پاکستانی میڈیا اور صنفی نمائندگی: ایک پیچیدہ دھارا

پاکستانی میڈیا میں خواتین کی نمائندگی کا معاملہ ایک ایسا کثیرالجہتی موضوع ہے جو ہمارے معاشرے کی رگ تک جاتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں، پاکستانی میڈیا کے منظر نامے میں خواتین کی موجودگی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ خصوصاً خبروں کے اداروں میں، خواتین صحافی اور میزبان نہ صرف موجود ہیں بلکہ اہم عہدوں پر فائز ہیں، جو مشکل ترین سیاسی اور سماجی مسائل پر کھل کر رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی پسماندہ علاقوں میں بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کا ایک ذریعہ بنی ہے۔ میڈیا کے ذریعے چلنے والے پروگراموں، خصوصاً گفتگو کے پروگراموں نے خواتین کے مسائل جیسے کہ وراثت کے حقوق، تعلیم اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے، جس سے معاشرے کے مختلف طبقوں میں اس حوالے سے حساسیت پیدا ہوئی ہے۔

اس مثبت پیش رفت کے باوجود، تفریحی میڈیا بالخصوص ٹی وی ڈراموں اور اشتہارات میں خواتین کی نمائندگی اب بھی گہرے صنفی تعصب اور دقیانوسی تصورات سے دوچار ہے۔ ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کو اکثر ایسی جذباتی، محتاج اور مظلوم شخصیات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جن کی زندگی کا مرکز و محور صرف رومانوی تعلقات، شادی بیاہ کے جھگڑے اور خاندانی سازشیں ہوتی ہیں۔ ان کی فکری صلاحیتیں، پیشہ ورانہ عزائم، اور معاشی خودمختاری کو اکثر یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ مسلسل بیان اس غلط فہمی کو ہوا دیتا ہے کہ عورت کی شخصیت کا محور گھریلو دائرہ ہی ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار مردوں کی توثیق پر ہے۔

اشتہاری صنعت میں تو خواتین کی نمائندگی کا معیار اور بھی مشکل ہے۔ عورت کے جسم کو ایک شے کے طور پر پیش کر کے اسے مصنوعات کی فروخت کے لیے ایک آلہ کار بنا دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف عورت کی انفرادیت اور اس کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں یہ پیغام دیتا ہے کہ عورت کی اصل اہمیت اس کے جسمانی حسن میں پنہاں ہے، نہ کہ اس کی فکری یا اخلاقی صلاحیتوں میں۔ اس طرح کی نمائندگی نہ صرف سماجی برائیوں کو ہوا دیتی ہے بلکہ نوجوان نسل کے ذہنوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

ٹی وی ڈراموں کے پلاٹ میں بھی ایک نمایاں مسئلہ یہ ہے کہ خواتین کے حقیقی مسائل کو اکثر محض ڈرامائی اثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہیز، غیرت کے نام پر قتل، اور گھریلو تشدد جیسے سنگین معاملات کو کئی بار ایسے سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ ان کی اخلاقی سنگینی ماند پڑ جاتی ہے اور وہ صرف ایک تماشے کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام میں ان مسائل کے حوالے سے حقیقی حساسیت اور فکری وابستگی پیدا نہیں ہو پاتی۔

اس کے برعکس، کچھ روشن مستثنیات بھی موجود ہیں۔ کچھ عرصے سے ہمارے ڈراموں میں کچھ ایسے کردار بھی متعارف ہوئے ہیں جو مضبوط، خود مختار اور فیصلہ ساز خواتین کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ کردار نہ صرف اپنے کیریئر میں کامیاب ہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی کے فیصلوں میں بھی خود مختار ہیں۔ ایسے مثبت عکاسیاں نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نئی نسل کے لیے بھی inspirational ثابت ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

میڈیا کے مواد کو ضابطے میں رکھنے والے اداروں، خصوصاً پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا کردار اس سارے منظر نامے میں انتہائی اہم ہے۔ ان اداروں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ان اشتہارات اور ڈراموں پر پابندی عائد کریں جو خواتین کی توہین کرتے ہیں یا انہیں غلط طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم، صرف پابندی لگانا ہی کافی نہیں ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ میڈیا ہاؤسز کے لیے واضح رہنما اصول جاری کریں جو خواتین کی مثبت اور بااختیار نمائندگی کو فروغ دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، میڈیا پر عورت کے مثبت کردار کو اجاگر کرنے والے پروگراموں کو مراعات بھی دیے جا سکتے ہیں۔

تعلیم اور آگاہی کا کردار بھی اس سلسلے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ میڈیا کے پیشہ ور افراد، خصوصاً منظر نویس، ہدایت کار، اور پروڈیوسر کو صنفی حساسیت کے حوالے سے تربیت دیا جانا چاہیے۔ انہیں یہ سکھایا جانا چاہیے کہ وہ خواتین کے کرداروں کو کیسے تخلیق کریں جو محض فرسودہ تصورات نہ ہوں بلکہ حقیقی زندگی کی عکاسی کرتے ہوں۔ اس کے علاوہ، خواتین کو میڈیا کے انتظامی اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر بھرپور طور پر شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے نقطہ نظر کو مواد کی تشکیل میں براہ راست نمائندگی مل سکے۔

نچلی سطح پر تبدیلی لانے کے لیے، عوامی شعور بیدار کرنے کے پروگراموں کو بھی فروغ دینا ہوگا۔ سول سوسائٹی کے اداروں اور میڈیا کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایسی دستاویزی فلمیں اور رپورٹس تیار کرنی ہوں گی جو خواتین کی حقیقی کامیابیوں، ان کے مسائل اور ان کے حل کو مرکزی دھارے کے میڈیا تک پہنچائیں۔ اس سے نہ صرف عوام میں آگاہی بڑھے گی بلکہ میڈیا کے لیے بھی مثالیں قائم ہوں گی۔

پاکستانی میڈیا ایک منتقلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف تو خواتین کی نمائندگی میں بہتری کے واضح آثار ہیں، تو دوسری طرف دقیانوسی تصورات اب بھی موجود ہیں۔ اس صورتحال میں، میڈیا کے ذمہ داران، ریگولیٹرز، اور عوام، تینوں کا کردار اہم ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ صرف ریٹنگ کے بجائے سماجی ذمہ داری کو ترجیح دے۔ ایسا مواد تخلیق کرے جو خواتین کو ان کے حقیقی روپ میں پیش کرے، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔

اب حل کی طرف بڑھتے ہوئے، ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں میڈیا کی خود تنظیمی، ریگولیٹری اداروں کی فعال نگرانی، عوامی شعور کی بیداری، اور میڈیا پیشہ ور افراد کی تربیت سب شامل ہوں۔ صرف اس طرح پاکستانی میڈیا خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اپنا حقیقی فرض ادا کر سکے گا اور معاشرے میں ایک مثبت اور متوازن نمونہ پیش کر سکے گا۔ یہ تبدیلی نہ صرف خواتین بلکہ پورے معاشرے کے مفاد میں ہوگی، جس سے ایک زیادہ روشن خیال، متنوع اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے