہیں تو جنگ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ کے پانی کو روکنے یا اس پر ڈیم بنانے کی کوشش کی تو پاکستان اپنے دفاع میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
پاکستانی آرمی چیف کے ان بیانات پر بھارت میں شدید ہلچل مچ گئی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے ان الفاظ کو "ایٹمی دھمکی” اور "غیر ذمہ دارانہ طرز عمل” قرار دیا، اور یہ شکایت کی کہ یہ بات ایک تیسرے ملک (امریکہ) کی سرزمین سے کی گئی ہے۔ بھارت نے روایتی انداز میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ کسی "ایٹمی بلیک میلنگ” میں نہیں آئے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عزم سے ہمیشہ خوف لاحق رہتا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیانات پر ردعمل میں پاکستان نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارتی رویہ حقائق کو مسخ کرنے اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی ایک اور مثال ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت کا مبینہ "ایٹمی بلیک میل” کا بیانیہ سراسر گمراہ کن اور خود ساختہ ہے۔ پاکستان ہمیشہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کے خلاف رہا ہے، مگر جب بھی بھارت کا جنگی جنون اور اشتعال انگیزی سامنے آتی ہے تو وہ بلاجواز الزامات کا سہارا لیتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، جس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مکمل سویلین نگرانی میں ہے اور ہم نے ہمیشہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے، جبکہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے بے بنیاد الزامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ کسی ثبوت سے عاری ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے تیسرے ممالک کا حوالہ دینا اس کے سفارتی اعتماد کی کمی اور غیر ضروری طور پر دوسروں کو معاملے میں گھسیٹنے کی ناکام کوشش ہے۔
بھارت کے جنگی رویے کے برعکس، پاکستان اقوامِ عالم کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور رہے گا، تاہم اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت یا پاکستان کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی تو فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا، اور کسی بھی کشیدگی کی ذمہ داری پوری طرح بھارتی قیادت پر عائد ہوگی۔ یہی بات جو وزارت خارجہ نے اپنے بیان کے آخر پہ کہی، فیلڈ مارشل نے بھی کہی لیکن بھارت نے اس کا خوف اور دبدبہ اپنے اوپر طاری کر لیا۔
قارئین! حالیہ دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تین ماہ میں دوسرا سرکاری دورۂ امریکہ تھا، جو دونوں ممالک کے بڑھتے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ ماضی کی دو دہائیوں میں امریکی خارجہ پالیسی میں بھارت کو جنوبی ایشیا میں ”چوہدری“ سمجھنے کا پسِ منظر غالب رہا، مگر حالیہ ”آپریشن بنیان مرصوص“ (معرکہِ حق) نے بین الاقوامی طاقتوں اور خطے کی تمام اہم قوتوں کے سامنے حقیقت آشکار کر دی۔ کہ اصل خطے کی اصل طاقت اور اثر و رسوخ پاکستان کے پاس ہے، بھارت کے پاس نہیں۔ اس عالمی تناظر نے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت پر نہ صرف اعتماد کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی متوجہ کر دی ہے۔
پاکستان نے عالمی دفاعی مارکیٹ میں بھی اپنا اثر بڑھا دیا ہے۔ جیسا کہ JF-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کا آذربائیجان کو ہزاروں ڈالر کا معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی دفاعی ٹیکنالوجی عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھی جا رہی ہے۔ اس دفاعی پیشرفت کو پاکستان ترکی، چین، عرب دنیا اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے مزید استوار کیا جا رہا ہے، یقیناً دفاعی تعاون اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے پاکستان کا بین الاقوامی ساکھ مستحکم ہو رہا ہے۔
جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عالمی منڈیوں میں رسائی مل رہی ہے، اور ملک میں سرمایہ کاری و کاروباری مواقع بڑھ رہے ہیں، یہ وقت ہے کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے دیرپا پالیسیاں تیار کرے۔ جنہیں انویسٹمنٹ فرینڈلی، مستحکم اور طویل المدتی کہا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹریٹجک پالیسی کے تحت 25% محصولات بھارت پر عائد کئے، جو بعد میں بڑھا کر مجموعی طور پر 50% تک پہنچ گئے۔ اس کے برعکس، پاکستان پر یہ شرح صرف 19% مقرر کی گئی، جو بھارت کے مقابلے میں نہایت کم اور پاکستان کے لیے ایک مسابقتی فائدہ ہے۔
دنیا کے تیزی سے بدلتے جغرافیائی منظرنامے میں پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ امریکہ صرف عسکری تعلقات کو مضبوط بنانے کا عمل نہیں بلکہ اس کے اندر ایک گہرا سفارتی پیغام بھی پوشیدہ ہے کہ پاکستان اب محض خطے میں توازنِ طاقت کا محافظ نہیں بلکہ عالمی فیصلہ سازی کے عمل میں ایک اہم شراکت دار بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارت کی بے چینی اور اس کے ردعمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد کے ہر مضبوط قدم پر دہلی کو اپنی خطے میں برتری کے خواب چکناچور ہوتے نظر آتے ہیں۔
آج پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ وہ اپنی عسکری قوت کو کیسے برقرار رکھے، بلکہ یہ ہے کہ اس قوت کو سیاسی بصیرت، معاشی حکمتِ عملی اور سفارتی مہارت کے ساتھ کس طرح مربوط کیا جائے تاکہ دفاعی کامیابیاں معیشت اور ترقی میں بھی جھلکیں۔
دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری، غیر روایتی اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری، اور عالمی منڈیوں میں فعال موجودگی وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو اگلی دہائی میں ایک مضبوط اور بااعتماد ملک کے طور پر ابھار سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سلامتی کا دفاع سرحدوں پر کھڑے جوان کرتے ہیں، لیکن اس کی پائیداری پارلیمنٹ کے ایوانوں، بزنس مارکیٹوں، ٹیکنالوجی لیبز اور تعلیمی اداروں میں طے ہوتی ہے۔ اس وقت ہمیں ایک ایسی قومی پالیسی کی ضرورت ہے جو عسکری ڈپلومیسی، معاشی اصلاحات، اور سماجی ترقی کو ایک ہی فریم ورک میں لائے۔ اسی میں ہماری بقا اور وقار کا راز پوشیدہ ہے۔